ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 7

(صحیح بخاری: کتاب التفسیر: باب قولہ: ’’وإن کنتن تردن اللّٰہ ورسولہ والدار الآخرۃ فإن اللّٰہ أعد للمحسنات منکن أجرا عظیما حدیث: 4786)

6: ان کی وجہ سے بہت سی قرآنی آیتیں نازل ہوئیں، جن میں سے بعض ان کی شان میں ہیں اور بعض پوری امت کے لیے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں نازل ہوئی آیتیں مندرجہ ذیل ہیں:

• واقعہ افک میں حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے الزامات سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپؓ کو بری کر دیا اور اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیتیں نازل فرمائی:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَاتَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور: آیت 11)

ترجمہ: جن لوگوں نے (عائشہ پر) یہ الزام لگایا ہے وہ تم ہی میں سے چند لوگ ہیں، اس کو تم اپنے لیے شر نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہے، ان میں سے ہر شخص کو جتنا جس نے کیا تھا اس کا گناہ مل گیا، اور ان میں سے جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے اس کو سخت سزا ہوگی۔‘‘

الْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِ اُوْلٰٓئِکَ مُبَرَّئُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیمٌ (سورۃ النور آیت 26)

ترجمہ: گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے، صاف ستھری عورتیں صاف ستھرے کے لائق ہوتی ہیں اور صاف ستھرے مرد صاف ستھر عورتوں کے، یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو یہ (منافقین) کہتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی (جنت میں ) ہے۔‘‘

وہ آیتیں جو ان کی وجہ سے نازل ہوئیں اور وہ پوری امت کے لیے عام ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ایک ہار عاریتاً لیا جو کھو گیا، چنانچہ رسول اللہﷺ نے چند لوگوں کو اس ہار کی تلاش میں روانہ کیا، راستے میں نماز کا وقت ہوگیا تو انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز پڑھ لی، جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے تو اس بارے شکایت کی، جس کے نتیجے میں اس موقع پر تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس پر اسید بن حضیر نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی تم کو کسی ناپسندیدہ چیز سے واسطہ پڑا تو اللہ نے تمہارے لیے اس سے نکلنے کا راستہ بنایا اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ حدیث: 3773)

7: رسول اللہﷺ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ حضرت عائشہؓ کے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے، آپﷺ کی وفات ان کے ہاتھوں میں ان ہی کے باری کے دن ہوئی، اور دنیا کے آخری لمحات میں اللہ نے ان دونوں کے تھوک کو جمع کر دیا، اور ان ہی کے گھر میں آپﷺ کی تدفین ہوئی۔ امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نبیﷺ کے پاس آئے، اس وقت میں اپنے سینے سے آپﷺ کو ٹیک لگائے ہوئے تھی، عبدالرحمٰن کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کر رہے تھے، رسول اللہﷺ نے ان کو گھور کر دیکھا، تو میں نے ان سے مسواک لیا اور اس کو خوب چبایا اور بہترین بنا کر نبیﷺ کو دیا، آپﷺ نے اس سے مسواک کیا۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب مرض النبیﷺ و وفاتہ: حدیث: 4438، یہی روایت دوسرے الفاظ اور دوسری سند کے ساتھ ابو علی محمد بن محمد اشعث کوفی کی کتاب ’’کتاب الأشعثیات‘‘ میں بھی ہے۔

8: رسول اللہﷺ نے یہ خبری دی کہ عائشہ جنتی ہیں۔

امام بخاریؒ نے قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور فرمایا: تم رسول اللہﷺ اور ابوبکر کے پاس سچی جانشین ہو کر جا رہی ہو۔ ابن عباسؓ کا قطعیت کے ساتھ ان کو جنتی کہنا اپنی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ حضورﷺ کے بتانے کی وجہ سے ہی ہوگا۔

امام بخاری رحمۃاللہ اور ترمذی نے عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمار کو فرماتے ہوئے سنا: یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔ 

(صحیح بخاری: فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ: حدیث: 3772، ترمذی: باب من فضل عائشۃؓ: حدیث: 3889، ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

9: حضرت عائشہ امت مسلمہ کی عورتوں میں سب سے بڑی عالمہ ہیں، انہوں نے نبی کریمﷺ سے بے شمار حدیثوں کو روایت کیا ہے، جن کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے، (سیدہ حضرت عائشہؓ نے 2210 حدیثیں روایت کی ہیں، ابو ہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کے بعد چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ روایتیں حضرت عائشہؓ ہی سے منقول ہیں۔ دیکھیے: أسماء الصحابۃ الرواۃ از: ابن حزم: صفحہ 39، ابن جوزی کی کتاب تلفیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 363)

اسی وجہ سے مسائل علمیہ میں کبار صحابہؓ ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور فتویٰ دریافت کرتے تھے۔

4: حفصہ بنت عمر بن خطاب عدویہ قریشیہ: یہ عبداللہ بن عمر کی علاتی بہن ہیں۔ ان کی ماں عثمان بن مظعون بن وہب بن حذافہ کی بہن زینب بنت مظعون ہیں۔ ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ بدری کے مدینہ میں انتقال ہونے کے بعد 3 ہجری کو آپﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی، یہ بڑی روزے دار اور بہت زیادہ نمازیں پڑھنے والی عورت تھی، ان کی پیدائش بعثت نبوی کے پانچ سال پہلے ہوئی اور وفات شعبان 45 ہجری میں ہوئی۔

حضرت حفصہ کے فضائل و مناقب:

1: اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت مدینہ سے مشرف ہوئیں، ابن سعد نے ابو الحویرث سے روایت کیا ہے کہ خنیس بن حذافہ (یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جنگِ بدر میں شریک ہوئے، جنگ احد میں زخمی ہوئے اور اسی زخم کی وجہ سے مدینہ میں انتقال کر گئے۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 134، الإصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 345) نے حفصہ بنت عمرؓ کے ساتھ شادی کی، وہ ان ہی کی زوجیت میں تھیں اور ان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔  (طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 81)

صفحہ 3 از 7