ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 5 از 7

7: زینب بنت جحش بن رباب بن یعمر اسدیہ یہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں، ان کی ماں امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم ہیں جو نبی کریمﷺ کی پھوپھی ہیں، نبیﷺ نے ان کے ساتھ تین یا پانچ ہجری کو شادی کی، اس سے پہلے ان کی شادی رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن ثابتؓ کے ساتھ ہوئی تھی، جن کو ابن محمد کہہ کر پکارا جاتا تھا، اسی موقع پر اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کے ساتھ شادی کرنے کا مسئلہ پیش آیا، کیونکہ نبی کریمﷺ نے نبوت سے پہلے زید بن ثابتؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اسی وجہ سے ان کو زید بن محمد کہا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس نسب کو منقطع کر دیا اور یہ آیت نازل فرمائی:

اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (سورۃ الاحزاب آیت 5)

’’ان کے باپوں کے نام کے ساتھ ان کو پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔‘‘

پھر زینب کے ساتھ رسول اللہﷺ کی شادی کرا کے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو موکد کر دیا اور یہ آیت نازل فرمائی:

اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (سورۃ الأحزاب آیت 5)

’’ان کے باپوں کے نام کے ساتھ ان کو پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔‘‘

اس واقعے کے سلسلے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی:

﴿فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا (سورۃ الاحزاب آیت 37)

’’پس جب زید کا ان سے جی بھر گیا تو ہم نے آپ کی شادی ان کے ساتھ کر دی۔‘‘

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا دین، تقویٰ اور سخاوت میں عورتوں کی سردار تھیں، نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے ان ہی کی وفات 20 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ زینب بنت جحشؓ کے فضائل و مناقب:

1: اللہ تعالیٰ نے ان کی شادی اپنے نبی کے ساتھ خود کرائی۔

وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِىۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ مَااللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ وَتَخۡشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰٮهُ فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًاوَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا۞(سورۃ الأحزاب آیت 37)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ: اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو، اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کر لیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرا دیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کر لیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

اپنی اسی خصوصیت اور امتیاز کی وجہ سے حضرت زینبؓ ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں: تم لوگوں کی شادی تمہارے گھر والوں نے کرائی اور میری شادی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کرائی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التوحید: ’’وکان عرشہ علی الماء‘‘ حدیث: 7420)

2: ان کی شادی آیت حجاب کے نزول کا سبب ہے۔

امام بخاریؒ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: جب حضرت زینبؓ کی شادی رسول اللہﷺ کے ساتھ ہوئی تو وہ آپ کے ساتھ گھر میں تھیں، آپﷺ نے کھانا پکوایا اور لوگوں کو مدعو کیا، لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اس پر اللہ نے یہ آیت ناز فرمائی:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِىِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَـكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ غَيۡرَ نٰظِرِيۡنَ اِنٰٮهُ وَلٰـكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانْتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ لِحَـدِيۡثٍ اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِى النَّبِىَّ فَيَسۡتَحۡىٖ مِنۡكُمۡ وَاللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡىٖ مِنَ الۡحَـقِّ وَاِذَا سَاَ لۡتُمُوۡهُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَـــلُوۡهُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَاللّٰهِ عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (بن بلائے) مت جایا کرو، مگر یہ کہ تم کو کھانے کی اجازت دی جائے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں میں جی لگا کر بیٹھے نہ رہو، اس سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ تم سے شرماتے ہیں، اور اللہ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں ہے اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے پاک رہنے کا ذریعہ ہے، اور تمہیں یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ آپ(ﷺ) کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘

اس آیت کے نزول کے بعد پردہ فرض کیا گیا اور لوگ گھر سے واپس ہو گئے۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ: ﴿لا تد لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ﴾ حدیث: 4792)

3: نبی کریمﷺ نے اپنی بیویوں میں صدقہ کرنے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر ان کی تعریف کی ہے۔

امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے پہلے مجھ سے آ کر وہ ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے، وہ کہتی ہیں کہ ازواج مطہراتؓ اپنا اپنا ہاتھ پھیلا کر دیکھا کرتی تھیں کہ ان میں سے کس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم میں سب سے لمبا ہاتھ زینب کا تھا، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتی تھیں اور صدقہ کرتی تھیں۔ 

صفحہ 5 از 7