شیعہ کے جنازوں میں شرکت کرنے کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع…

شیعہ کے جنازوں میں شرکت کرنے کا حکم


دین اسلام کا منبع و ماخذ دو چیزیں ہیں۔ 

1: قرآن محفوظ 

2: قیامت تک باقی رہنے والی ناقابلِ تنسیخ تعلیماتِ نبویہ

پورا دین انہی دو سے ماخوذ ہے اور ان دونوں (کتاب و سنت) کی نقل و اشاعت کا عقلاً و نقلاً ایک اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے، یعنی جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے قرآن و سنت اور پوری شریعتِ مطہرہ کو ذات نبویﷺ سے وصول کر کے امت میں منتقل کیا اگر ان تینوں چیزوں میں سے کسی ایک کی بھی نفی کر دی جائے تو اس سے پورے دین کی نفی ہو جاتی ہے قرآن و سنت کے انکار کا کفر ہونا تو ظاہر ہے، اسی طرح صدرِ اول جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے ایمان و عدالت کی نفی کرنے کے بعد بھی کوئی شخص مسلمان باقی نہیں رہ سکتا کیونکہ ذاتِ نبویﷺ اور امت کے مابین صدرِ اول کا واسطہ حذف ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین آسمان سے نازل ہو کر اسی ذات پر منقطع و ختم ہو گیا جس پر وہ نازل کیا گیا تھا، اور اس دین کا کوئی حصہ یا حکم قطعی طور پر امت کے پاس موجود نہیں، اور یہ ہدمِ اسلام اور ابطالِ شریعت کے مترادف ہے 

شیعہ رافضیہ اثناءِ عشریہ نے اسلام کے ان تین اصل الاصول اور مرکزی بنیادوں پر تیشہ زنی کر کے دین کی پوری عمارت متزل کر دیا ہے شیعہ مذہب کی انتہائی معتبر اور مستند کتابوں میں ان کے ائمہ کی جانب سے درجہ شہرت و تواتر میں ایسی تصریحات پائی جاتی ہیں جنہیں درست تسلیم کر لینے کے بعد نہ صرف یہ کہ شیعہ دائرہ اسلام سے خارج قرار پاتے ہیں بلکہ سرے سے اسلام کا وجود ہی مشکوک و مشتبہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ: 

1: قرآنِ کریم محفوظ نہیں بلکہ اس میں ہر قسم کی تحریف ہوئی ہے۔ العیاذ باللہ: 

2: قرآن و سنت کی تعلیمات اور اس کے حلال و حرام قیامت تک کے لیے نہیں، بلکہ ان کے بنیادی عقیدہ امامت کی روشنی میں ہر امام کو کسی بھی چیز کے حلال و حرام کرنے کے اختیارات حاصل ہیں اور امام کا درجہ آنحضرتﷺ کے برابر اور دیگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہے، اس پر وحی آتی ہے، اور وہ مفترض الطاعہ ہوتا ہے، اس پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں شیعہ، اپنے اماموں پر نبی کے لفظ کا اطلاق نہیں کرتے لیکن حقیقت و معنیٰ نبوت اس کے لیے ثابت کرتے ہیں ایسے عقیدہ امامت سے آنحضرتﷺ کے ختمِ نبوت کی نفی لازم آتی ہے۔ 

3: دینِ اسلام کی بنیادیں تو دو عقیدوں تحریفِ قرآن اور عقیدہ امامت سے ہی مل گئی تھیں مزید بر آں رافضیہ امامیہ کا ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ سوائے تین، چار کے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (العیاذ باللہ) کافر و مرتد ہو گئے تھے کہ قرآن و سنت بوقتِ نزول اگر چند درست و صحیح بھی ہو لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق شیعوں کے اس عقیدہ کی بناء پر قرآن یا دین کے کسی حصہ کا ثبوت و بقاء قطعیت و تواتر کے درجہ میں باقی نہیں رہ سکتا۔ 

تین، چار کی روایت خبر آحاد میں سے ہوتی ہے خبر متواتر نہیں، اور خبر آحاد سے قرآنِ کریم اور عقائد کا ثبوت ممکن نہیں اہلِ سنت و الجماعت اور شیعہ مجتہدین سب کا یہی مذہب ہے۔ 

الغرض شیعہ اثناءِ عشریہ رافضیہ جو مندرجہ ذیل کفریہ عقائد کے قائل ہیں کہ: 

1: موجودہ قرآنِ کریم غیر محفوظ ہے، اس میں تحریف و کمی پیشی کی گئی ہے۔ 

2: عقیدہ امامت 

3: سوائے تین، چار کے باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد و کافر ہیں۔ 

4: حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان اور الزام تراشی، جو تکذیب قرآن کو مستلزم ہے۔ 

واضح رہے کہ شیعوں کے یہ کفریہ عقائد شیعہ مذہب کی انتہائی معتبر اور مستند کتابوں میں درجہ شہرت و تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور ان کے مجتہدین بلا تاویل ان کفریات کو اپنا عقیدہ قرار دیتے ہیں لہٰذا شیعہ اثناءِ عشریہ جو عقائد بالا کے قائل ہیں، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں مسلمانوں سے ان کا نکاح، شادی بیاہ جائز نہیں حرام ہے مسلمانوں کے لیے ان کے جنازے میں شرکت جائز نہیں، ان کا ذبیحہ حلال نہیں اگر کوئی شیعہ یہ کہتا ہے کہ ہمارے یہ عقائد نہیں تو وہ اپنی مذہبی کتابوں سے بے خبر ہے یا تقیہ کرتا ہے، کیونکہ تقیہ (جھوٹ) ان کے مذہب میں عبادت ہے اور اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام شیعہ مجتہدین کی تکفیر کرے جو تحریف قرآن وغیرہ کفریہ عقائد کے قائل ہیں۔ 

(خیر الفتاویٰ: جلد1 صفحہ  433)