ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل - دفاعِ اہلِ سنت |…

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 7

1: خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، ’’قصی‘‘ نبی کریمﷺ کے جد امجد ہیں امہات المؤمنین میں سے حضرت خدیجہ اپنے والد کی طر ف سے آپ کے ساتھ نسب میں دوسری سب ازواج سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، قصی کی اولاد میں سے آپ نے ان کے علاوہ صرف ام حبیبہ بنت ابو سفیان کے ساتھ شادی کی ہے۔ 

(ام حبیبہؓ کا نسب حضورﷺ کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ جا کر ملتا ہے، اور حضرت عائشہؓ کا قصی کے ساتھ ملتا ہے، جبکہ باقی ازواج مطہراتؓ کا نسب قصی کے بعد مرہ، کعب، لوئی، خزیمہ، الیاس اور مضر کے ساتھ ملتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ کا شمار نسب کے اعتبار سے قریش کے متوسط خاندان میں ہوتا ہے، آپؓ بڑی باعزت اور مالدار عورت تھیں، جب رسول اللہﷺ کی عمر پچیس سال کی تھی تو آپﷺ کی شادی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہوئی، آپﷺ سے پہلے ان کی شادی ہالہ بن نباش بن زرارہ تمیمی کے ساتھ ہوئی تھی، جن کے انتقال کے بعد آپﷺ نے شادی کی۔

حضرت خدیجہؓ آپﷺ پر ایمان لے آئیں اور دعوتی کاموں میں آپﷺ کا تعاون کیا، یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ تمام عورتوں پر ان کو فضیلت دیتے تھے، (یعنی اپنے زمانے کی سب عورتوں پر ان کو فوقیت دیتے تھے، کیونکہ وہ دنیا کی تمام عورتوں کی چار سردار عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ چار عورتیں یہ ہیں: فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، مریم بنت عمران، خدیجہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہن)

سوائے ابراہیم کے آپﷺ کی تمام اولاد ان ہی کے بطن سے ہوئی، ابراہیم حضرت ماریہؓ کے بطن سے ہوئے، رسول اللہﷺ نے ان کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کی، جب ہجرت سے تین سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا تو دوسری شادی کی۔ 

حضرت خدیجہؓ کے جلیل القدر فضائل اور عظیم مناقب ہیں، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: سیدہ خدیجہؓ کا شمار سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں، ان کو اس کا بھی اجر ملے گا اور ان کے بعد ایمان لانے والے ہر شخص کا اجر بھی ملے گا۔ (کیونکہ آپؓ عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والی ہیں اور جو کوئی بہتر طریقہ رائج کرتا ہے تو اس کو اس کا اجر ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والے کا بھی اجر ملتا ہے، بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو اتنا ہی اجر و ثواب ملتا ہے، جتنا کرنے والے کو ملتا ہے، اور جو کوئی ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے بقدر بلانے والے کو بھی اجر ملتا ہے، لیکن ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس موضوع کی تفصیلات کے لیے رجوع کیا جائے: فتح الباری: باب فضائل خدیجۃ: نہایۃ الإیجاز فی سیرۃ ساکن الحجاز للطحطاوی: شرح مسلم از: نووی)

2: ان کی موجودگی میں آپﷺ نے دوسری شادی نہیں کی، وہ آپﷺ کی ازدواجی زندگی کے اڑتیس سالوں میں سے پچیس سال تک آپ کی زوجیت میں تن تنہا رہی، اس طرح آپﷺ کی دو تہائی ازدواجی زندگی ان کے ساتھ گزری۔

3: سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی محبت عطیہ خداوندی تھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب من فضائل خدیجۃ رضی اللہ عنہا حدیث نمبر: 2435، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات ہے کہ کس طرح اللہ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کی محبت رسول اللہﷺ کو عطا ہوئی تھی۔

4: آپﷺ ان کا کثرت سے تذکرہ کرتے تھے، ان کا ذکر خیر کرتے تھے، ان کی تعریف کرتے تھے اور ان کے ساتھ محبت اور مودت کے تعلقات کو بیان کرتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: مجھے نبی کریمﷺ کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی مجھے حضرت خدیجہؓ پر آئی، کیونکہ آپ ان کا تذکرہ کثرت سے کیا کرتے تھے، حالانکہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل باب من فضائل خدیجہؓ حدیث: 2435)

5: وہ امت محمدیہﷺ کی سب سے بہترین عورت ہیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بہترین عورت مریم ہیں اور بہترین عورت خدیجہ ہیں۔ 

(صحیح بخاری: کتاب مناقب الأنصار: باب تزویج النبیﷺ حدیث: 3815)

6: اللہ کی طرف سے سلام اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت جہاں نہ شور شرابہ ہوگا اور نہ کوئی تھکن۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے ساتھ سالن کا ایک برتن ہے، جب وہ آپﷺ کے پاس آئیں تو ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہیے اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت دیجیے جہاں نہ کوئی شور شرابہ ہو گا اور نہ کوئی تھکن ہوگی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المناقب الانصار: باب تزوج النبیﷺ وفضلہا رضی اللہ عنہما حدیث: 3820)

7: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی، ان کے علاوہ کسی دوسرے کے بطن سے اولاد نہیں ہوئی۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی جبکہ ان کے علاوہ سے اولاد نہیں دی۔ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث: 22۔ باب ذکر أزواج النبیﷺ ومنہن خدیجۃ بنت خویلد: جلد 23 صفحہ 13) 

2: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی بن غالب بن فہر، ان کی ماں شموس بنت زید بن عمرو انصاریہ ہیں۔ نبی کریمﷺ سے پہلے ان کی شادی سکران بن عمرو سے ہوئی، سودہ نے نبی کریمﷺ سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے حضرت ابن عباس، یحییٰ اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے، مکہ میں بہت پہلے ہی اسلام قبول کیا، انہوں نے اور ان کے شوہر نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی، وہیں پر ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ 

(تہذیب التہذیب از: ابن حجر عسقلانی: جلد 12 صفحہ 455)

یہ پہلی عورت ہیں جن کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے بعد حضورﷺ نے شادی کی، مکہ ہی میں یہ شادی ہوئی، اس کے بعد تقریباً چار سال تک آپﷺ نے شادی نہیں کی، صرف سودہ ہی آپ کی اس مدت کے دوران بیوی تھیں، یہ بڑی محترم اور شریف عورت تھیں۔ ان کی وفات راجح قول کے مطابق حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت کے آخری سالوں میں 55 ہجری میں ہوئی۔ 

حضرت سودہؓ کے فضائل اور مناقب:

صفحہ 1 از 7