اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ…

اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست سے مدد طلب کی؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

کچھ لوگ جو اس سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے لوگوں سے یہ ظاہر کیا کہ وہ اللہ کی کتاب اور حق کی طرف دعوت دے رہے ہیں، ان کے پیشِ نظر دنیا نہیں ہے اور نہ دنیا کے بارے میں کسی سے جھگڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا تو لوگوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا، ان میں کچھ حق کو قبول کرنے والے، اور کچھ ایسے ہیں کہ جب حق انہیں دیا جاتا ہے تو اس سے اعراض کرنے والے ہیں اور کچھ حق کو ترک کرنے والے کچھ اسے چھوڑ دینے والے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کو زبردستی بغیر حق کے لے لیں۔ ان کے ساتھ میرا طویل تجربہ ہے، ان کی خواہش امارت و قیادت ہے، انہوں نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی، ان حضرات نے آپ لوگوں کو یہ لکھا کہ وہ لوگ اس عہد کے باعث پلٹ گئے ہیں جو میں نے ان کو دیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں نے جس کا ان سے عہد کیا تھا اس میں سے کوئی چیز چھوڑی ہے، ان کا زعم یہ تھا کہ وہ حدود کو طلب کرنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جس کے بارے میں تمھیں معلوم ہو کہ اس نے کسی کے بارے میں حد کی پامالی کی اس پر حد قائم کرو اور جس نے بھی تم پر ظلم کیا ہے قریب سے یا دور سے، اس پر حد قائم کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب تلاوت کی جائے، میں نے کہا: کاش جو اس کی تلاوت کرے اس میں غلو نہ کرے کہ جو اللہ نے کتاب میں نازل نہیں کیا اس میں شامل کرے۔ انہوں نے کہا: محروم کو روزی دی جائے، مال برابر تقسیم کیا جائے تاکہ سنت حسنہ جاری ہو، خمس میں سے حد سے تجاوز نہ کیا جائے اور نہ زکوٰۃ میں، اور قوت و امانت سے متصف افراد کو امارت دی جائے اور لوگوں کے حقوق انہیں لوٹائے جائیں۔ ان مطالبات پر میں راضی ہوا اور اس پر ڈٹ گیا، میں نے آپ حضرات کو اور اپنے ساتھیوں کو جو مناصب پر تھے فرمان جاری کر دیے لیکن اس کے باوجود ان حضرات نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی اور مجھ سے نماز روک دی میرے اور مسجد کے درمیان حائل ہو گئے اور مدینہ میں جس چیز پر قادر ہوئے زبردستی قبضہ کر لیا۔ میں آپ حضرات کو یہ خط تحریر کر رہا ہوں اور حال یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں نے تین امور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یا تو ہر شخص جس کو مجھ سے تکلیف پہنچی ہے خواہ صحیح ہو یا غلطی سے اس کا وہ ہم سے قصاص لیں گے اس میں سےکچھ بھی چھوڑیں گے نہیں۔ یا میں خلافت سے دست بردار ہو جاؤں اور وہ کسی دوسرے کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ یا وہ لشکر اور مدینہ والوں میں سے اپنے متبعین کو جمع کریں گے اور وہ سب اس سے اپنی برأت کا اظہار کریں گے جس کی سمع و اطاعت اللہ نے ان پر فرض کر رکھی ہے۔ ان کے اس مطالبہ کے جواب میں میں نے ان سے کہا: رہا مسئلہ ہر ایک کا قصاص دینے کا تو مجھ سے قبل خلفاء گزرے ہیں ان سے بھی خطاء و صواب کا صدور ہوا ہے، لیکن ان میں سے کسی سے قصاص نہیں لیا گیا اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری جان لینا چاہتے ہیں، رہا یہ کہ خلافت و امارت سے دست بردار ہو جاؤں تو اگر یہ لوگ آنکس سے مجھ پر حملہ کریں تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اللہ کے عمل اور اس کی خلافت سے دست بردار ہو جاؤں۔ رہا تمہارا یہ کہنا: لشکر اور مدینہ والوں کو بلایا جائے گا اور وہ میری اطاعت سے برأت کا اظہار کریں گے تو یاد رہے میں تم پر داروغہ نہیں ہوں اور نہ میں نے کسی کو اس سے قبل سمع و اطاعت پر مجبور کیا ہے۔ لوگوں نے خود برضا و رغبت اطاعت قبول کی ہے، وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں آپس میں اصلاح چاہتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص دنیا کا طالب ہے وہ اس میں سے اتنا ہی پا سکتا ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی رضا، دار آخرت اور امت کی بھلائی اور اللہ کی خوشنودی اور سنت حسنہ چاہتا ہے جس پر رسول اللہﷺ اور آپ کے بعد دونوں خلفاء قائم رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کا بدلہ دے گا میرے ہاتھ میں تمہارا بدلہ نہیں۔ اگر میں تمھیں پوری دنیا دے دوں تو یہ تمہارے دین کی قیمت نہیں ہو سکتی اور تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا اللہ سے تقویٰ اختیار کرو اس کے پاس جو ہے اس کی امید رکھو اور جو تم میں بیعت کو توڑنا پسند کرتا ہے تو میں اس کے لیے اس کو نہیں پسند کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ تم اس کے عہد کو توڑ دو۔ اور جس چیز کا یہ لوگ مجھے اختیار دے رہے ہیں یہ سب کے سب جھگڑے اور سازش کی باتیں ہیں۔ میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں پر کنٹرول کر رکھا ہے میں نے اللہ کے حکم کا پاس رکھا اور تغییر نعمت اللہ کی طرف سے ہے اور برے طریقے، اختلاف امت اور خونریزی کو میں نے ناپسند کیا۔ یقیناً میں تمھیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھ سے حق لو اور ظلم سے بچو اور عدل کو قائم کرو جیسا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ میں تمھیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے عہد و تعاون کو تم پر لازم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ‌اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡــئُوۡلًا۞ (سورۃ الإسراء آیت 34)

ترجمہ: اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، مگر ایسے طریقے سے جو (اس کے حق میں) بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے

یہ اللہ کے حضور معذرت ہے اور شاید کہ تم عبرت حاصل کرو۔

اما بعد!

میں نے اپنے نفس کو بے قصور نہیں قرار دیا: 

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ‌اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّامَا رَحِمَ رَبِّىۡ اِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ يوسف آیت 53)

ترجمہ: اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرما دے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

صفحہ 4 از 5