شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 8 از 9

اس روایت میں فدک کا ہبہ ہونا مذکور ہےاگرچہ روایت بھی ضعیف ہے لیکن قطعہ نظر اس کے، یہ مناظرہ  سیدہ فاطمہ کے مطالبہ میراث  پر ہو رہا تھا۔ شیعہ مناظر کو جو پرسنل میں ملتا ، کاپی پیسٹ کر کے چھاپ دیتا۔ چاہے وہ زیر بحث ہو نہ ہو! کاپی پیسٹ مناظر!


 
   

  روايت سوم: نقل جوہری (م323هـ) از ہشام ابن محمد عن ابيہ:جوہری نے نقل کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) ابوبکر کے پاس آئیں لیکن اس نے فدک واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر حضرت زہرا (س) نے شدید غصے کی حالت میں فرمایا: خدا کی قسم میں تم پر نفرین کرتی ہوں.

و روى هشام بن محمد، عن أبيه قال: قالت فاطمة، لأبي بكر: إن أم أيمن تشهد لي أن رسول الله صلى الله عليه و آله، أعطاني فدك، فقال لها: يا ابنة رسول الله، و الله ما خلق الله خلقا أحب إلي من رسول الله صلى الله عليه و آله أبيك، و لوددت أن السماء وقعت على الأرض يوم مات أبوك، و الله لأن تفتقر عائشة أحب إلي من أن تفتقري، أتراني أعطي الأحمر و الأبيض حقه و أظلمك حقك، و أنت بنت رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم، إن هذا المال لم يكن للنبي صلى الله عليه و آله و سلم، و إنما كان مالا من أموال المسلمين يحمل النبي به الرجال، و ينفقه في سبيل الله، فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم وليته كما كان يليه.

قالت: و الله لا كلمتك أبدا، قال: و الله لا هجرتك أبدا، قالت: و الله لأدعون الله عليك، قال: و الله لأدعون الله لك، فلما حضرتها الوفاة أوصت ألا يصلي عليها، فدفنت ليلا، و صلى عليها عباس بن عبد المطلب، و كان بين وفاتها و وفاة أبيها اثنتان و سبعون ليلة.

[حضرت] فاطمہ [سلام الله علیہا] نے ابوبكر سے کہا: ام ایمن میرے لیے گواہی دیتی ہے کہ خود رسول خدا نے فدک مجھے بخشا ہے۔ ابوبکر نے کہا: ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم خداوند نے تیرے باپ کے علاوہ میرے نزدیک کسی کو محبوب تر خلق نہیں کیا، میں چاہتا تھا کہ اسکی رحلت کے دن، آسمان زمین پر آ گرتا، اگر عائشہ محتاج اور فقیر ہو جائے تو یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے کہ تم محتاج اور فقیر ہو جاؤ۔کیا آپکا یہ گمان ہے کہ میں گورے اور کالے کو تو دیتا ہوں اور آپکے حق میں ظلم کرتا ہوں ؟ حالانکہ آپ تو رسول خدا کی بیٹی ہیں ؟ یہ مال (فدک) تو رسول خدا کا نہیں تھا بلکہ مسلمین کا مال ہے کہ جو وہ لے کر اس (رسول خدا ) کے لیے لاتے تھے اور رسول خدا اس مال کو راہ خدا میں خرچ کرتے تھے۔ اب جبکہ وہ وفات پا گئے ہیں، اس مال کا میں ذمہ دار ہوں، جیسے کہ وہ ذمہ دار تھے۔حضرت زہرا نے فرمایا: خدا کی قسم آج کے بعد میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تو تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔ جب بی بی کی وفات کا وقت آن پہنچا تو انھوں نے وصیت کی کہ ابوبکر میری نماز جنازہ میں شریک نہ ہو، پس وہ رات کے اندھیرے میں دفن ہوئی اور عباس ابن عبد المطلب نے اس پر نماز پڑھی۔ رسول خدا اور اسکی وفات کے درمیان 72 راتوں کا فاصلہ تھا۔

الجوهري، أبي بكر أحمد بن عبد العزيز (متوفي323هـ)، السقيفة وفدك، ص 104، تحقيق: تقديم وجمع وتحقيق: الدكتور الشيخ محمد هادي الأميني، ناشر : شركة الكتبي للطباعة والنشر - بيروت – لبنان۔


اس روایت میں  بھی فدک کا ہبہ ہونا مذکور ہےاگرچہ روایت بھی ضعیف ہے لیکن قطعہ نظر اس کے، یہ مناظرہ  سیدہ فاطمہ کے مطالبہ میراث  پر ہو رہا تھا۔ شیعہ مناظر کو جو پرسنل میں ملتا ، کاپی پیسٹ کر کے چھاپ دیتا۔ چاہے وہ زیر بحث ہو نہ ہو! کاپی پیسٹ مناظر!



نوٹ:اس اشکال کا جواب اگرچہ دوران مناظرہ نہیں دیا گیا لیکن عوام الناس کی آگاہی کے لئے  ایک کتاب کے چند پیجز پیش کئے جاتے ہیں جن میں  اس روایت کا   مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔


یہ فریق مخالف کا ذمہ ہے کہ دلیل کا علمی رد کرے اگر یہ روایت ضعیف ہے تو ثابت کرے اور اس کی بھی وضاحت کرے کہ شیعہ ابن میثم بحرانی نے یہ روایت تردید کرتے ہوئے بیان کی ہے یا اسے تسلیم کرتے ہوئے شرح نہج البلاغہ میں شامل کیا ہے۔ کیا ابن میثم بحرانی ناراضگی سیدہ فاطمہ کو تسلیم کرتا تھا؟


 
   

مشہور شیعہ فاضل ابن میثم بحرانی اور نہج البلاغہ کی شرح میں سیدہ فاطمہ کا راضی ہونا مذکور:  پوری سند کے ساتھ پیش کرتے تو اپ کی علمی امانتداری کا ثبوت ہوتا۔

 

اعتراض: شیعہ مناظر کے اسکین میں کہاں لکھا ہے کہ عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہے۔امام معصوم کے قول کا رد کریں۔


 


غور فرمائیں!شیعہ مناظر  اس اسکین سے عورت کا غیر منقولہ جائیداد کا وارث ہونا ثابت کر رہا ہے! دلیل دیکھیں۔ استدلال دیکھیں اور اشکال کا جواب نیچے دیکھیں۔



غور فرمائیں! دلشاد صاحب کے نزدیک وراثت پر سوالات بحث خراب کرنے کے لئے ہیں کیونکہ ان سوالات کے جوابات دینے سے حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے اور شیعہ ڈرامہ فلاپ ہوجائے گا!

سنی مناظر کے سوالات عین موضوع کے مطابق تھے، شیعہ مناظر کو کسی نے پرسنل میں مدد کی ہوتی تو فوراّ کاپی پیسٹ کرچکا ہوتا!


 
   

شیعہ مناظر: جواب دے چکا ہوں.بحث نبی کی بیٹی کی وراثت کا ہے ان کی زوجہ کی وراثت کا نہیں۔باقی وراثت کے سلسلے کے سارے سوالات بحث کو خراب کرنے کے لیے ہیں لہٰذا !

عورت/بیوی زمین کی وارث نہیں ہوتی(چار صحیح روایات بمعہ توثیق) : وضاحت دے چکا۔عجیب  منطق۔کسی روایت کا صحیح سند ہونا اس کی حجیت کے لیے کافی نہیں۔ روایت کا مضمون بھی دیکھا جاتا ہے۔ راوی ثقہ ہونے کا معنی راوی کا معصوم ہونا نہیں جیساکہ اپ نے زہری کے بارے لمبی لمبی تحریروں میں قرآنی آیات کا سہارا لیا لیکن مسئلہ سادہ تھا۔ثقہ ہونے کا یہ معنی نہیں ہے اس کی روایت کا مضمون بھی عین حقیقت ہو۔ راوی ثقہ ہے ممکن ہے کسی وجہ سے غلط مضمون نقل کیا ہو لہٰذا ممکن ہے راوی ثقہ ہونے کی وجہ سے روایت کی سند صحیح کہلائے لیکن قرآنی حکم سے ٹکراؤ کی وجہ  سے اس کے مضمون  کو قبول نہ کیا جائے  لہٰذا سند صحیح کہنے سے مجلسی ہو یا بخاری گناہ گار تو نہیں ہوگا۔


صفحہ 8 از 9