ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں آنحضرتﷺ کا حکم -…

ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں آنحضرتﷺ کا حکم

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

علاماتِ قیامت کے باب میں ایک ہی جگہ دس نشانیوں کے ذکر سے پہلے آنحضرتﷺ نے قیامت کی ایک بڑی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا:  

ای من العلامات العظمى وهی اولها ان يظهر الامام المقتدى الخاتم للائمة محمد المهدی۔

(از لوائح الانوار البہیہ: جلد 2 صفحہ 76، شیخ محمد بن احمد السفارینی) 

قیامت کی بڑی یعنی قریب تر اور اولین نشانیوں میں خاتم الائمہ محمد مہدی کا ظہور ہے۔

احادیث میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا نام، حلیہ، مولد اور دنیا میں حکومت و سلطنت کی مدت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاونت و مساعدت کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ان جملہ احادیث کی روشنی میں امام موصوف کی علامات کو نہایت تفصیل کے ساتھ اسی کتاب کے ایک دوسرے باب میں نقل کیا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کے 1400 سو سالہ دور کے علماء، مفکر اور اساطینِ امت کے متفقہ عقیدہ کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ناقابلِ انکار حقیقت ہے ائمہ اربعہ اور جملہ محدثین نے آنحضرتﷺ کے واضح ارشادات کی روشنی میں حضرت امام محمد مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں ان میں حافظ ابنِ قیمؒ کی کتاب المنار المنیف، شیخ سفارینیؒ کی لوائح الانوار، علامہ مرعیؒ کی فوائد الفکر، علامہ ابنِ حجرؒ کی علامات مہدی، امام قرطبیؒ کی احکام القرآن میں اس عنوان پر تفصیلی مباحث موجود ہیں۔