حضرت مہدی علیہ الرضوان کے مخالف زمین میں دھنسا دیے جائیں گے…

حضرت مہدی علیہ الرضوان کے مخالف زمین میں دھنسا دیے جائیں گے

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

3: حضرت مہدی علیہ الرضوان کے مخالف زمین میں دھنسا دیے جائیں گے

عن عائشه رضی الله تعالىٰ عنها قالت عبث رسول اللهﷺ‎ فی منامه فقلنا يا رسول الله صنعت شيئا فی منامك لم تقن تفطہ فقال العجب ان نایسا من امتی يومون برجل من قريش قدبحا بالبيت حتى اذا كانوا بالبراء خسف بهم فقلنا يا رسول الله ان الطريق قد يجمع الناس قال نعم فيهم المستبسر والمجبور وابن السبيل يهلكون مهكا واحدا ويصدرون مصادرشتى يبعثهم الله على نياتهم۔ 

(صحیح مسلم: جلد2 صفحہ388) 

ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے ایک روایت میں یوں مروی ہے کہ ایک مرتبہ نیند کی حالت میں رسول اللہﷺ کے جسمِ مبارک میں (خلافِ معمول) حرکت ہوئی تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج نیند میں آپ سے ایسا کام ہوا جو آپ نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا؟ (اس سوال کے جواب میں) آپﷺ نے عجیب بات کہی کہ کعبتہ اللہ میں پناہ گزیں ایک قریشی (یعنی مہدی) سے جنگ کے ارادے سے میری امت کے کچھ لوگ آئیں گے اور جب مقامِ بیدا (یعنی مکہ و مدینہ کے درمیان واقع چٹیل بیابان) میں پہنچیں گے تو زمین میں دھنسا دیے جائیں گے ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان میں بہت سے راہ گیر بھی ہو سکتے ہیں جو اتفاقاً راستے میں ان کے ساتھ ہو گئے ہوں گے تو انہیں کس جرم میں دھنسایا جائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ان میں کچھ با ارادہ جنگ کے لیے آنے والے ہوں گے، کچھ مجبور ہوں گے یعنی زبردستی انہیں ساتھ لے لیا جائے گا اور کچھ راہ گیر ہوں گے یہ سب کے سب اکٹھا دھنسا دیے جائیں گے البتہ قیامت میں ان کا حشر ان کی نیتوں کے لحاظ سے ہوگا۔ 

مطلب یہ ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت مجرمین کے ساتھ رہنے والے بھی عذاب سے محفوظ نہیں ہوں گے بلکہ عذاب کی ہمہ گیری میں وہ بھی شامل ہوں گے البتہ قیامت کے دن سب کے ساتھ معاملہ ان کی نیت و عمل کے مطابق ہوگا۔