ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 7

1: نبی کریمﷺ کی زوجیت میں رہنے کی آپؓ خواہش مند اور حریص تھیں، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی، تاکہ آپﷺ کا تقرب اور محبت حاصل ہو اور جنت میں آپ کی بیوی بن کر رہیں۔

ابن سعدؓ نے طبقات میں لکھا ہے کہ حضرت سودہؓ نے نبی صلیﷺ سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ آپﷺ مجھ سے رجوع کر لیں، قیامت کے دن مجھے آپﷺ کی بیویوں میں اٹھایا جائے، آپﷺ نے ان سے رجوع کر لیا۔ 

(تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 54)

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا کہ سودہ بنت زمعہؓ نے اپنی باری عائشہ کو ہبہ کر دی، اور نبی کریمﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس ان کا دن اور سودہ کا دن گزارتے تھے۔ 

(صحیح بخاری: کتاب النکاح: باب المرأۃ تہب یومہا من زوجہا لضرتہا: حدیث: 5212)

2: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمنا کی کہ وہ رہن سہن میں ان کی طرح بن جائیں۔

امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے سودہؓ کے مقابلے میں کسی ایسی عورت کو نہیں دیکھا کہ ہر چیز میں جس کی طرح ہونا مجھے محبوب ہو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب النکاح: باب جواز ہبتہا نوبتہا لضرتہا: حدیث: 1463)

3: حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیقؓ: (ابوبکر کا نام عبداللہ بن عثمان تیمی قریشی ہے)، ان کی کنیت ام عبداللہ ہے، انہوں نے حضورﷺ سے کہا کہ وہ اپنی کنیت رکھنا چاہتی ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھانجے کے نام پر کنیت رکھو، چنانچہ انہوں نے ام عبداللہ کنیت رکھی، عبداللہ کے والد زبیر بن عوامؓ ہیں اور ان کی ماں اسماء بنت ابوبکرؓ ہیں، حضرت عائشہ کی ماں کا نام ام رومان بنت عامر بن عویمر کنانیہ ہے، بعثت نبویﷺ کے چار سال بعد ان کی پیدائش ہوئی، رسول اللہﷺ نے چھ سال کی عمر میں ان کے ساتھ شادی کی اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی، آپﷺ نے ان کے علاوہ کسی دوسری باکرہ لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کی، ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت نازل ہوئی، وہ حضرت خدیجہؓ کے بعد آپﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں اور امت کی عورتوں میں فقہ کی سب سے بڑی ماہر ہیں، اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پاس فتویٰ پوچھا کرتے تھے۔ 

(تفصیلات کے لیے بدر الدین زرکشی کی کتاب ’’الإجابۃ لإیرادما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ کی طرف رجوع کیا جائے۔)

آپﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، ان کی وفات 17 رمضان المبارک 58ھ میں ہوئی، حضرت ابوہریرہؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات کو جنت البقیع میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

• حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کے بہت سے فضائل اور مناقب کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: حضرت عائشہؓ حضرت خدیجہؓ کے بعد نبی کریمﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو غزوۂ ذات السلاسل کے لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، میں آپﷺ کے پاس آیا اور میں نے دریافت کیا: آپﷺ کا سب سے محبوب کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: عائشہ، میں نے دریافت کیا: مردوں میں؟ آپﷺ نے جواب دیا: اس کے والد۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب غزوۃ ذات السلاسل: حدیث: 4358)

2: رسول اللہﷺ کے ساتھ شادی سے پہلے ریشم کے کپڑے میں حضرت عائشہؓ کی تصویر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے پاس لے آئے۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے خواب میں تین راتوں تک تم کو دکھایا گیا، جبرئیل ریشم کے کپڑے میں تم کو لے کر میرے پاس آئے اور کہا: یہ تمہاری بیوی ہے، میں نے تمہارا چہرہ کھول کر دیکھا تو وہ تم تھی، میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو پورا کرو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب فضائل عائشۃ أم المؤمنین رضی اللہ عنہا حدیث: 2438)

3: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ سے ان کو اپنا سلام کہلوایا۔

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن فرمایا: عائشہ! یہ جبرئیل ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت ہو، آپ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشہؓ حدیث: 3768)

4: اس وقت رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوئی جب آپﷺ حضرت عائشہؓ کے بستر میں تھے۔ یہ خصوصیت امہات المؤمنین میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ام سلمہ! عائشہ کے سلسلے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے بستر میں وحی نازل نہیں ہوئی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ باب فضل عائشہؓ: حدیث: 3775)

5: جب اللہ کے رسول اور دنیوی زندگی کے درمیان انتخاب کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہؓ سے دو میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

آپﷺ نے حضرت عائشہؓ کو اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے لیے کہا: حضرت عائشہؓ نے اپنے والدین سے مشورہ کرنے سے پہلے ہی رسول اللہﷺ کا انتخاب کیا، بقیہ ازواجِ مطہراتؓ نے بھی ان ہی کی پیروی کی۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے کہا: میں کس سلسلے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں اللہ اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں، وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ کی بیویوں نے میری طرح ہی کیا۔ 

صفحہ 2 از 7