شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 9

اس کے کچھ اسناد کل کی لنک  میں ملاحظہ کرنا۔جناب۔ لالچی والی بات کر کے مجھے مزید اسناد پیش کرنے پر مجبور نہ کرنا۔ آپ کئی دفعہ ڈیڈ لائن دے چکے ہیں اور میں بھی کئی دفعہ جواب دے چکا ہوں۔ لہذا ان باتوں کے ذریعے اصل بحث سے نکلنے کی زحمت نہ کرنا۔


اہل سنت مؤقف عین قرآن و احادیث نبوی کے مطابق بلکہ شیعہ معتبر کتب کے مطابق اور شان اہل بیت کے مطابق ہے۔ شیعہ مؤقف قرآن و احادیث کے خلاف تو ہے ہی لیکن شیعہ معتبر کتب سے بھی ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس مؤقف سےشان اہل بیت بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے!


 
   

 اصول کافی میں امام کےصحیح قول سے نبی کی مالی وراثت کی نفی کہاں سے آگئی: جناب آپ لوگوں سے یہ بعید  نہیں ۔جنگ صفین میں ہزاروں لوگوں کے قتل اور عمار یاسر اور ذولشھادتین جیسے بہت سے اصحاب کی شہادت کو انڈیا  اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ ،کبڈی، بھینسوں کے دوڑ کے مقابلے میں بگھدڑ مچنے کی وجہ سے مرنے  والوں سے بھی کم اہمیت دیتے ہیں اور حقیقت کو چھپاتے ہیں  تو جناب زہرا ع کی ناراضگی کو عام عورت کی ناراضگی یا نعوذ با اللہ ابن تیمیہ کی طرح دنیا پرستی اور منافقانہ کام سے تشبیہ دینا یا ابن عثیمین کی طرح ان کو اس وقت عقل سے عاری  سمجھنا   یہ تو!!!

 

سیدہ  فاطمہ کا  شیخین سے راضی ہونا:  اس کا جواب اوپر دے چکا ہوں ۔ ساری مرسل روایات ہیں اور مرسل کا مقابلہ مرسل سے کرنے کے لیے ملاحظہ فرمانا۔

 روايت اول: نقل ابن قتيبہ از عبد الله ابن عبد الرحمن انصاری: ابن قتيبہ نے كتاب الامامة و السياسة میں سقيفہ کے ماجرا  کو مستقل عنوان «ذكر السقيفة و ما جرى فيها من القول» کے ساتھ ذکر کیا ہے اور پھر اس طولانی روایت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:و حدثنا قال و حدثنا ابن عفير عن أبي عون عن عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري رضي الله عنه أن النبي عليه الصلاة والسلام لما قبض اجتمعت الأنصار رضي الله عنهم إلى سعد بن عبادة۔

عبد الرحمن انصاری کہتا ہے: جب رسول خدا دنیا سے گئے تو انصار سعد ابن عبادہ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔

ابتدائے روایت سے لے کر یہاں تک، انصار کے آپس میں اختلاف کرنے، اور انکے سعد ابن عبادہ کے پاس اکٹھے ہونے، بعض مہاجرین کے ابوبکر کی بیعت کرنے، امیر المؤمنین اور بنی ہاشم کے بیعت نہ کرنے، بیت وحی پر حملہ کرنے، حضرت زہرا کی حرمت پامال کرنے اور امیر المؤمنین کو زبردستی مسجد نبوی میں لے جانے والے تمام حوادث کو تفصیل سے نقل کیا ہے، جب یہاں پہنچتا ہے کہ عمر نے ابوبکر سے کہا:

انطلق بنا إلى فاطمة فأنا قد أغضبناها فانطلقا جميعا فاستأذنا على فاطمة فلم تأذن لهما فأتيا عليا فكلماه فأدخلهما عليها فلما قعد عندها حولت وجهها إلى الحائط فسلما عليها فلم ترد عليهما السلام فتكلم أبو بكر فقال يا حبيبة رسول الله و الله إن قرابة رسول الله أحب إلي من قرابتي و إنك لأحب إلى من عائشة ابنتي و لوددت يوم مات أبوك أني مت و لا أبقى بعده أفتراني أعرفك و أعرف فضلك و شرفك و أمنعك حقك و ميراثك من رسول الله إلا أني سمعت أباك رسول الله يقول (لا نورث ما تركنا فهو صدقة) فقالت أرأيتكما إن حدثتكما حديثا عن رسول الله تعرفانه و تفعلان به قالا نعم. فقالت نشدتكما الله ألم تسمعا رسول الله يقول (رضا فاطمة من رضاي وسخط فاطمة من سخطي فمن أحب فاطمة ابنتي فقد أحبني و من أرضى فاطمة فقد أرضاني ومن أسخط فاطمة فقد أسخطني) قالا نعم سمعناه من رسول الله قالت فإني أشهد الله و ملائكته أنكما أسخطتماني وما أرضيتماني و لئن لقيت النبي لأشكونكما إليه فقال أبو بكر أنا عائذ بالله تعالى من سخطه و سخطك يا فاطمة ثم انتحب أبو بكر يبكي حتى كادت نفسه أن تزهق و هي تقول و الله لأدعون الله عليك في كل صلاة أصليها ثم خرج باكيا فاجتمع إليه الناس فقال لهم يبيت كل رجل منكم معانقا حليلته مسرورا بأهله و تركتموني و ما أنا فيه لا حاجة لي في بيعتكم أقيلوني بيعتي.

صفحہ 6 از 9