Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کثرتِ روایتِ حدیث کے اعتبار سے امہات المؤمنینؓ کی ترتیب

  ابو شاہین

کثرتِ روایتِ حدیث کے اعتبار سے  امہات المؤمنینؓ کی ترتیب 

(امہات المؤمنینؓ میں سے ہر ایک کی روایت کی تعداد بیان کرنے میں مندرجہ ذیل پانچ کتابوں کو بنیاد بنایا گیا ہے: اسماء الصحابۃ الرواۃ لابن حزم، تلقیح فہوم أہل الأثر لابن الجوزی، سیر أعلام النبلاء لشمس الدین الذہبی، مخطوط جزء فیہ مالکل واحد من الصحابۃ من الحدیث لبقی بن مخلد الأندلسی، نساء فی ظل رسول اللّٰہ صلي اللّه عليه وسلم للشیخ عرفان العشا حسونۃ الدمشقی۔

1: صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا:

ان سے دو ہزار دو سو دس (2210) حدیثیں مروی ہیں ۔

ان میں متفق علیہ روایتیں 174 ہیں۔

(متفق علیہ وہ روایت ہے جس کو امام بخاریؒ اور مسلمؒ دونوں نے روایت کیا ہو۔ مترجم

اور مسلم میں نو حدیثیں ہیں۔

امام احمدؒ نے اپنی کتاب مسند امام احمدؒ میں ان سے دو ہزار سے زائد حدیثیں روایت کی ہے۔

2: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا:

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ان کی روایتوں کی تعداد 187 ہے۔

ان میں سے متفق علیہ روایتیں 13 ہیں۔

بخاری میں تین روایتیں ہیں اور مسلم میں 13 روایتیں ہیں۔

3: سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا:

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ان سے متفق علیہ سات روایتیں مروی ہیں۔

بخاری نے ان کے علاوہ ایک حدیث روایت کی ہے۔ اور مسلم نے پانچ حدیثیں روایت کی ہے۔

ان کی روایتوں کی مجموعی تعداد 13 ہے۔

محقق شیخ عرفان عشا نے لکھا ہے: ان کی روایتیں اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ امام احمدؒ نے ان سے روایت کی ہے، ان کی مسند کی ابتدا حدیث نمبر (10/36858) سے ہوتی ہے اور انتہا (10/26921) پر ہوتی ہے۔

’’أسماء الصحابۃ الرواۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ: ان سے 76 حدیثیں مروی ہیں اور اس کتاب کے محقق نے حاشیہ میں کحالہ کی بات سے ان کی کتاب ’’أعلام النساء‘‘ سے نقل کیا ہے کہ انہوں ہے کہا: مطالع الانوار میں ہے کہ میمونہ بنت حارثؓ نے 77 حدیثیں روایت کی ہیں، الکمال فی معرفۃ الرجال میں ہے کہ انہوں نے 46 حدیثیں روایت کی ہیں، دارالکتب الظاہرۃ کے شعبہ مخطوطات میں اندراج نمبر 32 کے مجموعے میں ہے کہ انہوں نے 79 حدیثیں روایت کی ہیں۔ 

(أسماء الصحابۃ الرواۃ: حاشیہ: صفحہ 68)

4: ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا:

أسماء الصحابۃ الرواۃ میں ہے کہ انہوں نے 65 حدیثیں روایت کی ہے، ابن الجوزی نے ’’تلقیح فہوم أہل الأثر‘‘ میں یہی تعداد بتائی ہے۔ 

(أسماء الصحابۃ الرواۃ: صفحہ 72، تلقیح فہوم أہل الأثر لابن الجوزی: صفحہ 365)

یہی تعداد علامہ ذہبیؒ نے بھی بیان کی ہے: ان کی مسند میں 65 حدیثیں ہیں۔ 

(نساء فی ظل رسول اللہ: صفحہ 208۔ أسماء الصحابۃ الرواۃ: صفحہ 75، تلقیح فہوم الأثر: صفحہ 365)

دو روایتیں متفق علیہ ہیں اور ان کے علاؤہ ایک روایت مسلم نے نقل کی ہے۔

5: سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما:

ابن حزم نے ’’أسماء الصحابۃ الرواۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ ان سے 60 حدیثیں مروی ہیں، ابن جوزی نے بھی ’’تلقیح فہوم أہل الأثر‘‘ میں یہی تعداد بتائی ہے۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 227۔ 230، شیخ عرفان عشا نے لکھا ہے: بقی بن مخلد کی مسند مفقود ہے، نساء فی ظل رسول اللہ: صفحہ 124)

علامہ ذہبیؒ نے کہا ہے: بقی بن مخلد کی کتاب میں حفصہؓ کی مسند میں ساٹھ حدیثیں ہیں۔ 

(نساء فی ظل رسول اللہ: صفحہ 124)۔

چار حدیثیں متفق علیہ ہیں اور امام مسلمؒ نے ان کے علاوہ الگ سے چھ حدیثیں نقل کی ہیں۔

شیخ عرفان عشا نے لکھا ہے: امام احمدؒ نے مسند میں ان سے 44 حدیثیں نقل کی ہیں، ابتدا (26485) سے ہوتی ہے اور انتہا (10/ 26529) پر ہوتی ہے۔ 

(نساء فی ظل رسول اللہ: صفحہ 153)۔ 

6: زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا:

ابن حزمؒ (تلقیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 369)

اور ابن جوزیؒ (المقالۃ الحسنیٰ: صفحہ 5 ،6)

نے لکھا ہے کہ ان سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں۔ جو (10/ 26813) سے شروع ہوتی ہیں اور (10/ 27483۔ 27486) پر ختم ہوتی ہیں۔

ترمذی حدیث نمبر 2187، ابن ابی شیبہ حدیث نمبر: 61۔ 190، ابن حبانؒ 827، بیہقی: سنن کبریٰ: 10 /93، بغوی: شرح السنۃ: 4201، وغیرہ نے ان کی روایتیں نقل کی ہے۔

امام مالکؒ نے مؤطا میں 268 اور نسائی 3500 نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ 

(نساء فی ظل رسول اللہﷺ: 186)۔ 

7: سیدہ صفیہ بنت حي بن اخطب رضی اللہ عنہا:

ابن حزمؒ (أسماء الصحابۃ الرواۃ: 155)

 اور ابن جوزی (تلقیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 369)

 نے لکھا ہے کہ ان سے دس حدیثیں مروی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے: ان سے دس حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک متفق علیہ ہے۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 238)

بخاری میں ان کی حدیث نمبر 2035 ہے، اور مسلم میں 2175 ہے، امام احمدؒ نے 10/26927) سے (26929/10) تک ان کی روایتیں نقل کی ہے۔ 

(شیخ عرفان عشا نے اس کو ترجیح دی ہے: نساء فی ظل رسول اللہﷺ: صفحہ 239)

8: سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابو ضرار رضی اللہ عنہما:

ابن حزمؒ (أسماء الصحابۃ الرواۃ: صفحہ 195)

 اور ابن جوزی (تلقیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 371)

نے لکھا ہے کہ ان سے سات حدیثیں مروی ہیں، یہی تعداد علامہ ذہبیؒ نے بھی بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں: ان سے سات حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے ایک بخاری میں ہے اور دو مسلم ہیں۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 263)

شیخ عرفان عشا نے اضافہ کیا ہے: مسند امام احمدؒ میں ان کی حدیثیں (10/26817) سے شروع ہو کر (10/2682) پر ختم ہوتی ہیں، اس میں مذکورہ بالا حدیثوں کے علاوہ دوسری حدیثیں ہیں۔ 

(نساء فی ظل رسول اللہﷺ: صفحہ 200)

9: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:

ابن حزم (أسماء الصحابۃ الرواۃ: صفحہ 222)

 اور ابن جوزی (تلقیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 272) نے لکھا ہے کہ ان سے پانچ حدیثیں مروی ہیں، بخاری میں ان کی حدیث نمبر 6686۔ 6749 ہے، اور مسلم میں حدیث نمبر 1457 ہے، مسند امام احمد میں حدیث نمبر 28488/ 10، 27489/ 10 ہے، نسائی میں حدیث نمبر: 3485 ہے۔ 

سیدہ خدیجہ بنت خویلد اور سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے۔

ان تفصیلات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حدیث رسول کی نشر و اشاعت میں ازواج مطہراتؓ کی کوششوں کو بیان کیا جائے۔