اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ…

اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست سے مدد طلب کی؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞ (سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور اس کا فرمان بر حق ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ يَدُاللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ‌ فَمَنۡ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ‌وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الفتح آیت 10)

ترجمہ: اے پیغمبر!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سمع و اطاعت اور جماعت کو پسند کیا ہے اور معصیت، افتراق اور اختلافات سے تمھیں منع کیا ہے اور تم سے ان لوگوں کے افعال کی خبر بیان کی ہے جو تم سے پہلے تھے تاکہ اگر تم ان کی نافرمانی کرو تو تمہارے خلاف حجت رہے لہٰذا اللہ کی نصیحت کو قبول کرو اور اس کے عذاب سے بچو۔ تم کسی امت کو نہیں پاؤ گے کہ وہ ہلاک ہوئی ہو الا یہ کہ اس نے اختلاف کیا ہو گا، جب کوئی قوم اختلاف کا شکار ہوتی ہے اور اس کو متحد رکھنے والا کوئی امیر نہ ہو تو اللہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور جب تم بھی ایسا کرو گے تو نماز کو اکٹھا قائم نہیں کر سکو گے اللہ تم پر دشمن کو مسلط کر دے گا اور تم میں سے بعض بعض کی حرمت کو پامال کریں گے اور جب یہ کیا جائے گا تو اللہ کا دین قائم نہیں رہے گا اور تم فرقوں میں منقسم ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌ اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَـبِّـئُـهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ۞ (سورۃ الأنعام آیت 159)

ترجمہ: (اے پیغمبر) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ انہیں جتلائے گا کہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِىۡۤ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ‌ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ‏۞وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤااِلَيۡهِ‌ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏۞(سورۃ هود آیت 89، 90)

ترجمہ: اور اے میری قوم! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم پر یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہو چکی ہے۔ اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔

اما بعد!

صفحہ 3 از 5