ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 4 از 7

2: بہت زیادہ روزے رکھتی تھیں اور بہت زیادہ نماز پڑھا کرتی تھیں اور وہ جنت میں حضرت محمدﷺ کی بیوی ہوں گی۔

طبرانی نے قیس بن زیدؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے حفصہ کو ایک طلاق دی، نبی کریمﷺ آئے اور اندر داخل ہوئے تو انہوں نے پردہ کیا، اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے اور انہوں نے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور نمازیں پڑھیں والی ہیں اور وہ جنت میں آپﷺ کی بیوی ہے۔ 

(المعجم الکبیر: جلد 18 صفحہ 365، حدیث: 934، مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 16، حدیث: 7653، علامہ البانی نے اس کو حسن کہا ہے، حدیث: 2007)

3: جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا تو ابوبکرؓ کی وفات تک وہ قرآن ان ہی کے پاس رہا، پھر حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں ان کے پاس آیا، پھر عمرؓ کی وفات کے بعد حفصہؓ کے پاس رہا، جب حضرت عثمانؓ نے قرآن کو جمع کیا گیا تو اس مصحف سے تعاون لیا گیا اور اس کے بعد ان کو لوٹا دیا گیا ان کی وفات مدینہ میں 45 ہجری کو ہوئی۔ 

(صحیح ابن حبان: حدیث: 4506، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کو صحیح کہا ہے۔)

5: زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ، ان کو ام المساکین کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتی تھیں اور ان پر صدقہ کیا کرتی تھیں، ان کے شوہر عبداللہ بن جحش جنگِ احد میں شہید ہو گئے، چنانچہ آپﷺ نے ان کے شوہر کی وفات کے بعد ان سے شادی کی، حفصہ کے بعد زینب آپﷺ کی بیوی بنیں۔ آپﷺ کے ساتھ صرف دو یا تین مہینے رہیں، پھر ان کا انتقال 4 ہجری کو ہوا، ان کے الگ سے مناقب اور فضائل نہیں ملتے تھے، لیکن ازواجِ مطہراتؓ کے حق میں جو عام فضائل وارد ہوئے ہیں ان میں حضرت زینبؓ بھی شامل ہیں جو ان کی افضلیت کے لیے کافی ہیں، اس کے علاوہ آپﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ خصوصیت صرف ان ہی کو حاصل ہے، کیونکہ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں حضرت خدیجہ اور ان کے علاوہ کسی اور بیوی کی وفات نہیں ہوئی، نبی کریمﷺ کا کسی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اس کے حق میں رحمت ہے۔

6: ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ: (حذیفہ) مخزومیہ قرشیہ، ان کے والد کا لقب ’’زاد الرکب‘‘ تھا کیونکہ وہ بڑے سخی تھے، اور آپ کے ساتھ سفر کرنے والا اپنے ساتھ توشہ نہیں لیتا تھا، ان کی ماں کا نام عاتکہ بنت عامر کنانیہ ہے جن کا تعلق بنو فراس سے ہے۔ ان کے شوہر اور چچا زاد بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد کے انتقال کے بعد حضورﷺ نے ان کی ساتھ شادی کی، (ابو سلمہ رسول اللہﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی ہیں، کیونکہ ان کی ماں امیہ بنت عبدالمطلب ہے۔)

انہوں نے ابو سلمہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کی پھر مدینہ بھی ساتھ میں ہجرت کی، کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی مسافر عورت ہیں جو مدینہ میں داخل ہوئی، وہ بہت ہی خوبصورت اور شریف النسب عورت تھیں، راجح قول کے مطابق ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے اخیر میں 61 ہجری کو ان کی وفات ہوئی۔ 

سیدہ ام سلمہؓ کے فضائل و مناقب:

1: نبی کریمﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی اور ان کے حق میں دعا کی، امام مسلمؒ نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کیا ہے رسول اللہﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہ کو میرے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بچی ہے اور میں بڑی باغیرت عورت ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس کی بچی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ بچی کو اس سے بے نیاز کر دے، اور اللہ سے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اس کی غیرت کو ختم کر دے۔ 

(صحیح مسلم: کتاب الجنائز: باب ما یقال عند المصیبۃ: حدیث: 918)

2: رسول اللہﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ جنتیوں میں سے ہے، امام احمدؒ نے ام سلمہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر کالی چادر ڈھانپی پھر فرمایا: اے اللہ! میں اور میرے گھر والے تیری طرف، نہ کہ جہنم کی طرف، وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور میں آپﷺ نے فرمایا: اور تم بھی۔ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 296، جلد 6 صفحہ 304، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، نبی کریمﷺ کے پروردہ (ربیب) عمرو ابن ابو سلمہ سے روایت ہے، جس میں وہ حضرت ام سلمہؓ سے نقل کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان کے ساتھ ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر ہو، تم خیر کی طرف جانے والی ہو، یہ روایت صحیح ہے، اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے، حدیث: 3812، البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، اس حدیث میں ام سلمہؓ کی فضیلت واضح ہے۔

3: صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کی حکمت اور حسنِ تدبیر واضح اور نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے، جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کو پکار کر کہا: لوگو! قربانی کرو اور بال منڈواؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ کوئی بھی کھڑا نہیں ہوا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ نے لوگوں کو دوبارہ پکارا، لیکن کوئی کھڑا نہیں ہوا، پھر آپ نے یہی بات پکار کر کہی، پھر بھی کوئی کھڑا نہیں ہوا، پھر آپ نے یہی بات پکار کر کہی، پھر بھی کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ رسول اللہﷺ واپس ہوئے اور حضرت ام سلمہؓ کے پاس آئے اور فرمایا: ام سلمہ! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے غم کو آپ دیکھ ہی رہے ہیں، ان میں سے کسی کے ساتھ بات مت کیجیے، آپ کی قربانی کا جانور جہاں ہے وہاں جائیے اور اس کو ذبح کیجیے اور اپنا سر منڈائیے، اگر آپ اس طرح کریں گے تو لوگ بھی ایسا کریں گے۔ رسول اللہﷺ نکلے کسی سے بات نہیں کی، یہاں تک کہ اپنے قربانی کے جانور کے پاس آئے اور اس کی قربانی کی، پھر آپ بیٹھ گئے اور اپنے بالوں کو منڈایا۔ یہ دیکھ کر لوگ قربانی اور حلق کرنے لگے، راوی کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان پہنچے تو سورۃ فتح کی آیتیں نازل ہوئیں۔ 

(مکمل حدیث کے لیے دیکھیے: مسند امام احمد: جلد 4 صفحہ 323، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کو حسن کہا ہے۔)

اس مشورے سے اللہ کی طرف سے حضرت ام سلمہؓ کو عطا کردہ عقل اور حسنِ تدبیر کا واضح طور پر پتہ چلتا ہے۔

صفحہ 4 از 7