4: حضرت مہدی علیہ الرضوان وسعت و فراخی لے کر آئیں گے
عن ابی نضر قال كنا عند جابر بن عبدالله رضى الله عنه فقال يوشك اهل الشام ان لا يجى اليهم دينار ولا مدى قلنا من اين ذلك قال من قبل الروم ثم سكت هنيئه ثم قال قال رسول اللهﷺ يكون فى آخر امتى خليفه يحثى المال حثيا ولا يعده عدا قال قلت لابى نضره وابى العلاء تريان انه عمر بن عبدالعزيز فقال لا الخ۔
(مسلم: جلد2 صفحہ395)
ترجمہ: ابو نضرہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کی خدمت میں تھے کہ انہوں نے فرمایا: قریب ہے وہ وقت جب اہل الشام کے پاس نہ دینار لائے جا سکیں گے اور نہ ہی غلہ ہم نے پوچھا: یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ سیدنا جابرؓ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے میری امت میں آخری دنوں میں ایک خلیفہ ہوگا یعنی خلیفہ مہدی جو مال لپ بھر بھر دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔
اس حدیث کے راوی الجری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ ابو نضر اور ابو العلاء سے دریافت کیا کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیثِ پاک میں مذکورہ خلیفہ سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ ہیں؟ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا نہیں، یہ خلیفہ سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ کے علاوہ ہوں گے۔