اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ…

اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست سے مدد طلب کی؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا اُولٰٓئِكَ لَاخَلَاقَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنۡظُرُ اِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيۡهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 77)

ترجمہ: (اس کے برخلاف) جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی قسموں کا سودا کر کے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ انہیں (رعایت کی نظر سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کا حصہ تو بس عذاب ہوگا، انتہائی دردناک۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور اس کا ارشاد برحق ہے:

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِيۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ‌وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ التغابن آیت 16)

ترجمہ: لہٰذا جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور مانو اور (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہو جائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا فرمانا برحق ہے:

وَاَوۡفُوۡابِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُواالۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏۞وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّتِىۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا تَتَّخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًا بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ‌ اِنَّمَا يَبۡلُوۡكُمُ اللّٰهُ بِهٖ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ۞وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَلَـتُسۡــئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ۞وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًا بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعۡدَ ثُبُوۡتِهَا وَتَذُوۡقُواالسُّوۡۤءَ بِمَا صَدَدْتُّمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَلَـكُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا‌ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۞مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ‌ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَـنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَاكَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞(سورۃ النحل آیت 91 تا 96)

ترجمہ: اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو، یقیناً اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جس عورت نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کر تار تار کردیا تھا، اس جیسے نہ بن جانا کہ تم بھی اپنی قسموں کو (توڑ کر) آپس کے فساد کا ذریعہ بنانے لگو، صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدے حاصل کرلیں۔ اللہ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کر رہا ہے۔ اور قیامت کے دن وہ تمہیں وہ باتیں ضرور کھول کر بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔ اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ، جس کے نتیجے میں کسی (اور) کا پاؤں جمنے کے بعد پھسل جائے، پھر تمہیں (اس کو) اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے بری سزا چکھنی پڑے، اور تمہیں (ایسی صورت میں) بڑا عذاب ہوگا۔ اور اللہ کے عہد کو تھوڑ سی قیمت میں نہ بیچ ڈالو۔ اگر تم حقیقت سمجھو تو جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہو جائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا قول برحق ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤااَطِيۡـعُوااللّٰهَ وَاَطِيۡـعُواالرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 59)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے اور اس کا ارشاد بر حق ہے:

صفحہ 2 از 5