شیعوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم - فتاویٰ…

شیعوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم


شیعوں کی کتابوں میں ایسی عبارات صاف موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ:

1: وہ تمام جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مرتد اور منافق سمجھتے ہیں۔ 

2: وہ قرآنِ کریم کو (جو امت کے ہاتھوں میں موجود ہے) بعینہ اللہ جل شانہ کا نازل کردہ نہیں سمجھتے، بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اصل قرآن جو خدا کی طرف سے نازل ہوا تھا وہ امام غائب کے پاس غار میں موجود ہے اور یہ موجودہ قرآن (نعوذ باللہ) حرف و مبدل ہے، اس کا بہت سا حصہ (نعوذ باللہ) حذف کر دیا گیا، بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملا دی گئی ہیں قرآنِ شریف ضروریاتِ دین میں سب سے اعلیٰ و ارفع چیز ہے، اور شیعہ بلا اختلاف ان کے متقدمین اور متاخرین سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور ان کی کتابوں میں دو ہزار سے زیادہ روایات تحریفِ قرآن کی موجود ہیں، جن میں پانچ قسم کی تحریف بیان کی گئی ہے۔ کمی بیشی، تبدل الفاظ، تبدل حروف، تبدل ترتیب، سورتوں، آیتوں، اور کلمات میں بھی۔ 

3: قادیانیوں کی طرح وہ (شیعہ) لفظی طور پر ختمِ نبوت کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں لیکن انہوں نے نبوت محمدیہ کے مقابلہ میں ایک متوازی نظام عقیدہ امامت کے نام سے تصنیف کر لیا ہے ان کے نزدیک امامت کا ٹھیک وہی تصور ہے جو اسلام میں نبوت کا تصور ہے چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ امام نبی کی طرح منصوص من اللہ ہوتا ہے، معصوم ہوتا ہے، مفترض الطاعہ ہوتا ہے، ان کو تحلیل تحریم کے اختیار ہوتے ہیں، اور یہ کہ بارہ امام تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں ان عقائد کے ہوتے ہوئے اس فرقہ کا کافر اور خارج از اسلام ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا صرف انہیں تین عقائد کی تخصیص نہیں بلکہ بغورِ نظر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ شیعیت اسلام کے مقابلہ میں بالکل ایک الگ اور متوازی مذہب ہے جس میں کلمہ طیبہ سے لے کر میت کے تجہیز و تکفین تک تمام اصول و فروع اسلام سے الگ ہیں۔ اس لیے شیعہ اثناءِ عشریہ بلا شک و شبہ کافر ہیں لہٰذا شیعہ اثناءِ عشریہ رافضی کافر ہیں، مسلمانوں سے ان کا نکاح، شادی بیاہ جائز نہیں حرام ہے مسلمانوں کے لیے ان کے جنازے میں شرکت جائز نہیں، ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، غرض ان کے ساتھ غیر مسلموں جیسا سلوک اور معاملہ کیا جائے۔ 

(خیر الفتاویٰ: جلد  1 صفحہ 427)