شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 9

لہذا اپکی لمبی تحریر کا نتیجہ 0. اب آپ کو کچھ نمونے اپ کی کتابوں سے پیش کرتا ہوں۔

علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں

رسول خدا ﷺنے علماء کو انبیاء کے وارث کہا ہے اور علماء کو اپنا وارث قرار دیا ہے ۔ جیساکہ رسول خدا ﷺ   کے کلام سے ہی واضح ہے کہ ، یہاں وراثت سے مراد علم کی وراثت ہے ،مالی اور مادی وراثت مراد نہیں ہے۔بخارى میں ہے :

أَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ - وَرَّثُوا الْعِلْمَ - مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

علماء انبیاء کے وارث ہیں ، علماء کو ان سے علم کی وراثت ملتی ہے، جس کو یہ وراثت نصیب ہو  اس نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 1، ص 37، كتاب العلم، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

 اسی حدیث کو  احمد حنبل نے معمولی اختلاف کے ساتھ ذکر کیا ہے:

  إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ ۔۔

علماء، انبیاء کے وارث ہیں،علماء کو انبیاء سے درہم اور دینا ارث میں نہیں ملتا ۔ علماء انبیاء کے علم کے وارث ہیں ۔

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 5، ص 196، ح21763، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر.


انبیائے کرام کی میراث علمی ہوتی ہے اس کا انکار کس نے کیا؟

یہ حدیث بھی اہل سنت مؤقف کی تائید میں ہے۔اب اس کوڑھ مغز کو کون سمجھائے کہ اہل سنت و اہل تشیع کے مابین اصل اختلاف انبیائے کرام کی مالی وراثت کے نہ ہونے کے متعلق ہے۔


 
   

 کیا   اس حدیث اور حدیث "نحن الانبیاء لا نورث" کے درمیان کوئی ربط ہے؟

 اب آپ خود ہی دقت کریں  آپ کے علماء نے ان احادیث کو کس باب میں ذکر کیا ہے اس اس کی کیا تشریح کی ہے۔مکمل حدیث دیکھنا۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي اَلْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولاً يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ اَلْغَالِينَ وَ اِنْتِحَالَ اَلْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ اَلْجَاهِلِينَ .

الجزء الأول  كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ  بَابُ صِفَةِ اَلْعِلْمِ وَ فَضْلِهِ وَ فَضْلِ اَلْعُلَمَاءِ..

 اب روایت میں ایک قرینہ نہیں کئی قرائن ایسے ہیں جن سے واضح ہوجاتی ہے کہ اس حدیث کا معنی وہی ہے جو اوپر اسی جیسی احادیث  (نوٹ:شیعہ کی صحیح روایت)کا ہے  لہذا اس کا نحن معاشر  سے کوئی تعلق نہیں۔


غور فرمائیں۔ مناظرہ ابھی چل رہا ہے اور سنی مناظر کے چیلینج کو قبول کرنے کے بجائے شیعہ مناظر فرما رہا ہے کہ وہ دن گذر گیا اب اس پر بحث نہیں ہوگی۔ اسے یہ یاد ہے کہ موصوف نے توفیق الباری کے ترجمے کو غلط قرار دیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ سنی مناظر نے اس پر بھی ان سے صحیح ترجمہ اور غلطی کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کیا تھا! وہ نہ اسے یاد ہے اور نہ کبھی پیش کرے گا! کاپی پیسٹر کے پاس ذاتی تاویلات کے سوا کچھ نہیں تھا! اس کے نزدیک صرف یہ کہنا کافی ہے کہ ترجمہ غلط ہے! اسکین میں عورت کا زمین کی وارث ہونا موجود ہے!یہ میری دلیل ہے ، استدلال خود کریں! ترجمہ کسی سے پوچھ لیں! فلاں پیجز کے آگے چند پیجز پڑھ لیں حقیقت روشن ہوجائے گی!! وغیرہ وغیرہ


 
   

سنی مناظر کا چیلینج: کسی ایک عالم کا قول اور اسکین رکھ کر ثابت کریں کہ وہ عالم سیدہ  فاطمہ کی شدید ناراضگی تسلیم کرتا تھا اور اس کا رد بیان نہیں کیا ہے:   ا س پر اسکین دے چکا ہوں اسی دن آپ مجھ سے بحث کا مطالبہ کرتے۔آپ نے تو اس کے رد میں اسکین بھیجے وہ بھی خود آپ کے خلاف نکلا۔ غلط ترجمے کے ساتھ۔یاد ہے؟

 

 جناب یہی آپ کا مغالطہ اور اصل بحث کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کا نتیجہ تو ہے۔ آپ نے خود ہی اسکین ہماری کتاب  سے پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ بیٹی کو ماترک جو بھی ہو اس کی وراثت مل جاتی ہے۔آگے بیوی کوزمین کی وراثت ملنا یا نہ ملنا اس کا موضوع سے کیا تعلق ہے۔میں کیا جناب عائشہ کی وکالت کر رہا ہوں۔ جناب ان کی وکالت کی ضرورت نہیں انہیں تو سب مل گیا حتیٰ کہ  خلیفہ دوم نے خیبر کی زمین بھی انہیں دے دی۔مسئلہ نبی کی بیٹی کا ہے، کیا  آپ موضوع بھی بھول گئے ہو۔

اب شیعہ روایت میں زمین کا حصہ بیوی کو نہ ملنے کا حکم ہو اور آپ کے بقول یہ نص قرانی کے خلاف ہو تو بھی اس کا ہمارے موضوع سے کیا تعلق جناب ۔ قرآن میں باپ سے بیٹی کو وراثت ملنے کا حکم ہے۔کیا رسول اللہ ﷺ جناب فاطمہ ع کے  والد نہیں؟ کیا رسول اللہ ﷺ  قرآنی حکم کی مخالفت کرسکتے ہیں؟ قرآن میں انبیاء کی اولاد کو وراثت ملنے کا حکم ہے لیکن آپ کے علماء میں سے بعض ابن عباس کے نظریے کے خلاف اس کا معنی اسی حدیث کے مطابق کرنے کی کوشش(تفسیر بالرائے ) کریں  تو مجرم کون ہے؟؟فاین تذھبون۔

 دس دفعہ پہلے  دھرا چکا ہوں آج پھر دہرایا ہوں۔جب تک جواب نہ دو گے دہراتا رہوں گا۔


وہی ڈھاک کے تین پات

دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے مجال ہے جو شیعہ کی کھوپڑی میں کوئی ھدایت کا نکتہ بیٹھ جائے! بیشک جسے اللہ عزوجل چاہے اسے ہی ہدایت مل سکتی ہے!


 
   

قرآن میں نبی کی مالی ملکیت کا حکم ہوتا تو حضرت ابوبکر فوراَ   دے دیتے :  یہ اعتراض شیعوں پر کر رہے ہو یا نبی کی بیٹی اور مولی علی پر؟ جناب کب تک ان باتوں کے ذریعے نقاب ڈال کر لوگوں کو گمراہ کرتے رہو گے۔مطالبہ بھی کیااور مطالبہ منظور نہ ہونے کی وجہ  سے بائیکاٹ اور نماز میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

 

صفحہ 5 از 9