ظہور مہدی کے وقت مسلمانوں کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر…

ظہور مہدی کے وقت مسلمانوں کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر ہوگی اور آپ کا ظہور کعبہ میں ہوگا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

15: ظہور مہدی کے وقت مسلمانوں کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر ہوگی اور آپ کا ظہور کعبہ میں ہوگا

عن ابی الطفيل عن محمد بن الحنفيه قال كنا عند علی فساله رجل عن المهدی فقال علی عنه هيهات ثم عند بيده سبعا فقال ذلك يخرج فى آخر الزمان اذا قال الرجل الله الله قتل فيجمع الله تعالىٰ له قوما قذع كقذع السحاب يولف الله قلوبهم لا يستوحشون الى احد ولا يفرحون باحد يدخل فيهم على عده اصحاب بددهم يسبقهم الاولون و لا يدركهم الاخرون و على عند اصحاب طالوت الذين جاو فرامعه النهد قال ابن الحنفيه اتريده قلت نعم قال انه يخرج من بين هذين الخشبتين قلت لا جرم و الله لا اديمهما حتى اموت فمات بها يعنى بمكه حرسها الله تعالىٰ قال ابو عبد الله الحاكم هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ووافقه الذهبی رحمه الله تعالىٰ۔

(مستدرک: جلد4 صفحہ554)

ترجمہ: ابو الطفیل، سیدنا محمد بن الحنفیہؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا محمد بن الحنفیہؒ نے کہا کہ وہ سیدنا علیؓ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے مہدی کے بارے میں پوچھا تو سیدنا علیؓ نے بربنائے لطف فرمایا: دور ہو، پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مہدی کا ظہور آخر زمانہ میں ہوگا اور بے دینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ اللہ کے نام لینے والے کو قتل کر دیا جائے گا ظہورِ مہدی کے وقت اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو ان کے پاس اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرق ٹکڑوں کو مجتمع کر دیتا ہے اور ان میں یگانگت و الفت پیدا کر دے گا۔ یہ نہ تو کسی سے متوحش ہوں گے اور نہ کسی کو دیکھ کر خوش ہوں گے مطلب یہ ہے کہ ان کا باہمی ربط و ضبط سب کے ساتھ یکساں ہوگا خلیفہ مہدی کے پاس یہ اکٹھا ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر یعنی غزوہِ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد کے مطابق 313 ہوگی اس جماعت کو ایسی خاص جزوی فضیلت حاصل ہوگی جو ان سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی ہے نہ بعد والوں کو حاصل ہوگی۔ نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالوت کی تعداد کے برابر ہوگی، جنہوں نے طالوت کے ہمراہ نہر (اردن) کو عبور کیا تھا۔ 

سیدنا ابو الطفیلؓ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد بن الحنفیہؒ نے مجمع سے پوچھا: کیا تم اس جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ اور خواہش رکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں، تو انہوں نے کعبہ شریف کے دو ستونوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا خلیفہ مہدی کا ظہور انہیں کے درمیان ہوگا اس پر سیدنا ابو الطفیلؓ نے فرمایا: بخدا! میں ان سے تا حیات جدا نہ ہوں گا راویِ حدیث کہتے ہیں چنانچہ سیدنا ابو الطفیلؓ کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔