سر آغا خان کو اپنا رہنما کہنے والے کو کافر کہیں گے یا…

سر آغا خان کو اپنا رہنما کہنے والے کو کافر کہیں گے یا مسلمان سمجھیں گے؟ اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دی جائے یا نہیں؟ اور جو نام نہاد مولوی ایسی شخص کی میت کی نماز جنازہ پڑھتے اور اس کو مسلمان کہلواتے ہیں اور اسمیں کوشش کرتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے


صفحہ 3 از 3

البتہ بلاضرورت کسی سے لڑائی جھگڑا کرنا بھی نہ چاہیے اور ایسے مصالح کی بناء پر ایسی رعایت کرنا ان مصالح سے زیادہ مفاسد کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ وہ مصالح تو محض دنیوی ہیں اور مفاسد دینیہ ان مفاسد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کفریات کے ہوتے ہوئے کسی کو مسلمان کہا جائے گا تو ناواقف مسلمانوں کی نظر میں ان کفریات کا قبح خفیف ہو جائے گا اور وہ آسانی سے ایسے گمراہیوں کے شکار ہو سکیں گے تو کافروں کو اسلام میں داخل کہنے کا انجام یہ ہوگا کہ وہ بہت سے مسلمان اسلام سے خارج ہو جائیں گے کیا کوئی مصلحت اس مفسدہ کی مقاومت کر سکے گی؟ ایسے ہی مصالح و مضار کے اجتماع کا یہ فیصلہ فرمایا گیا ہے: قال الله تعالىٰ: قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 219)

وقال الله تعالىٰ: يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّـفۡعِهٖ‌ الخ۔

(سورۃ الحج: آیت 13) 

(بوادر النوادر: صفحہ 659)


صفحہ 3 از 3