تیس (30) جید علماء کرام کا فتویٰ
شیعہ اثناء عشریہ مسلمان ہیں یا کافر؟ اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے یا اپنے جنازہ میں ان کو شریک کرنے کا حکم:
میرے محترم قارئین کرام! آج سے ساٹھ سال قبل پاک و ہند کے تیس جید علماءِ کرام بشمول شیخ العرب و العجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ اور مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کا شیعوں کے بارے میں کفر کا فتویٰ، جس کی حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ نے بھی تصدیق فرمائی۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں؟ ہمارے ملک میں جو فرقہ شیعہ اثناءِ عشریہ ہے یہ مسلمان ہے یا کافر؟ اور ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا یا اپنے جنازہ میں ان کو شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر شیعہ تعمیرِ مسجد کے لیے چندہ دینا چاہیں تو وصول کیا جائے یا نہیں؟
جواب 1: شیعہ اثناءِ عشریہ رافضیہ قطعاً خارج از اسلام ہیں، ہمارے علمائے سابقین کو چونکہ ان کے مذہب کی حقیقت: کما ینبغی: معلوم نہیں تھی بوجہ اس کے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے تھے اور کتابیں بھی ان کی نایاب تھیں لہٰذا بعض محققین نے بناء بر احتیاط ان کی تکفیر نہیں کی تھی، مگر آج ان کی کتابیں نایاب نہیں رہیں اور ان کے مذہب کی حقیقت منکشف ہو گئی، اس لیے تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو گئے ہیں
ضروریاتِ دین کا انکار قطعاً کفر ہے اور قرآنِ شریف ضروریاتِ دین میں سے سب سے اعلیٰ و ارفع چیز ہے اور شیعہ بلا اختلاف ان کے متقدمین اور متاخرین سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور ان کی کتابوں میں دو ہزار سے زائد روایات تحریف قرآن کی موجود ہیں، جن میں پانچ قسم کی تحریف بیان کی گئی ہے۔
1: کمی
2: بیشی
3: تبدل الفاظ
4: تبدل حروف
5: خرابی ترتیب
خرابی ترتیب سورتوں، آیتوں اور کلمات میں بھی پھر ان پانچ قسم کی روایات کے ساتھ ان کے علماء کا اقرار ہے کہ یہ روایات متواتر ہیں اور تحریفِ قرآن پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں اور انہی کے مطابق اعتقاد قائم ہے۔
بانیانِ شیعہ مذہب نے جب سے اس مذہب کی بنیاد ڈالی ہے اب تک ان پر تین دور گزرے ہیں دور اول میں شیعہ کا کوئی متنفس بھی عدمِ تحریفِ اور کاملیتِ قرآن کا قائل نہیں تھا، البتہ دور ثانی میں گنتی کے چار آدمی از روئے تقیہ عدمِ تحریفِ قرآن کے قائل ہوئے ہیں۔
اول: ابو جعفر، ثانی محمد بن علی بن حسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی علامہ صدوق متوفی 381ھ۔
دوم: شریف مرتضیٰ ابو القاسم علی بن حسین بن موسیٰ بغدادی علم الہدیٰ متوفی 436ھ۔
سوم: شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسین بن علی بن طوسی مفسر متوفی 460ھ۔
چہارم: ابو علی طبرسی امین الدین فضل بن حسین بن فضل مشہدی مصنف تفسیر مجمع البیان متوفی 548ھ۔
یعنی دورِ ثانی 381ھ سے لے کر 548ھ تک صرف چار آدمی عدمِ تحریف کے قائل ہیں چونکہ ان کے اقوال محض بے دلیل اور روایات متواترہ کے خلاف ہیں اس لیے دورِ ثانی کے شیعی علماء نے خود ان کو رد کر دیا ہے۔
علامہ بحر العلوم فرنگی محلی پہلے شیعوں کے مسلمان ہونے کا فتویٰ دیتے تھے مگر تفسیر مجمع البیان کے دیکھنے سے انہیں معلوم ہوا کہ شیعہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں لہٰذا انہوں نے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں شیعوں کے کفر کا فتویٰ دیا اور لکھا کہ قرآنِ شریف کی تحریف کا جو قائل ہے، وہ قطعاً کافر ہے۔
المختصر: یہ کہ شیعوں کا کفر بر بنائے عقیدہ تحریفِ قرآن ہی محل تردد نہیں بلکہ علاوہ اس کے دوسرے، وجوہِ کفر بھی ہیں، مثلاً عقیدہ بداء وقذف ام المؤمنینؓ وغیرہ وغیرہ۔
لہٰذا شیعوں سے مناکحت نا جائز ہے اور ان کا ذبیحہ حرام اور ان کا چندہ ناجائز ہے اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازوں میں شریک کرنا قطعاً نا جائز ہے سنی جنازہ میں یہ لوگ میت کے لیے بددعا کرتے ہیں۔
(کتبہ: محمد عبد الشکور فاروقی عافاہ مولاہ از مدرسہ دارالمبلغین لکھنؤ ہند )
2:شیعوں کا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہونا، حضرت عائشہ صدیقہؓ پر قذف و تہمت کرنا کفر کرتا ہے علامہ ابنِ عابدین لکھتے ہیں: لاشك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديقؓ علامہ موصوف نے دوسرے مقام پر اسی کتاب میں شیعوں کو مرتد واجب القتل لکھا ہے: خانہ مرتد يقتل۔
جو کلام اللہ کی تحریف کا قائل ہو وہ مرتد اور کافر ہے، اہلِ کتاب بھی نہیں ان سے مناکحت اور تعلقات رکھنا اشد حرام ہیں حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِى الۡاَذَلِّيۡنَ ۞
(سورۃ المجادلہ: آیت 20)
لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ الخ۔
ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں وہ بہت زیادہ ذلیل و خوار ہیں۔ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے والوں سے آپ کسی ایک شخص کو بھی نہیں پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرے جو اللہ اور رسول کے دشمن ہوں اگرچہ وہ باپ، بیٹے، بھائی اور اہلِ کنبہ کیوں نہ ہوں۔
لہٰذا شادی غمی اور جنازہ میں شرکت نہ کی جائے، ایسے عقیدہ کے شیعہ کافر ہی نہیں بلکہ اکفر ہیں۔
(ریاض الدین عفی عنہ: مفتی دارالعلوم دیوبند 19 صفر 1348ھ)
3: مقاصدِ مذکورہ فی السوال کے روافض صرف مرتد اور کافر خارج از اسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجہ کے ہیں کہ دوسرے فرقے کم نکلیں گے مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے تمام مراسمِ اسلامیہ ترک کرنا ہوں گے چاہیے بالخصوص مناکحت، کیونکہ اس میں خود یا دوسروں کو زنا اور فواحش میں مبتلا کرنا ہے: اعاذنا اللہ و سائرنا عن جميع المعاصی۔
(بندہ محمد مرتضیٰ حسن ناظم شعبہ تعلیمات دارالعلوم دیوبند)
4:فرق الروافض كثيرة عقائدهم شتى وظنون باطلة فمنها ما يوجب تكفيرهم (کشيعة اثناء عشرية) وعدم الصحة المناكحة معهم بل عدم جواز جميع المراسم الاسلامية خذلهم الله تعالى: شیعہ روافض کے متعدد فرقے ہیں۔ اور ان کے مختلف عقائد اور ظنونِ باطل ہیں بعضوں کی تکفیر واجب ہے، جیسے شیعہ اثناءِ عشریہ ہیں، اس لیے ان سے مناکحت ناجائز بلکہ جمیع مراسم اسلامیہ کا ترک کرنا ضروری ہے۔
(محمد اعزاز علی مدرس ادب و فقہ دارالعلوم دیوبند)
5: الجواب صحيح: حمید حسن، مدرس دارالعلوم دیوبند
6: الجواب صحيح: مسعود احمد، مدرس دارالعلوم دیوبند
7: الجواب صحيح: بندہ محمد شفیع، مدرس دارالعلوم دیوبند
8: الجواب صحيح: محمد رسول خان، مدرس دارالعلوم دیوبند
9:الجواب صحيح: محمد یامین، مدرس دارالعلوم دیوبند
10:الجواب صحيح: عبد السمیع، مدرس دارالعلوم دیوبند
11:الجواب صحيح: نبیہ حسن، مدرس دارالعلوم دیوبند
12: الجواب صحيح: اصغر علی، مدرس دارالعلوم دیوبند
13: الجواب صحيح: محمد عبد الوحید، مدرس دارالعلوم دیوبند
14: الجواب صحيح: سید اصغر حسین، مدرس دارالعلوم دیوبند
15: الجواب صحيح: محمد ابراہیم، مدرس دارالعلوم دیوبند
16:الجواب صحيح: سید محمد انور، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
17: الجواب صحيح: نائب مہتمم، دارالعلوم دیوبند
18: ذالك كذلك:خلیل احمد محدث انبیٹھوی، از سہارنپور
19: جن لوگوں کے مذکورہ بالا اعتقادات ہیں وہ یقیناً کافر اور خارج از اسلام ہیں۔
(ننگ اکابر حسین احمد مدنی صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند)
20:الجواب صحيح: تحریفِ قرآن کا عقیدہ کفر ہے اس لیے اثناءِ عشریہ کافر ہیں۔
(مہدی حسن شاہ جہان پوری)
21: شیعہ اثناءِ عشریہ کافر اور مرتد ہیں، کیونکہ تحریف قرآن کے قائل ہیں۔
(مفتی عبد العزیز خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ: مصنف: نبراس الساری)
22: شیعوں میں جن کا عقیدہ تحریفِ قرآن کا ہے وہ واقعی کافر ہیں۔
(عبد الرحمٰن)
23: یقیناً شیعہ اثناءِ عشریہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک تحریف کی روایات متواتر ہیں، اس لیے یہ کافر ہیں۔
(انوار الحق: صدر مدرس مدرسہ عالیہ چلہ امروھہ)
24:قد اصاب من اجاب
(ابو الطیب محمد منظور نعمانی از مدرسہ چلہ امروہہ)
25: بلاشبہ تحریفِ قرآن کا قائل کافر ہے۔
(شبیر احمد عثمانی: شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند و جامعہ اسلامیہ ڈابھیل)
26: مجیب اول کی تحقیق کی بناء پر بلاشبہ ہر وہ فرقہ اور ہر ایک وہ شخص کافر ہے جس کا عقیدہ تحریفِ قرآن کا ہے هذا هو الحق والحق احق ان يتبع فماذا بعد الحق الا الضلال۔
(ابو الطاہر ظہور احمد بہاری مدرس و مفتی فرقانیہ لکھنؤ)
27: میں نے حضرت مجیب علامہ مولانا عبد الشکور کی کتاب: تنبیہ المحائرین اور اول مسن والماتین: وغیرہ کا مطالعہ مکرر سہ بار کیا ہے، جس سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ شیعہ تحریفِ قرآن کا قائل ہے اور تحریف کا جو قائل ہے بالاجماع کافر ہے۔
(محمد اسباط: مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ)
28: اصاب اصحاب المجيب العلام فان مدعى تحريف القرآن الكريم لا شائبة فی اکفارہ۔
(مولانا محمد چراغ المدارس انوار العلوم گوجرانوالہ)
29: شیعہ اپنے عقائد کی بناء پر خارج از اسلام اور کافر ہیں لہٰذا ان سے مراسمِ اسلامیہ مثلاً: مناکحت کرنا، ان کا ذبیحہ استعمال کرنا، ان کا جنازہ پڑھنا، ان کو اپنے جنازے میں شریک کرنا، قربانی میں ان کو شریک کرنا، ان کو اپنے نکاحوں میں گواہ بنانا، ان سے مسجد کے لیے چندہ لینا وغیرہ کا ترک کرنا واجب ہے جو شخص شیعوں سے ترکِ مراسم نہیں کرتا وہ اسلام سے خارج اور انہیں کی مثل کافر ہے: فهو كافر مثلهم۔
(مسعود احمد: نائب مفتی دارالعلوم دیوبند)
30: شیعہ واقعی کافر ہیں، کیونکہ وہ قذف ام المؤمنینؓ اور سب الشیخینؓ کے علاوہ تحریف فی القرآن کے قائل ہیں۔
(مفتی اعظم ہند محمد کفایت اللہ دہلوی)
(بحوالہ شیعیت کا اصلی روپ: صفحہ، 354)
