روافض کے جنازہ کی نماز اور ان کے لیے ایصال ثواب
سوال: روافض کے جنازہ کی نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:روافض میں جو فرقہ سبِ شیخینؓ کرتا ہے، یعنی ان کو برا کہنے والا ہے ان کو بہت سے فقہاء نے کافر کہا ہے اور محققین فقہاء کی تحقیق یہ ہے کہ وہ فاسق و مبتدع ہیں کافر نہیں البتہ ان میں سے جو افک عائشہ صدیقہؓ کے قائل ہیں یا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحبت کے منکر ہیں (یعنی ان کو صحابی تسلیم نہیں کرتے) یا حضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہیں (یعنی ان کو خدا کہتے ہیں) وہ باتفاق کافر و مرتد ہیں پس اس عورت رافضیہ کا چونکہ پورا حال معلوم نہیں کہ وہ کسی فرقہ میں داخل تھی، اس لیے نماز اس کے جنازہ کی سنیوں نے پڑھی مضائقہ نہیں کیونکہ حدیث میں ہے: "صلوا على کل بر وفاجر" مگر آئندہ ایسے رافضی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں جو تبرا گو، یا افکِ عائشہ صدیقہؓ وغیرہ عقائد باطلہ کے معتقد ہیں، اور ختمِ قرآن شریف و کلمہ طیبہ کا ثواب ان خبیث ارواح کو نہ پہنچائیں اور آپ کو مناسب یہ ہے کہ آپ اس بارے میں گفتگو و نزاع نہ کہا کریں مگر آپ خود اپنا عمل درست رکھیں کہ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں، دعا و استغفار و ایصالِ ثواب ان کے لیے نہ کریں۔
(عزیز الفتاویٰ مبوب مکمل: جلد 1 صفحہ 335)
