ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 6 از 7

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب من فضائل زینب ام المؤمنینؓ: حدیث: 3452)

4: حضرت زینبؓ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ان کے بارے میں فرمایا: میں نے دین میں سب سے بہتر اللہ کا سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والی، سب سے سچی، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی، سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی اور اس کام میں سب سے زیادہ خود کو کھپانے والی جس کا وہ صدقہ کرتی ہے اور اللہ سے تقرب حاصل کرتی ہے زینب سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب من فضائل عائشۃ ام المؤمنینؓ: حدیث: 2422)

8: جویریہ بنت حارث بن ضرار بن حبیب بن خزیمہ خزاعیہ مصطلقیہ، بنو مصطلق کی جنگ (غزوۂ مریسیع) میں پانچ یا چھ ہجری کو گرفتار ہوئیں اور ثابت بن قیسؓ کے حصے میں آئیں، جنہوں نے جویریہ کے ساتھ آزادی کا معاہدہ (مکاتبت: ( مکاتبت یہ ہے کہ آقا اپنے غلام کے ساتھ اس بات پر متفق ہو جائے کہ قسطوں میں اتنا مال ادا کرنے کی صورت میں تم آزاد ہو۔) کیا، رسول اللہﷺ نے مکاتبت کی رقم ادا کی اور ان کے ساتھ شادی کی، آپﷺ سے پہلے ان کی شادی مسافع بن صفوان کے ساتھ ہوئی تھی جو اس معرکے میں قتل ہو گیا تھا، حضرت جویریہؓ کی وجہ سے مسلمانوں نے ان کے خاندان کے سو قیدیوں کو آزاد کر دیا، اپنی قوم پر ان کی بڑی عظیم برکت تھی، ان کی وفات 50 ہجری کو ہوئی۔ 

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب:

1: حضرت جویریہؓ کثرت سے اللہ کی عبادت اور ذکر کرتی تھیں۔

امام مسلمؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس کے واسطے سے حضرت جویریہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ فجر کی نماز کے لیے ان کے پاس سے نکلے، جب کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں تھیں، پھر آپ چاشت کے بعد واپس آئے تو وہ اسی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی، آپﷺ نے دریافت کیا: کیا تم ابھی تک اسی حالت میں ہو جس پر تم کو چھوڑ گیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی کریمﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے تین مرتبہ چار کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر صبح سے جو تم نے کہا ہے ان کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ کلمات وزنی ہوں گے:

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ وَزِنَۃِ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔

(صحیح مسلم: کتاب الذکر والدعاء: باب التسبیح أول النہار وعند النوم حدیث: 2726)

2: رسول اللہﷺ نے ان کا نام جویریہ رکھا، جب کہ ان کا نام برّہ تھا۔

9: ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان صنحر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف امویہ۔ ان کی ماں صفیہ بنت ابو العاص بن امیہ ہیں۔ بعث نبویﷺ سے سترہ سال قبل آپ کی پیدائش ہوئی، اپنے شوہر عبیداللہ بن جحش اسدی کے ساتھ اسلام قبول کیا اور ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، وہاں حبیبہ کی پیدائش ہوئی، ان کے شوہر نے حبشہ میں نصرانیت قبول کی، لیکن یہ دینِ اسلام پر جمی رہیں، پھر مدینہ ہجرت کر آئیں، اللہ نے پہلے شوہر کے بدلے امت کے بہترین شخص رسول اللہ کو عطا فرمایا، یہ ازواجِ مطہرات میں رسول اللہﷺ کی سب سے قریبی رشتے دار ہیں، دونوں کا رشتہ عبد مناف پر جا کر ملتا ہے، ان کی وفات 44 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب:

1: جب ان کے والد ابو سفیان مسلمانوں اور قریش کی صلح کی مدت بڑھانے کے لیے مدینہ آئے تو ام حبیبہؓ نے رسول اللہﷺ کے بستر کی عزت اور احترام میں اپنے والد کو اس پر بیٹھنے نہیں دیا، کیونکہ وہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔

2: حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ میں یہ بھی تھی۔ 

(رسول اللہﷺ نے حبشہ کی طرف ہجر کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور انھیں دو ہجرت کا مرتبہ دیا ہے، دیکھیے: صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب فضائل جعفر بن ابی طالب واسماء بنت عمیس واہل سفینتہم رضی اللہ عنہم، حدیث: 2502)

10: صفیہ بنت حي بن اخطب بن سعیہ، ان کا تعلق مدینہ کے یہودی قبیلے بنو النضیر سے ہے اور یہ ہارون بن عمران کی نسل سے ہیں۔ اسلام لانے سے پہلے سلام بن مشکم ان کے شوہر تھے، ان کے انتقال کے بعد کنانہ بن ابو الحقیق نے ان کے ساتھ شادی کی، جو جنگ خیبر میں قتل ہوا، اور یہ گرفتار ہو کر دحیہ کلبیؓ کے حصے میں آئیں، دحیہ کلبی نے ان کے ساتھ مکاتبت کر لی نبی کریمﷺ نے مکاتبت کی رقم ادا کی اور آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کی اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا، ان کی وفات 52 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ صفیہ بنت حي رضی اللہ عنہا کے فضائل اور مناقب:

1: نبی کی بیوی، نبی کی بیٹی اور نبی کی بھتیجی۔

امام ترمذی رحمۃاللہ نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے کہ سیدہ صفیہؓ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ سیدہ حفصہؓ نے انھیں یہودی کی بچی کہا ہے۔ یہ سن کر صفیہ رو پڑیں، جب رسول اللہﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ آپﷺ نے دریافت کیا: تم رو کیوں رہی ہو؟ انہوں نے کہا: حفصہ نے میرے بارے میں یہ کہا ہے کہ میں یہودی کی بچی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم تو نبی کی بیٹی ہو، تمہارے چچا نبی ہیں اور تم نبی کی بیوی ہو، پھر وہ کس چیز میں تم پر فخر کرتی ہے؟ پھر فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈرو۔

(ترمذی: کتاب المناقب: باب فضل أزواج النبیﷺ، حدیث: 3892، (یعنی تمہارے ابو ہارون علیہ السلام ہیں اور تمہارے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں اور تم میری بیوی ہو۔ ترمذی حدیث: 3892 کی روایت میں ہے کہ سیدہ صفیہؓ نے یہ کہا کہ تم دونوں مجھ سے کیسے بہتر ہو سکتی ہو، جب کہ میرے شوہر محمد ہیں، میرے والد ہارون ہیں اور میرے چچا موسیٰ ہیں۔

2: نبی کریمﷺ نے ان کو ’’سچی‘‘ کہا ہے، جب مرض الموت میں حضرت صفیہؓ نے رسول اللہﷺ اللہ سے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! میری یہ خواہش ہے کہ جو بیماری آپﷺ کو لاحق ہے وہ مجھے ہو۔ دوسری ازواج مطہراتؓ نے گھور کر ان کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اس کو معیوب سمجھا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، وہ سچی ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 431۔ حدیث: 20922۔ طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 128۔)

صفحہ 6 از 7