Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کے تاثرات اور اس سلسلہ میں کہے گئے اشعار

  علی محمد الصلابی

اس مصیبت کا مسلمانوں پر بڑا گہرا اثر پڑا، حزن و غم نے انہیں ڈھانپ لیا ان کی آنکھوں کے آنسو سیل رواں کی طرح بہنے لگے اور حضرت عثمان غنیؓ کی مدح و ثنا میں رطب اللسان ہوئے اور رحمت کی دعائیں کرنے لگے۔

حضرت حسان بن ثابتؓ نے امیر المؤمنین پر مرثیہ کہا، حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت پر اپنے درد و غم کو بیان کیا، قاتلین کی ہجو کی اور ان کے کرتوت پر ان کی سرزنش کی۔

(سیر الشہداء للسحیبانی: صفحہ 62)

فرماتے ہیں: 

أتر کتم غزو الدروب وراء کم

وغزوتمونا عند قبر محمد

’’اپنے پیچھے محاذ جنگ کو چھوڑ کر قبر نبوی کے پاس ہم سے جنگ کر رہے ہو۔‘‘

فلبئس ہدی المسلمین ہدیتم

و لبئس امر الفاجر المتعمد

’’مسلمانوں کا یہ طریقہ نہایت برا ہے اللہ تمھیں ہدایت دے۔ اور فساق و فجار کا یہ معاملہ نہایت برا ہے۔‘‘

ان تقدموا نجعل قری سرواتکم

حول المدینۃ کل لین مذود

’’اگر تم (ان کے خلاف) اقدام کرتے ہو تو ہم تمہارے بڑے لوگوں کی مہمان نوازی مدینہ میں ڈبوں میں محفوظ انواع و اقسام کی کھجوروں سے کریں گے۔‘‘

و تدبروا فلبئس ما سافرتم

ولمثل امر امیرکم لم یرشد

’’اور اگر پیٹھ پھیرتے ہو تو تمہارا پلٹنا نہایت برا ہو گا اور تمہارے سردار کا حکم بہتر نہیں ہو گا۔‘‘

و کان اصحاب النبی عشیۃ

بدن تدبح عند باب المسجد

’’(شہادت عثمان کی) شام کو صحابہ کرام گویا ایسے اونٹ تھے، جنھیں مسجد نبوی کے پاس ذبح کیا جا رہا ہو۔‘‘

ابکی ابا عمرو لحسن بلائہ

أمسی مقیما فی بقیع الغرقد 

(تاریخ الطبری: جلد صفحہ 445)

’’میں ابوعمر و(عثمان) پر ان کے بہترین کارناموں کے باعث رو رہا ہوں، جواب بقیع الغرقد قبرستان میں جا چکے ہیں۔‘‘

نیز حضرت حسانؓ نے کہا:

ما ذا اردتم من أخی الدین بارکت

ید اللّٰه فی ذاک الادیم المقدد

’’تم دیندار عثمان سے کیا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ اس خشک چمڑے کو برکت عطا کرے۔‘‘

قتلتم ولی اللّٰه فی جوف دارہ

و جئتم بامر جائر غیر مہتد

’’تم نے اللہ کے ولی کو اس کے گھر میں شہید کر دیا، اور تم نے بہت بڑا ظلم کیا۔‘‘

فھلا رعیتم ذمۃ اللّٰه بینکم

واوفیتم بالعہد عہد محمد

’’تم نے اپنے مابین اللہ کی پناہ کا خیال کیوں نہیں کیا، اور عہد نبوی کا پاس و لحاظ کیوں نہیں کیا۔‘‘

الم یک فیکم ذا بلاء و مصدق

و أوفاکم عہد الدی کل مشہد

’’کیا تم میں کوئی بھی اچھے کارنامے والا، سچا اور ہر موقع پر عہد کو پورا کرنے والا نہیں تھا؟‘‘

فلا ظفرت ایمان قوم تبایعوا

علی قتل عثمان الرشید المسدد 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 205)

’’لوگوں کے وہ ہاتھ برباد ہو جائیں جو ہدایت یافتہ عثمانؓ کی شہادت پر بیعت کیے تھے۔‘‘ نیز فرمایا:

من سرہ الموت صرفا لا مزاج لہ

فلیات ما سدۃ فی دار عثمانا

’’جسے صرف موت ہی پسند ہو، اسے عثمانؓ کے گھر میں موجود رزمگاہ پہنچنا چاہیے۔‘‘

مستشعری حلق الماذی قد شفعت

قبل المخاطم بیض زان ابدانا

’’خالص لوہے کے کڑوں والی دوہری زرہ اوپر سے نیچے تک پہنے ہوئے۔‘‘

صبر افدی لکم أمی وما و لدت

قدینفع الصبر فی المکر وہ أحیانا

’’آپ صبر کیجیے، آپ پر میری ماں اور بھائی بہن قربان ہوں، بسا اوقات پریشانیوں میں صبر مفید ہوتا ہے۔‘‘

فقد رضینا باھل الشام نافرۃ وبالأمیر و بالإخوان اخوانا

’’کوچ کرنے والے اہل شام اور ان کے امیر سے میں خوش ہوں اور انہیں بھائی سمجھتا ہوں۔‘‘

إنی لمنھم و ان غابوا و إن شہدوا

ما دمت حیا وما سمیت حسانا

’’موجودگی و عدم موجودگی ہر حال میں میں انہی میں سے ہوں، جب تک زندہ ہوں، اور جب تک

میرا نام حسان ہے۔‘‘

لتسمعن و شیکا فی دیارہم

اللّٰه اکبر یا تارات عثمانا

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 447) 

’’عنقریب ان کے گھروں میں ’’اللہ اکبر، عثمان کا بدلہ لے لو‘‘ کا شور سنو گے۔‘‘

نیز فرمایا:

إن تمس دار ابن اروی منہ خالیۃ

باب صریع و باب محرق خرب

’’اگر عثمانؓ کا گھر ان سے خالی ہو گیا، تو اس کی حیثیت برباد، جلے اور اکھڑے ہوئے دروازے کی ہو گی۔‘‘

فقد یصادف باغی الخیر حاجتہ

فیہا و یہوی إلیہا الذکر والحسب

’’بھلائی کا طالب بسا اوقات وہاں اپنا مقصود پا جاتا ہے، اور وہاں حسب و نسب اور شہرت والے لوگ پہنچتے ہیں۔‘‘

یایہا الناس ابدوا ذات انفسکم

لا یستوی الصدق عند اللّٰه و الکذب

’’لوگو اپنے آپ کو ظاہر کر دو، اللہ کے نزدیک جھوٹ اور سچ برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘

قوموا بحق ملیک الناس تعترفوا

بغارۃ عصب من خلفہا عصب

’’خلیفہ کے حق کا اعتراف کرتے ہوئے بہت سارے لوگوں کے ساتھ حملہ کر دو۔‘‘

فیہم حبیب شہا الموت یقدمہم

مستلئما قد بدا فی وجہ الغضب 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 446)

’’جن کی قیادت سخت ناراضگی کی حالت میں، زرہ پہن کر، موت کی بجلی بن کر حبیب بن مسلمہ فہریؓ کر رہے ہوں۔‘‘

حضرت کعب بن مالکؓ نے کہا:

ویح لامر قد اتانی رائع

ہد الجبال فأنقضت برجوف

’’ہائے میرے پاس ایسا ہولناک معاملہ پہنچا ہے جو پہاڑوں سے ٹکرائے تو وہ لرز کر پھٹ جائیں۔‘‘

قتل الامام لہ النجوم خواضع

والشمس بازغۃ بکسوف

’’ایسے خلیفہ کی شہادت ہوئی ہے جس کے لیے ستارے سرنگوں ہیں، اور سورج کو گرہن لگا ہوا ہے۔‘‘

یالہف نفسی إذ تولوا غدوۃ

بالنعش فوق عواتق و کتوف

’’ہائے افسوس جب لوگ کندھوں پر (خلیفہ کا) جنازے لے کر گئے۔‘‘

ولوا ودلوا فی الضریح اخاہم

ماذا اجن ضریحہ المسقوف 

(التمہید و البیان: صفحہ 210)

’’اپنے بھائی کو دفن کر کے لوگ لوٹے، قبر نے کتنی عظیم شخصیت کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔‘‘

من نائل أو سود دوحمالۃ

سبقت لہ فی الناس او معروف

’’آپ لوگوں کے سردار رہے، انہیں عطیات و بھلائیوں سے نوازا، ان کی دیتوں کو ادا کیا۔‘‘

کم من یتیم کان یجبر عظمہ

أمسی بمنزلۃ الضیاع یطوف

’’آپ نے کتنے ہی یتیموں کی دلجوئی کی جو گم شدہ کی طرح بےیار و مددگار ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔‘‘

فرجتہا عنہ یرحمک بعد ما

کادت و ایقن بعدھا بحتوف

’’رحم کرتے ہوئے آپ نے انہیں ایسی مصیبت سے بچا لیا جو قریب تھا کہ انہیں ہلاک کر دیتی، اور انہیں موت کا یقین ہونے لگا تھا۔‘‘

ما زال یقلبہم و یرأب ظلمہم

حتی سمعت برنۃ التلہیف

’’آپ ان کا استقبال کرتے تھے، اور ان کے ظلم پر داد رسی کرتے تھے، تا آنکہ میں افسوس بھری آواز

سنتا تھا۔‘‘

أمسی مقیما بالبقیع و اصبحوا

متفرقین قد أجمعوا بحفوف

(التمہید و البیان: صفحہ 211)

’’آپ بقیع الغرقد قبرستان میں مدفون ہو گئے، لوگ قبر کے تختوں کو اکٹھا کر کے یعنی دفن کر کے منتشر ہو گئے۔‘‘

النار موعدھم بقتل امامہم

عثمان صہر فی البلاد عفیف

’’نبی کے پاکباز داماد اپنے خلیفہ عثمانؓ کو شہید کرنے کے باعث ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘

جمع الحمالۃ بعد حلم راجح

و الخیر فیہ مبین معروف

’’آپ نہایت بردبار اور متحمل مزاج تھے آپ کی بھلائی معروف و مشہور تھی۔‘‘

یا کعب لا تنفک تبکی ھالکا

مادمت حیا فی البلاد تطوف

(التمہید و البیان: صفحہ 211)

’’اے کعب جب تک تم دنیا میں زندہ رہو گے حیران و پریشان روتے رہو گے۔‘‘

نیز فرمایا:

فکف یدیہ ثم أغلق بابہ

و أبقن ان اللّٰه لیس بغافل

’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روکا اور دروازہ بند کر لیا، اور یقین کر لیا کہ اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے۔‘‘

و قال لاھل الدار لا تقتلوھم

عفا اللّٰه عن کل امری ٔ لم یقاتل

’’اور گھر میں موجود لوگوں سے کہا: ان سے قتال نہ کرو، اللہ تعالیٰ قتال نہ کرنے والے ہر شخص کو معاف کرے۔‘‘

فکیف رأیت اللّٰه صب علیہم

العداوۃ والبغضاء بعد التواصل؟

’’اچھے تعلقات کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں عداوت و دشمنی ڈال دی۔‘‘

و کیف رأیت الخیر ادبر بعدہ

عن الناس إدبار النعام الجوافل؟

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 205)

’’آپ کے بعد لوگوں سے بھلائی بدکے ہوئے شتر مرغوں کی طرح روٹھ کر چلی گئی۔‘‘

اونٹ کے چرواہے نمیری نے کہا:

عشیۃ ید خلون بغیر اذن

علی متوکل اوفی و طابا

’’اس شام کو جب لوگ زبردستی ایک اچھے وفادار اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کے پاس جا رہے تھے۔‘‘

خلیل محمد و وزیر صدق

ورابع خیر من وطیٔ الترابا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 206) اس امت میں اس روئے زمین پر قدم رکھنے والوں میں سب سے افضل رسول اللہﷺ ہیں پھر ابوبکر پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔

’’جو محمدﷺ کے دوست، سچے معاون اور روئے زمین کے اچھے لوگوں میں سے چوتھے تھے۔‘‘

و آخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین