شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 9

تفسیر النیسابوری:  واختلفوا أیضا فی الوراثه فعن ابن عباس والحسن والضحاک: هی وراثه المال

 تفسیر النسابوری.ج4 ص470.ط دارالکتب العلمیة

سیوطی ۔۔۔۔ عباس و عکرمه و ابوصالح کا قول : وَأخرج الْفرْیَابِیّ عَن ابْن عَبَّاس قَالَ: کَانَ زَکَرِیَّا لَا یُولد لَهُ فَسَأَلَ ربه فَقَالَ: {فَهَب لی من لَدُنْک ولیا یَرِثنِی وَیَرِث من آل یَعْقُوب} قَالَ: یَرِثنِی مَالِی وَیَرِث من آل یَعْقُوب النُّبُوَّه

 وأخرج ابن أبی شیبه وابن المنذر عن مجاهد وعکرمه فی قوله : ( یرثنی ویرث منءال یعقوب ) . قال : یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوه

وأخرج عبد بن حمید عن أبی صالح فی قوله : ( إنی خفت الموالی من وراءی ) . قال : خاف موالی الکلاله وقوله : ( یرثنی ویرث من ءال یعقوب ) . قال : یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوه

 الدر المنثور.ج10 ص12.ط دار هجر

  تفسیر بحر المدید: وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النبوه والمُلک والمال

 البحر المدید فی تفسی القرآن المجید.ج3 ص320.ط دارالکتب العلمیة

   معانی القرآن نحاس۔ وروى عن داود بن أبی هند عن الحسن یرثنی ای یرث مالی ویرث من آل یعقوب النبوه:معانی القرآن للنحاس.ج4 ص311.ط جامعة ام القری

 بدر الدین عینی  فی عمدة القاری مینویسد: قَوْله: (وَیَرِث من آل یَعْقُوب) ، قَالَ ابْن عَبَّاس: یَرِثنِی مَالِی وَیَرِث من آل یَعْقُوب النُّبُوَّه: عمدة القاری.ج16 ص20.ط دارالفکر

 فخر رازی۔أَحَدُهَا: أَنَّ الْمُرَادَ بِالْمِیرَاثِ فِی الْمَوْضِعَیْنِ هُوَ وِرَاثَهُ الْمَالِ وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ وَالضَّحَّاکِ:تفسیر الرازی.ج۲۱،ص185.ط دار الفکر

فَقَوْلُهُ عَلَیْهِ السَّلَامُ: ” رَحِمَ اللَّهُ زَکَرِیَّا مَا کَانَ لَهُ مَنْ یَرِثُهُ ” وَظَاهِرُهُ یَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ إِرْثُ الْمَالِ وَأَمَّا الْمَعْقُولُ فَمِنْ وَجْهَیْنِ. الْأَوَّلُ: أَنَّ الْعِلْمَ وَالسِّیرَهَ وَالنُّبُوَّهَ لَا تُورَثُ بَلْ لَا تَحْصُلُ إِلَّا بِالِاکْتِسَابِ فَوَجَبَ حَمْلُهُ عَلَى الْمَالِ. الثَّانِی: أَنَّهُ قَالَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا وَلَوْ کَانَ الْمُرَادُ مِنَ الْإِرْثِ إِرْثَ النُّبُوَّهِ لَکَانَ قَدْ سَأَلَ جَعْلَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رَضِیًّا وَهُوَ غَیْرُ جَائِزٍ لِأَنَّ النَّبِیَّ لَا یَکُونُ إِلَّا رَضِیًّا مَعْصُومًا

 تفسیر الرازی.ج۲۱،ص185.ط دار الفکر

 قرطبی:وَیَرِثُ ِنْ آلِ یَعْقُوبَ” فَلِلْعُلَمَاءِ فِیهِ ثَلَاثَهُ أَجْوِبَهٍ، قیل: هی وراثه نبوه. وقیل: هی وِرَاثَهُ حِکْمَهٍ. وَقِیلَ: هِیَ وِرَاثَهُ مَالٍ:تفسیر القرطبی.ج۱۳ص۴۱۵.ط موسسة الرسالة

 فَأَمَّا قَوْلُهُمْ وِرَاثَهُ نُبُوَّهٍ فَمُحَالٌ، لِأَنَّ النُّبُوَّهَ لَا تُورَثُ: تفسیر القرطبی.ج۱۳،ص۴۱۵.ط موسسة الرسالة

 وَأَمَّا وِرَاثَهُ الْمَالِ فَلَا یَمْتَنِعُ، وَإِنْ کَانَ قَوْمٌ قَدْ أَنْکَرُوهُ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: (لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَهٌ) فَهَذَا لَا حُجَّهَ فِیهِ:تفسیر القرطبی.ج۱۳ص۴۱۵.ط موسسة الرسالة

ابن عطیه۔ فقال ابن عباس ومجاهد وقتاده وأبو صالح خاف أن یرثوا ماله: تفسیر ابن عطیه.ج۴،ص۴.ط دارالکتب العلمیة

 والأکثر من المفسرین على أنه أراد وراثه المال: تفسیر ابن عطیه.ج۴ص۵.ط دار الکتب العلمیة

سرخسی نے  کتاب المبسوط میں: (وَاسْتَدَلَّ) بَعْضُ مَشَایِخِنَا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - بِقَوْلِهِ - عَلَیْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «إنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِیَاءِ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَاهُ صَدَقَةٌ» فَقَالُوا مَعْنَاهُ مَا تَرَکْنَاهُ صدقة لَا یُورَثُ ذَلِکَ عَنَّا، وَلَیْسَ الْمُرَادُ أَنَّ أَمْوَالَ الْأَنْبِیَاءِ - عَلَیْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لَا تُورَثُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُد} [النمل: 16]. وَقَالَ تَعَالَى {فَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا} [مریم: 5] {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم: 6]

فَحَاشَا أَنْ یَتَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ - بِخِلَافِ الْمُنَزَّلِ

المبسوط.ج12 ص29.ط دارالمعرفة


شیعہ دلشاد مناظر ہے یا کاپی پیسٹر

دوران مناظرہ ہمیشہ ایک یا دو دلائل دے کر گفتگو کی جاتی ہے۔ دوران مناظرہ کسی مناظر کی طرف سے اس طرح دلائل کے انبار رکھ دینے  سے ایک بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا مؤقف اتنا کمزور ہے کہ اسے اتنے سارے دلائل رکھنے کی ضرورت پیش آگئی!!


 
   

 جناب خلیفہ دوم نے کیوں اس حدیث کا وہ معنی نہیں لیا جو آپ لوگ لیتے ہیں ؟بخاری نے ابن عمر سے نقل کیا ہے :

حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ: ثَمَانُونَ وَ سْقَ تَمْرٍ، وَعِشْرُونَ وَ سْقَ شَعِيرٍ؛ فَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالأَرْضِ أَوْ يُمْضِيَ لَهُنَّ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ اخْتَارَتِ الأَرْضَ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سے)  وہاں (کی زمین میں) پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے۔ جس میں اسی وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو۔ عمر (اپنے عہد خلافت میں) جب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو  یہ اختیار دیا کہ (اگر وہ چاہیں تو) انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا۔ اور بعض نے(  پیداوار سے) وسق لینا پسند کیا۔ عائشہ  نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا۔

صفحہ 3 از 9