شیعہ، سنیوں کے جنازہ میں شریک ہو کر بد دعا کرتے ہیں
مذہبِ شیعہ میں دغا و فریب ایسی عمدہ چیز ہے کہ ائمہ اکثر اپنے مخالفوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرتے اور بجائے دعا کے نماز میں بد دعا دیتے تھے، اور اپنے متبعین کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے کہ تم ایسا کیا کرو، لوگ سمجھتے تھے کہ امام نمازِ جنازہ پڑھ رہے ہیں اور وہاں معاملہ برعکس ہے۔ شیعوں کی کتاب فروعِ کافی کے صفحہ، 99 پر ہے:
سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص منافقوں میں سے مر گیا، سیدنا حسینؓ اس جنازہ کے ہمراہ چلے، راستہ میں غلام ان کا انہیں ملا اس سے سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ تو کہاں جاتا ہے؟ اس نے کہا میں اس منافق کے جنازہ سے بھاگتا ہوں نہیں چاہتا کہ اس پر نماز پڑھوں، حضرت حسینؓ نے اس سے فرمایا: دیکھو میرے دائیں جانب کھڑا ہو اور جو کچھ مجھے کہتے ہوئے سنو وہی تو بھی کہنا پھر جب اس منافق کے ولی نے تکبیر کہی تو سیدنا حسینؓ نے بھی تکبیر کہہ کر یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اپنے فلانے بندے پر لعنت کر ہزار لعنتیں جو ساتھ ہوں مختلف نہ ہو، یا اللہ اپنے اس بندے کو دوسرے بندوں میں اور شہروں میں رسوا کر اور اپنے آگ کی گرمی میں اس کو ڈال اور سخت عذاب اس پر کر، کیونکہ وہ تیرے دشمنوں سے دوستی رکھتا تھا اور تیرے دوستوں سے دشمنی رکھتا تھا اور تیرے نبی کے اہلِ بیتؓ سے بغض رکھتا تھا۔
قارئین کرام دیکھیے یہ امام معصوم ہے جو اس طرح لوگوں کو فریب دے رہے ہیں، اگر اس منافق کی نمازِ جنازہ جائز نہیں تھی تو امام کو علیحدہ رہنا چاہیے تھا خواہ مخواہ نمازِ جنازہ میں شریک ہو کر بد دعا کس قدر مذموم خصلت ہے شیعہ کی کتابوں میں اس قسم کے افعال ائمہ سے بھی منقول ہیں۔
(شیعہ مذہب کے چالیس مسائل: صفحہ 27)
