خانہ کعبہ میں پناہ لینے کی خبر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خانہ کعبہ میں پناہ لینے کی خبر

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

11: خانہ کعبہ میں پناہ لینے کی خبر

و باسنادہ ابى عبيد الله بن القبطيه قال دخل الحارث بن ابى ربيعه و عبد الله بن صفوان و انه معهما على ام سلمه رضی الله عنها فسالاها على الجيش الذى يخسف وكان ذلك فى ايام ابن الزبير فقالت سمعت رسول اللهﷺ‎ يقول يعوذ عائد بالحرم فيبعث اليه بجيش فاذا كانوا ببيداء من الارض خسف بهم فقلت يا رسول الله كيف يمن يخرج كادها قال يخسف بهم معهم ولكنه يبعث على نيته يوم القيامه ثم قالت قال رسول اللهﷺ‎ يغوذ عائد بالبيت قال ابو عبد الله رحمۃ اللہ تعالیٰ صحيح على شرطهما وافقه الذهبی رحمۃ الله تعالىٰ۔ 

(مستدرک: جلد 4 صفحہ439)

ترجمہ: عبید اللہ بن القبطیہ بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان حضرت ام المؤمنین ام سلمہؓ کے پاس حاضر ہوئے میں بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ تھا ان دونوں نے حضرت ام المؤمنینؓ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا یہ اس زمانہ کی بات ہے جب عبد الملک بن مروان بن الحكم نے عبد اللہ بن زبیرؓ پر چڑھائی کی تھی سیدہ ام سلمہؓ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ ایک پناہ لینے والا حرمِ کعبہ میں پناہ گزیں ہوگا۔ تو اس پر ایک لشکر حملہ کے لیے چلے گا اور جب مقامِ بیداء میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: بعض وہ لوگ جو مجبوراً ان کے ہمراہ ہو گئے ہوں گے آخر وہ کس جرم میں دھنسائے جائیں گے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: یہ لوگ بھی ان کے ساتھ ہی دھنسا دیے جائیں گے البتہ قیامت کے دن ان کی نیت و ارادہ کے مطابق ان کا حشر ہوگا پھر آنحضرتﷺ نے بطورِ تاکید کے دوبارہ فرمایا: پناہ لینے والا پناہ لے گا۔