20: حضرت مہدی کے ظہور کے بعد دنیا بھر میں انصاف قائم ہوگا
عن ابی سعيد الخدرى رضی الله عنه قال رسول اللهﷺ ابشركم بالمهدى يبعث فى امتى على اختلاف من الناس و زلزال فيملا الارض قسطا و عدلا كما ملئت جورا و ظلما يرضى عنه ساكن السماء و ساكن الارض يقسم المال صحاحا قال له رجل ما صحاحا؟ قال بالسوية بين الناس ويملا الله قلوب امه محمدﷺ غنى ويسعهم عدله حتىٰ يامر مناديا فينادى فيقول من له فى المال حاجه؟ فيما يقوم من الناس الا رجل واحد فيقول انا فيقول له انت السادن يعنى الخازن فقل له ان المهدی يامرك ان تعطينى مالا فيقول له احث فيحتثى حتى اذا جعله فى حجره وابرزه ندم فيقول: كنت اجشع امه محمدﷺ نفسا اوعجزعنى ما وسعهم؟ قال فيرده فلا يقبل منه فيقال له انا لا ناخذ شيئا اعطينا فيكون كذلك سبع سنين او ثمان سنين او تسع سنين ثم لا خير فى العيش بعده او قال ثم لا خير فى الحياه بعده۔
(مجمع الزوائد: جلد7 صفحہ312)
ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری امت میں اختلافات و اضطراب کے زمانہ میں بھیجا جائے گا، تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی زمین اور آسمان والے اس سے خوش ہوں گے وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دے گا یعنی اپنے داد و دہش میں وہ کسی کا امتیاز نہیں برتے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دور خلافت میں میری امت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا اور بغیر امتیاز ترجیح کے اس کا انصاف سب کو عام ہوگا وہ اپنے منادی کو حکم دے گا کہ عام اعلان کر دے کہ جسے مال کی حاجت ہو وہ مہدی کے پاس آ جائے اس اعلان پر مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا مہدی اس سے کہے گا کہ خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمہیں حکم دیا ہے جو شخص خازن کے پاس پہنچے گا تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں بھر لے چنانچہ وہ حسبِ خواہش دامن میں بھر لے گا اور خزانہ سے باہر لائے گا تو اسے اپنے اس عمل پر ندامت ہوگی اور اپنے دل میں کہے گا کیا امتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا، میرے لیے ہی وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی و وافی ہے اس ندامت پر وہ مال واپس کرنا چاہے گا مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے مہدی عدل و انصاف اور داد و دہش کے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہے گا اس کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خوبی نہ ہوگی۔