شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 9

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 2، ص 820، ح2203، كِتَاب الْمُزَارَعَةِ، بَاب الْمُزَارَعَةِ بِالشَّطْرِ وَنَحْوِهِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987 .


شیعہ مناظر کا دجل

اگر باب کا نام ہی شیعہ دلشاد پڑھ لیتا تو کبھی یہ حدیث پیش نہ کرتا۔ اسے پرسنل میں دلائل دینے والا ہی شیعیت کا جنازہ نکالنے والا اور اس کا دوست نما دشمن تھا!یہ باب درحقیقت زمین مزارعے یعنی کرائے پر دینے کے متعلق ہے۔ کیا مزارعے پر لینے والا زمین کا مالک بن جاتا ہے؟حدیث پر ہی غور کر لیں کیا مالک سے پوچھا جاتا ہے کہ پہلی صورت برقرار رکھی جائے یا اس کا پانی اور قطعہ زمین دیا جائے؟ یعنی خود ہی کاشت کر کے اپنا حصہ لینا چاہیں تو لے سکتی ہیں جبکہ زمین وقف ہی رہے گی۔


 
   

یہ جو خیبر کے اموال سے بیویوں کو دیتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسول اللہ کے ذاتی اموال میں سے تھا اگر رسول اللہ  کے تمام اموال آپ کے بعد صدقہ اور عمومی اموال شمار ہوتے  تھے تو عمر نے کیوں اس کو ازواج میں تقسیم کیا ؟ اگر ارث تھا تو کیوں رسول اللہ  کی بیٹی کو ارث سے محروم کیا ؟

 

 جناب خلیفہ دوم کی طرف سے ایک اور مخالفت۔

... فَقَالَ عُمَرُ... هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَفْسَهُ.

عمر (نے اپنے پاس موجود افراد کے ایک گروہ سے کہا ): کیا جانتے ہو  رسول اللہ صلى الله عليه و سلّم کے اس فرمان : « ہم انبیاء سے کوئی ارث نہیں لے سکتا» کا مطلب خود رسول اللہ  صلى الله عليه و سلّم  ہی ہیں .

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

 جناب عائشہ بھی حدیث کا وہ معنی نہیں لیتی جو آپ لوگ لیتے ہیں ۔ 


یہ حدیث بھی اہل سنت مؤقف کی تائید میں ہے۔ شیعہ مؤقف کیسے ثابت ہوگیا؟ ہم یہی تو کہتے ہیں کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی اور اس میں نبیﷺ بھی شامل ہیں۔ شیعہ مناظر دلشاد آسان باتیں بھی سمجھنے سے قاصر تھے! بس جو پرسنل میں دلیل بھیج دیتا وہ مناظرے میں کاپی پیسٹ کرتا رہا !!


 
   

... أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها – زَوْجَة النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - تَقُولُ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - عُثْمَانَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ أَلاَ تَتَّقِينَ اللَّهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَقُولُ « لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ـ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ ـ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ عائشہ سے نقل ہوا ہے: آنحضرت صلى الله عليه و آلہ و سلّم کے ازواج نے عثمان کو ابوبكر کے پاس بھیجا اور  رسول اللہ کے اموال سے ازواج کے حصے کا مطالبہ کیا ،میں نے ان کو اس کام سے منع کیا اور کہا :اللہ سے نہیں ڈرتی ہو ؟ کیا تم لوگوں کو یہ حکم معلوم نہیں ہے؟ رسول للہ صلی للہ علیہ و آلہ نے فرمایا : ہم انبیاء سے کوئی ارث نہیں لے سکتے جو ہم چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہوگا اور آپ نے انبیاء سے مراد خود کو ہی قرار دیا ہے .

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987


یہ حدیث بھی اہل سنت مؤقف کی تائید میں ہے۔ شیعہ مؤقف کیسے ثابت ہوگیا؟ ہم یہی تو کہتے ہیں کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی اور اس میں نبیﷺ بھی شامل ہیں۔ شیعہ مناظر دلشاد آسان باتیں بھی سمجھنے سے قاصر! بس جو پرسنل میں دلیل بھیج دیتا وہ مناظرے میں کاپی پیسٹ کرتا رہا !!


 
   

  ابن حجرعسقلاني:    لَا نُورَث مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَيَكُون ذَلِكَ مِنْ خَصَائِصه الَّتِي أُكْرِمَ بِهَا، بَلْ قَوْل عُمَر"يُرِيد نَفْسَهُ" يُؤَيِّد اِخْتِصَاصَهُ بِذَلِكَ.

یہ«لَا نُورَث مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " »

 پيامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے،جیسا کہ عمر کا یہ قول : « «ہم انبیاء سے مراد خود آنحضرت ہی ہیں »، یہ قول اسی اختصاص کی تائید کرتا ہے.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 12، ص 9، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

 آپ میرے آج صبح کے پہلے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کوشش میں کیوں ہے۔جبکہ میرے اس سوال کا تعلق میرے مدعا کے پہلے اور دوسرے مرحلے سے متعلق ہے اس کا جواب دینے کے بجاے غیر متعقہ سوال پوچھ کر بحث کو خراب کرنے کی کوشش، آفرین ہو آپ پر پھر اپنے کو خراب کر دیا... مجھے دوسروں سے مدد لینے کا طعنہ دے کر خود ہی اعتراف کر دیا کہ اپ بھی ۔

شیعہ مناظر اپنے کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار کر رہا ہے۔

جی ہاں میرے بعض دوست مجھے مشورہ دیتے ہیں اور مشورہ مناسب ہونے کی صورت میں اس پر عمل کرتے ہیں آپ نے اسکرین شاٹ نکال کر مجھے نقال بتانے کی کوشش تو کی لیکن اس کے علمی جواب دینے سے دوری میں تو اعتراف کرتا ہوں مجھے میرے بعض دوست مشورہ دیتے ہیں.آپ کو کیا کوئی مشورہ نہیں دیتے؟ جناب مناظرہ شخصی نوعیت کا نہیں دو پہلوان مکہ بازی تو نہیں کر رہے۔یہا ں دو موقف اور نظریے کی جنگ ہے تو مشورہ لینے اور دینے میں کیا  عیب؟

اسکرین شاٹ اگلے پیج پر دیکھیں!

  جناب کس نے کہا ایک حدیث دو  باب  میں ذکر نہیں ہوتی ہے   لیکن محدث اس کے موضوع کو دیکھ کر اس کا انتخاب کرتا ہے اور دو کیا تین باب میں اس کو ذکر کرتا ہے لیکن غیر مربوط باب میں ذکر نہیں کرتے۔

صفحہ 4 از 9