شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 7 از 9

اکٹھے (حضرت) فاطمہ کے پاس چلتے ہیں کیونکہ ہم نے اسے غصہ دلایا ہے۔ وہ دونوں (ابوبکر و عمر) (حضرت) فاطمہ کے پاس آئے اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، لیکن بی بی نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ وہ دونوں (حضرت) علی (ع) کے پاس آئے اور انکو ساری بات بتائی۔ [حضرت علی] ان دونوں کو لے کر [حضرت فاطمہ] کے پاس آئے۔ جب وہ دونوں بی بی کے پاس بیٹھے تو بی بی نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا، ان دونوں نے بی بی کو سلام کیا لیکن بی بی نے سلام کا جواب نہ دیا۔ ابوبکر نے بات شروع کرتے ہوئے کہا: اے رسول خدا کی پیاری بیٹی ! خدا کی قسم رسول خدا کی قرابت میری نظر میں، میری قرابت سے محبوب تر ہے اور آپ میرے لیے میری بیٹی عائشہ سے بھی زیادہ محبوب ہیں، میں چاہتا تھا کہ آپکے والد کی وفات کے بعد میں بھی دنیا میں نہ رہتا اور میں بھی مر جاتا۔آپکا خیال ہے کہ میں نے آپکو اور آپکی فضیلت کو جاننے کے باوجود بھی آپکو آپکے حق اور والد کی میراث سے منع کیا ہے، نہیں بلکہ میں آپکے والد سے ایک روایت کو سنا تھا کہ: ہم انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے بلکہ جو چھوڑتے ہیں، وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔حضرت زہرا (س) نے فرمایا: تم دونوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہارے لیے رسول خدا کی ایک روایت کو نقل کروں تو کیا تم اسے قبول کر لو گے اور اس پر عمل کرو گے ؟ دونوں نے کہا: ہاں،بی بی نے فرمایا: میں تم کو خدا کی قسم دیتی ہوں کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول خدا نے فرمایا تھا: فاطمہ کا راضی ہونا، میرا راضی ہونا ہے اور فاطمہ کا غصہ کرنا، میرا غصہ کرنا ہے، پس جو بھی میری بیٹی فاطمہ سے محبت کرے گا تو اس نے مجھ سے محبت کی ہے اور جو بھی اسے خوش کرے گا تو اس نے مجھے خوش کیا ہے اور جس نے بھی اسے غصہ دلایا تو اس نے مجھے غصہ دلایا ہے۔یہ سن کر دونوں نے کہا: ہاں، ہم نے اس روایت کو رسول خدا سے سنا ہے، پھر بی بی نے فرمایا: میں خداوند اور اسکے ملائکہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غصہ دلایا ہے اور مجھے راضی نہیں کیا۔ میں جب بھی رسول خدا سے ملاقات کروں گی تو تم دونوں کی شکایت کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: اے فاطمہ ! میں رسول خدا اور تیرے غصے سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں، پھر اس نے رونا شروع کر دیا، ایسے رویا کہ نزدیک تھا کہ اسکے بدن سے جان ہی نکل جاتی۔پھر فاطمہ زہرا (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں اپنی ہر نماز میں تمہارے لئے بد دعا کروں گی، پھر ابوبکر روتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ لوگ اسکے گرد جمع ہو گئے اور اس نے لوگوں سے کہا: آج رات تم لوگ اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ جا کر سکون کی نیند سو جاؤ اور خوش رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو کہ مجھے تمہاری بیعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري الوفاة: 276هـ. الإمامة و السياسة  ج 1 ص 17، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م، تحقيق: خليل المنصور.


 شیعہ مناظر دلشاد نے مناظرے میں ایک مشہور زمانہ متنازعہ کتاب الامامت والسیاست سے من گھڑت واقعہ پیش کردیا۔ اسے یہ تک علم نہیں کہ مناظروں میں مسالک کی معتبر کتب سے دلائل دئے جاتے ہیں۔! 


 
   

روايت دوم نقل بلاذری (م279هـ) از موسی ابن عقبہ:

اہل سنت کے مشہور و معروف عالم بلاذری نے بھی حضرت زہرا (س) کے ابوبکر پر نفرین کرنے کی روایت کو ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

الْمَدَائِنِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ مَوْلَى خُزَاعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ : دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ حِينَ بُويِعَ. فَقَالَتْ: إِنَّ أُمَّ أَيْمَنَ وَ رَبَاحًا يَشْهَدَانِ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَعْطَانِي فَدَكَ . فَقَالَ : وَ اللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَبِيكِ ، لَوَدِدْتُ أَنَّ الْقِيَامَةَ قَامَتْ يَوْمَ مَاتَ، وَ لَأَنْ تَفْتَقِرَ عَائِشَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَقِرِي، أَفَتَرَيْنِي أُعْطِي الأَسْوَدَ وَ الأَحْمَرَ حُقُوقَهُمْ وَ أَظْلِمُكِ وَ أَنْتِ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ إِنَّمَا كَانَ لِلْمُسْلِمِينَ ، فَحَمَّلَ مِنْهُ أَبُوكِ الرَّاجِلَ وَيُنْفِقُهُ فِي السَّبِيلِ، فَأَنَا إِلَيْهِ بِمَا وَلِيَهُ أَبُوكِ، قَالَتْ: وَ اللَّهِ لا أُكَلِّمُكَ قَالَ: وَ اللَّهِ لا أَهْجُرُكِ. قَالَتْ: وَ اللَّهِ لأَدْعُوَنَّ اللَّهَ عَلَيْكَ. قَالَ: لأَدْعُوَنَّ اللَّهَ لَكِ.

موسی ابن عقبہ کہتا ہے: حضرت فاطمہ (س) بیعت کے وقت ابوبکر کے پاس گئیں اور اس سے فرمایا: ام ایمن اور رباح میرے لیے گواہی دیتے ہیں کہ رسول خدا نے فدک مجھے بخشا ہے۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم خداوند نے تیرے باپ کے علاوہ میرے نزدیک کسی کو محبوب تر خلق نہیں کیا، میں چاہتا تھا کہ اسکی رحلت کے دن، قیامت برپا ہو جاتی۔ اگر عائشہ محتاج اور فقیر ہو جائے تو یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے کہ تم محتاج اور فقیر ہو جاؤ۔کیا آپکا یہ گمان ہے کہ میں سیاہ فام اور سرخ فام لوگوں کو تو دیتا ہوں اور آپکے حق میں ظلم کرتا ہوں ؟ حالانکہ تم رسول خدا کی بیٹی ہو۔ یہ مال، مسلمین کا ہے، (یعنی بیت المال اور سب کا ہے)، تمہارے والد اس مال کو جنگ کے لیے شتر سواروں پر راہ خدا میں خرچ کرتے تھے، میں بھی وہی کام انجام دوں گا کہ جسے تمہارے والد انجام دیتے تھے، (یعنی تمہیں کچھ نہیں دوں گا، حالانکہ تمہارا ہی یہ حق و مال ہے)، انھوں (حضرت زہرا) نے فرمایا: خدا کی قسم آج کے بعد میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تو تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص 79، تحقيق: سهيل زكار ورياض الزركلي. الناشر: دار الفكر – بيروت. الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.


صفحہ 7 از 9