شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام…

شیعہ مناظر کا کاپی پیسٹ کرنےکا اقرار اور امام بیہقی ، امام شعبی کی مرسل روایت پر تحقیق (قسط 23)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 9

اور آج ماشاء اللہ جناب فاطمہ کی رضایت پر ایسی اسناد پیش کی کہ جو پہلے آپ کے غضبت کے ادراجی جملہ ہونے کو باطل کرتی ہیں اور واضح طور پر یہ بتاتی ہے کہ  راوی کے نقل میں "غضبت"  بلکل صحیح تھا ۔ اگر ناراض نہیں ہوئی تھی اور خلفاء کی باتوں کو رد نہیں کیا تھا تو ان کو راضی کرنے سفارش کے ساتھ ان کے دروازے پر کیوں گئے ؟ واہ جی واہ ۔

 

اب اگلی بات: غضبت اور وجدت جب حقیقت پر مبنی ہے اور پھر رضایت پر جو دلیل پیش کی وہ تو مرسل ہے اس کی سند ہی ٹھیک نہیں ہے ۔آپ فرض کریں حسن  ہے  تو مرسل ہونے کا انکار تو نہیں ۔ آپ نے آج اس سلسلے میں جتنی روایتیں پیش کی وہ سب کے سب مرسل ہیں  اور سند کے اعتبار سے ضعیف۔جناب اگر آپ کا یہ اعتراض تھا کہ زہری واقعے کے عینی شاہد نہیں تو شعبی {کہ بعض نے اس کی تضعیف بھی کی ہے} وہ کیسے رضایت کے شاہد ٹھہرے ؟اگر شعبی کی مرسل روایت حجت ہے تو زہری کی مرسل روایت کیوں حجت نہیں  زہری تو شعبی سے زیادہ قوی ہے ۔ اب ان سب سے یہ واضح ہوا میرے دلائل کا رد آپ کے پاس نہیں ہے ۔ لہذا میرا  دوسرا مدعا بھی خود بخود ثابت ہوا ۔

 یہ ہے میرے الف اور ب کی کہانی ۔اب آپ کے الف   ب کی بات دیکھیں۔ آپ نے الزامی سوالات کہہ کر کر اتنے سوالات کیے جو بحث کے تیسرے مرحلے سے متعلق ہے لہذا آپ نے جان بوجھ کر بحث کو خراب کرنے اور مجھ سے کیے وعدے کی خلاف ورزی کی کوشش کی ۔ ہمارے ایڈمن حضرات اس کے گواہ ہیں آپ نے فدک اور وراثت ، حدیث العلماء ورثۃ ۔ شیعوں کے ہاں عورت کی وراثت ۔ حضرت  علی کے دور میں  فدک واپس نہ لینے جیسے جتنے بھی سوالات اٹھا ئے یہ سب اصل بحث کو خراب کرنے کی کوشش تھی   اور میں نے شروع میں ہی آپ کی اس چالاکی کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا آپ بحث سے جتنا دور جائیں آپ کو واپس لے کر آؤں گا ۔ مندجہ بالا آپ کے سوالات میں سے بعض کا میں نے جواب دیا آپ  1،2،3 کی چکر میں ان کو نظر انداز کرتے رہے۔ مسلسل سوال دھرا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی یہ میں آپ کے سوالات کا جواب نہیں  دے رہا ہوں اور پھر کئی دفعہ ڈیڈ لائن دی لیکن  ہوا کچھ نہیں ۔ ممتاز صاحب ۔کب تک ایسا کرتے رہو گے   جب پہلا اور دوسرا مرحلہ ختم ہو  اور آپ اصولی طور پر تیسرے مرحلے میں داخل ہو ں تو پھر آپ کو بتاؤں گا شیعوں کے ہاں وراثت کا کیا قانون ہے۔ شیعہ حدیث کا کیا معنی ہے مولا علی نے کیوں واپس نہیں لیا۔


ایک دلچسپ حقیقت

مناظرے کے آخر میں سنی مناظر نے یہ بات بھی قبول کر لی کہ چلیں تیسرے مرحلے کو شروع کریں اور اپنی باتیں ثابت کر کے دکھائیں۔ اس کے بعد شیعہ مناظر کی دوڑیں بھی دیکھنے لائق ہیں


جناب ہماری بحث اس میں تھی کہ شیعہ جو کہتے ہیں وہ آپ کی کتابوں میں ہیں اور مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ حقوق کا مطالبہ کرنا اور ناراض ہونا اور معاملہ ختم نہ ہونا اور مولی علی اور جناب فاطمہ کی طرف سے اپنے حق نہ ملنے کا نظریہ ،  یہ میں نے آپ کی ہی مدد سے ثابت کیا کہ یہ سب آپ کی کتابوں میں ہیں اور آپ کے علماء نے اس حقیقت کو قبول کیا ہے اور پھر بعض نے یہ بحث کی ہے ان میں سے کونسا فریق حق پر تھا کون نہیں تھا ۔ اب آپ کو اور دوستوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ آپ کے سوالات بحث کے مراحل سے متعلق نہیں اور بحث سے فرار کا ایک طریقہ کار ہے  یہی وجہ ہے کہ میرے بنیادی سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ میں آپ کے سوالات کا جواب نہیں دے رہا ہوں ۔جناب کسی اچار بنانے کی کمپنی کا انچارچ تو نہیں ہو ؟ کچھ اسناد پیش کر رہا ہوں اگرچہ یہ اس مرحلے سے متعلق نہیں لیکن آپ کے الزامی جواب کا جواب دینے کے لئے ۔

 کیوں  ابن عباس اور اھل سنت کے بزرگ مفسرین نے اس حدیث کو اسی طرح نہیں مانا جس طرح  آپ لوگ استدلال کرتے ہیں ؟  اہل سنت کے  مفسرین نے

{ ویرث من آل یعقوب یَرِثُنِی الْمَالَ وَیَرِثُ مِنْ آلِ یعقوب النبوه }

  کی تفسیر وراثت مالی ہونے کا اعتراف کیا ۔

سفیان فی قوله ویرث من آل یعقوب یَرِثُنِی الْمَالَ وَیَرِثُ مِنْ آلِ یعقوب النبوه :تفسیر سفیان الثوری.ص181.ط دارالکتب العلمیة

 محقق لکھتا ہے :  وهو قول ابن عباس وابی صالح والحسن والسدی وزید بن اسلم ومجاهد والشعبی والضحاک کما فی الطبری:   تفسیر سفیان الثوری.ص181.ط دارالکتب العلمیة

 تفسیر طبری  : حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ، قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، قَوْلُهُ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم:6] یَقُولُ: یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّهَ

 حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، قَالَ: ثنا یَزِیدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ فِی قَوْلِهِ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم: ۶]قال یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّهَ

حَدَّثَنِی یَعْقُوبُ، قَالَ: ثنا هُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، فِی قَوْلِهِ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} قَالَ: یَرِثُنِی مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّه[سوره مریم:6]

تفسیر الطبری.ج15 ص458.ط دار هجر

تفسیر ابن کثیر.ج5 ص213.ط دارالطیبة

سمرقندی وقال عکرمه: یرثنی مالی، ویرث من آل یعقوب النبوه، وهکذا قال الضحاک

 تفسیر السمرقندی.ج2 ص318.ط دارالکتب العلمیة

  تفسیر ماوردی: أحدها: یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوه، قاله أبو صالح:تفسیر الماوردی.ج3 ص355.ط دارالکتب العلمیة

 بغوی: وَاخْتَلَفُوا فِی هَذَا الْإِرْثِ؛ قَالَ الْحَسَنُ: مَعْنَاهُ یَرِثُنِی مَالِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّهَ والْحُبُورَهَ

  تفسیر البغوی.ج5 ص218.ط دارالطیبة

ابن الجوزی: وفی المراد بهذا المیراث أربعه أقوال : أحدها: یَرِثنی مالی، ویرث من آل یعقوب النبوَّه، رواه عکرمه عن ابن عباس، وبه قال أبو صالح

 زاد المسیر فی علم التفسیر.ص877.ط المکتب الاسلامی

ابن عادل دمشقی : واختلفُوا ما المرادُ بالمیراثِ، فقال ابنُ عبَّاس، والحسنُ، والضحاک: وراثهُ المالِ فی الموضعین: اللباب فی علوم الکتاب.ج13 ص13.ط دارالطیبة

صفحہ 2 از 9