سنیوں کا جنازہ شیعہ نہ پڑھے
سوال:ایک جگہ ایک امام صاحب نے ایک میت پر جنازہ پڑھنے سے اعراض کیا وجہ یہ تھی کہ میت کے وارث شیعہ تھے اور ان کا خیال سنیوں سے پہلے یا بعد شیعہ مولوی سے شیعوں والا جنازہ پڑھوانے کا تھا، اور اس شیعی جنازہ کو عقیدہ صحیح اور درست سمجھتے ہیں کیا ایک میت پر شیعہ اور سنی دو جنازے درست ہیں یا نہیں؟ امام صاحب کا اعتراض درست ہے یا نہیں؟ کیا جو سنی آدمی شیعہ امام کے پیچھے شیعہ جنازہ پڑھے، اس پر کوئی حد یا کوئی حکم ہے یا معاف ہے؟ کیا شیعہ سنی کے جنازہ میں شریک ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہو سکتا تو روکنا درست ہے یا نہیں؟
جواب: یہ دو جنازوں والی رسم ختم کرنی چاہیے میت کی اچھی طرح تحقیق کر لیں، اگر سنی ہو تو صرف سنی ہی جنازہ پڑھیں، شیعوں کو نہ پڑھنے دیں حقیقی شیعہ کبھی سنی کا جنازہ بطورِ جنازہ نہیں پڑھتا۔
(خیر الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 198)
