سر آغا خان کو اپنا رہنما کہنے والے کو کافر کہیں گے یا…

سر آغا خان کو اپنا رہنما کہنے والے کو کافر کہیں گے یا مسلمان سمجھیں گے؟ اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دی جائے یا نہیں؟ اور جو نام نہاد مولوی ایسی شخص کی میت کی نماز جنازہ پڑھتے اور اس کو مسلمان کہلواتے ہیں اور اسمیں کوشش کرتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے


صفحہ 2 از 3

ب: قال الله تعالىٰ: مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۡۢ بَحِيۡرَةٍ وَّلَا سَآئِبَةٍ وَّلَا وَصِيۡلَةٍ وَّلَا حَامٍ‌ وَّلٰـكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 103)

ج: قال الله تعالىٰ: وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ الخ۔

(سورۃ ہود :آیت 113)

د:  قال رسول الله: من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذلك المسلم۔

(رواہ البخاری) 

ہ: قال رسول اللہ: آية المنافق ثلاث رواہ الشیخان زاد مسلم وان صیام وصلى وزعم انه مسلم۔

و: عن حذيفة قال ان النفاق كان على عهد رسول الله فاما اليوم فانما هو الكفر او الايمان۔

(رواہ البخاری) 

ز:  فی اللمعات فی شرح الاحاديث اى حكمه بعدم التعرض لاهله والستر عليهم كان على عهد رسول اللہﷺ لمصالح كانت مقتصرة على ذلك الزمان اما اليوم فلم يبق تلك المصالح فنحن ان علمنا انه كافر سرا قتلناه حتى يؤمن 1ھ۔

ح: فی رد المحتار احكام المرتد تحت قول الدر المختار لان التلفظ بها صار علامة على الاسلام ما نصه افاد بقوله صار الى ان ما كان فی زمن الامام محمد تغیر لانهم فی زمنه ماكانوا يمتنعون عن النطق بها فلم تكن علامة الاسلام فلذا اشترطوا معها التبرى لها فی زمن قارى الهداية فقد صارت علامة الاسلام لانه لا يأتی بها الا المسلم الخ۔ 

ط: فی الدر المختار احكام غسل الميت ومحل دفنهم كدفن ذمية حبلى من مسلم الخ۔ 

ی:  فی مختصر المعانی بحث الاسناد ما نصه وقولنا فی التعريف بتأويل يخرج نحو مامر من قول الجاهل انبت الربيع البقل رانياً الا انبات من الربيع الخ وفيه بحث وجوب القرينة للاسناد المجازى ما نصه وصوره عطف على استحالة اى وكصدوره عن الموحد فی مثل شاب الصغير، الخ۔ 

آیات و روایات و عبارات سے یہ امور مستفاد ہوئے:

اول:  حلول کا قائل ہونا کفر ہے۔ (آیت: الف) 

ثانی: جو رسوم اور عادات کفار کے ساتھ ایسی خصوصیت رکھتے ہوں کہ بمنزلہ ان کے شعار کے ہو گئے ہوں اگر عرفاً شعار ہی سمجھے جاتے ہوں وہ بھی کفر ہیں۔ (آیت: ب) 

اسی اصل پر فقہاء کرام نے: شد زنار کو کفر فرمایا ہے ورنہ تشبہ بالکفار ہے جو مستلزم رکون الی الکفار ہونے کے سبب معصیت و حرام ہے۔ (آیت: ج) 

جس طرح عادات مخصوصہ با المسلمین دلیل اسلام ہیں۔ (روایت: د) 

بشرطیکہ کوئی یقینی دلیل کفر کی نہ ہو ورنہ کفر ہی کا حکم کیا جائے گا: لقوله تعالىٰ: اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا ۞

اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡـكٰفِرُوۡنَ حَقًّا‌ الخ۔

(سورۃ النساء آیت 150، 151)

اور اسلام کی وجہ واحد کو کفر کی وجوہ متعددہ پر ترجیح اسی وقت ہے جب کہ وہ وجوہ کفر متحمل ہوں متعین نہ ہوں۔ 

ثالث:  موجبات کفر کے ہوتے ہوئے محض دعویٰ اسلام و صلوٰۃ و صیام و استقبال بیتُ الحرام ترتب احکام اسلام کے لیے کافی نہیں، جب تک ان موجبات سے تائب نہ ہو جائے۔ (روایتہ) 

رابع:  باوجود ثبوتِ کفر کے اسلام ظاہر کرنے والوں کے ساتھ بناء بر مصالح اسلامیہ مسلمانوں کا سا برتاؤ کرنا کو بعض اوقات ان کے کفر کا بھی ظہور ہو جاتا تھا: كما نقل عنهم ولهم اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 13)

و نحوہ مخصوص تھا حضورِ اقدسﷺ کے عہد مبارک کے ساتھ، اب وہ حکم باقی نہیں رہا۔

(روایت و عبارت: ز) 

بلکہ بعض احکام کے اعتبار سے خود حضورِ اقدسﷺ کے اخیر عہد میں معاملہ کالمسلمین میں تغیر ہو گیا تھا چنانچہ آیت: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت 84) میں مصرح ہے۔

والنهی عن الزيارة يستلزم النهی عن الدفن فی مقابر المسلمين لأن الدفن يستلزم الزيادة عادة البتہ تعرض بالقتل النهب: کی ممانعت باقی رہ گئی تھی۔ 

خامس:  جو کافر اصولِ اسلامیہ کا بھی مقر ہو اس کے حکم بالاسلام کے لیے محض لفظ بکلمتی الشہادہ: کافی نہیں جب تک اپنی کفریات سے تبری کا اعلان نہ کرے۔ (عبارت: ح) 

سادس: کافر کا مقابر مسلمین میں دفن کرنا جائز نہیں۔ (عبارت: ط) 

سابع:  جس شخص کا کفر ثابت ہو جائے اس کے اقوال افعال محتملہ الکفر والاسلام میں تاویل کرنے سے اس کا کفر مانع ہوگا۔ (عبارت: ی) 

اب مقدمات کے بعد سب سوالات کا جواب ظاہر ہے مگر تبرعاً جداجدا بھی عرض کرتا ہوں سوال میں دو قسم کے امور مذکور ہیں، ایک قسم وہ جو یقیناً موجبِ کفر ہے جیسے تصویر کی پرستش کرنا یا کرشن کی تصویر عبادت خانہ میں رکھنا جو شعار کفار کا ہے یا بجائے بسم اللہ کے لفظ: اوم لکھنا کہ یہ بھی ان کا شعار ہے یا حلول کا قائل ہونا جو اسلام کی تمہید اور ترکیب نماز کے آغاز میں مذکور ہے اور دوسری قسم وہ جو صرف محتمل کفر ہیں جیسے دیوالی سے بھی کھاتہ کا حساب شروع کرنا یا مقتداؤں کو لفظ خداوند سے خطاب کرنا یا ان سے دعائیں مانگنا۔ 

بس قسم اول پر تو حکم بالکفر ظاہر ہے (للامر الاول والثانی) 

اور قسم ثانی کا صدور اگر مسلمان سے ہوتا تو اس میں تاویل کر کے مباح یا معصیت پر محمول کیا جاتا مگر جب اس کا صدور کافر سے ہے تو تاویل کی ضرورت نہیں (للامر السابع) 

اور ان کفریات کے ہوئے کہ ایسے شخص کا دعویٰ اسلام کافی نہیں ہے نہ اس کا نمازی اور روزہ دار ہونا کافی ہے نہ اس پر جنازہ جائز ہے نہ مقابر مسلمین میں دفن کرنا جائز ہے (للامر الثالث والسادس) 

اور نہ مصلحت کے سبب کافر کو مسلمان کہنا یا اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرنا جائز ہے (للامر الرابع الخامس) 

صفحہ 2 از 3