Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ ماجدہ جگر گوشۂ رسولﷺ سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا

  ابو شاہین

سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ ماجدہ

جگر گوشۂ رسولﷺ سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا 

اللہ تعالیٰ نے خاتون جنت کو جن فضائل و مناقب سے نوازا تھا اس کی مثال نہیں ملتی۔ صداقت و راست گوئی میں سیدہ فاطمہؓ کا جواب نہیں تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: میں نے امت محمدیہ میں سیدہ فاطمہؓ سے بڑھ کر کسی کو راست گو نہیں دیکھا۔ سیدہ صدیقہؓ انھیں ایک اور جگہ اس طرح خراج تحسین پیش کرتی ہیں:

’’میں نے نشست و برخاست، عادات و خصائل، طرز گفتگو اور انداز کلام میں رسول اللہﷺ کے مشابہ فاطمہؓ سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ زندگی کے تمام معاملات میں آپﷺ کی اتباع اور پیروی کرتی تھیں۔ جب سیدہ فاطمہؓ آپﷺ کے پاس آتیں تو آپﷺ وفور محبت میں کھڑے ہو جاتے اور اپنی بیٹی کو بوسہ دیتے۔‘‘

قارئین کرام! ذرا غور فرمائیں، کہ اس گھرانے میں کس قدر پیار و محبت ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہؓ ان کی سوتیلی ماں تھیں مگر کس طرح وہ سیدہ فاطمہؓ کی تعریف اور فضائل بیان کر رہی ہیں۔ میں کئی مرتبہ سوچتا ہوں کہ لوگ نہ جانے کس قسم کی باتیں بناتے رہتے ہیں۔ خاندان نبوت کی ان خواتین کے درمیان تو بےمثال پیار تھا۔ اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

کیا قرون اولیٰ کے لوگ یہ سب فرمان رسولﷺ بھول گئے تھے اور آپﷺ کے جانے کے بعد امت کے سب سے بہترین آدمی نے آپﷺ کا حق مارنا شروع کر دیا تھا؟ کس طرح کی بے سروپا باتیں امت میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ ایسے بہتان ہیں جن کو عقل سلیم تسلیم نہیں کر سکتی اور وہ بھی کسی دلیل کے بغیر صرف مریض عقلوں نے جن کو بیان کیا ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ اُمت مسلمہ کو ان خرافات سے دُور رکھے اور ہمارے عمل کو ضائع کرنے سے بچائے رکھے۔

سیدہ فاطمۃؓ کی فضیلت کا مسئلہ اہل سنت و الجماعت کی کتابوں، خطباء اور واعظین تقاریر میں بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ان کے فضائل اَفْضَلُ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ہونے میں کسی صحیح العقیدہ شخص کو کوئی شک نہیں۔ اللہ کے رسولﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی۔ سیدہ عائشہؓ سے ایک تابعی بزرگ نے پوچھا! اللہ کے رسولﷺ سب سے زیادہ کسے محبوب رکھتے تھے؟ ام المؤمنینؓ نے جواب دیا عورتوں میں فاطمہؓ کو اور مردوں میں ان کے شوہر کو۔

سیدہ فاطمۃؓ کی وفات اللہ کے رسولﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے چھ ماہ بعد ہوئی۔ سیدہ فاطمہؓ پردے کی نہایت سخت پابند تھیں۔ انہیں اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جب ان کا جنازہ اٹھایا جائے گا تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ جنازہ عورت کا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اپنی جیٹھانی سیدہ اسماء بنت عمیسؓ سے کیا۔ سیدہ اسماءؓ سیدنا علیؓ کے بھائی سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کی اہلیہ تھیں، ان دونوں کے درمیان گہری محبت تھی۔ چنانچہ انہوں نے بتایا میں نے حبشہ میں عورتوں کے جنازے دیکھے ہیں۔ وہاں جنازے پر کھجور کی شاخیں تان کر اوپر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح ڈولی کی شکل بن جاتی ہے اور مکمل پردہ ہو جاتا ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کو یہ طریقہ اچھا لگا۔ انہوں نے اسی وقت کھجور کی چند شاخیں منگوائیں، ان پر کپڑا تانا جس سے پردے کی صورت پیدا ہو گئی۔ عملی تجربے کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے وصیت کی کہ میرا جنازہ رات کو نکلے اور اس پر اسی طرح پردہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا میری وفات کے بعد مجھے سیدہ اسماء بنت عمیسؓ اور میرے شوہر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ غسل دیں۔ ان کی وفات رمضان 11 ہجری میں ہوئی۔ ان کی وصیت کے مطابق سیدہ اسماء بنت عمیس، سیدنا علی اور سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہم نے ان کے جسد خاکی کو غسل دیا اور انہیں بقیع الغرقد میں دفنایا گیا۔