عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر بھی ایک حد تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
قادیانی ختمِ نبوت کے منکر ہیں ان کے نزدیک سلسلہ نبوت منقطع نہیں ہوا بلکہ وہ جاری و ساری ہے اگرچہ وہ ظلی و بروزی کی تقسیم کرتے ہیں تاہم اس تقسیم کا کتاب و سنت میں کوئی وجود نہیں۔
قادیانیوں سے بھی پہلے جس مکتبہ فکر نے ’’امامت‘‘ کے نام پر ختمِ نبوت کا انکار کیا وہ شیعہ مکتبہ فکر ہے۔ ان کے نزدیک "امامت‘‘ کا وہی مفہوم ہے جو مسلمانوں کے نزدیک ’’نبوت‘‘ کا ہے۔ میں نے اس انتہائی نازک اور حساس موضوع پر قلم کو جنبش نہیں دی تاوقتیکہ میں نے علامہ احسان الہٰی ظہیر شہیدؒ کی تصنیفات کے علاوہ خود شیعہ مراجع و مصادر کا بغور مطالعہ نہیں کر لیا۔ مختلف شیعی کتب کے مطالعہ کے بعد جب میرے پاس دلائل و براہین کی اتنی بڑی تعداد جمع ہو گئی جن پر ایک ایسی عمارت ایستادہ کی جاسکے کہ جس میں بیٹھے ہوئے حریف کو دلائل کے سامنے سر تسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ کار اور راہِ فرار نہ ہو تب میں نے اللہ کے فضل سے اس موضوع پر اپنے قلم کو حرکت دینے کی جسارت کی مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ العزیز یہ مقالہ قارئین کی بھر پور التفات و توجہ حاصل کرے گا۔
اس فکر کہ جس پر شیعہ مذہب کی عمارت اور اس نظر کے درمیان کہ جس پر شریعت اسلامیہ کی عمارت ایستادہ ہے ایک واضح فرق یہ ہے کہ اسلام کے برعکس شیعہ مذہب میں ختم نبوت کا کوئی تصور نہیں۔
شاید قارئین کرام اتنی عبارت پڑھ کر میرے اوپر انتہا پسندی اور تصرف کا حکم لگا دیں مگر جب وہ ان کثیر التعداد دلائل کا مطالعہ کریں گے جو اس مقالہ میں بیان کیے گئے ہیں تو یقیناً انہیں اپنی رائے تبدیل کرنے کے سوا کوئی مفسر نہیں ہو گا انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ میں نے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کیا ہے:
وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۞ (سورۃ المائدة: آیت 8)
ترجمہ: اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بےانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔
تمہیں کسی قوم کی مخالفت عدل و انصاف سے روگردانی پر مجبور نہ کرے اختلاف کے باوجود عدل و انصاف کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور تقویٰ کا بھی یہی تقاضا ہے۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اہل سنت کے ساتھ خود شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اکثر حضرات کو بھی شیعہ مذہب کے عقائد اور اس کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ وہ اپنی سادہ لوحی کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید سیدنا حسینؓ کی شہادت کے ذکر پہ آنسو بہا لینے، ماتم اور تعزیہ نکال لینے کا نام ہی شیعہ مذہب ہے، ہمیں یقین ہے کہ اگر خود شیعہ حضرات کو بھی شیعی عقائد کا علم ہو جائے تو یقیناً وہ اس مذہب سے توبہ کرنے میں ہی اپنی عاقبت کی بہتری خیال کریں گے۔ امام العصر علامہ احسان الہٰی ظہیر شہیدؒ کا شیعہ قوم پر یہ احسان عظیم ہے کہ آپ نے اپنی تصنیفات اور محاضرات کے ذریعے شیعہ مذہب کی اصلیت اور تاریخی حیثیت واضح کی تاکہ شیعہ قوم کا وہ طبقہ جو صرف اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے شیعہ عقائد کو اختیار کیے ہوئے ہے حقیقت سے آگاہ ہو کر اس مذہب سے توبہ کر کے اپنی عاقبت سنوارنے کی طرف توجہ دے سکے کہ جس مذہب کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں جو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین علیہ السلام کے واسطے سے سیدنا محمد رسول اللہﷺ پہ نازل فرمایا تھا۔
عقیدہ ختم نبوت سے انکار بھی ان عقائد میں سے ہے جن کا اہل سنت کے ساتھ ساتھ خود شیعہ اکثریت کو بھی علم نہیں۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جس سے آگاہی کے بعد شیعہ قوم کے صاحبِ بصیرت طبقے سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس مذہب سے اپنا تعلق ختم کرلے۔
شیعہ قوم اپنے بارہ اماموں کو ان صفات سے متصف کرتی ہے جو کہ نبوت کا خاصہ ہیں۔
1: ان کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا۔
2: ان کا معصوم عن الخطاء ہونا۔
3: ان کی اطاعت کا فرض ہونا۔
4: ان پر وحی اور فرشتوں کا نزول ہونا۔
یہ چاروں صفات اگر کسی بھی انسان میں مان لی جائیں تو اس میں اور انبیائے کرام میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا جب کوئی شخص کسی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ
1: وہ اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث ہے۔
2: وہ معصوم من الخطا ہے۔
3: اس کی اطاعت فرض ہے۔
4: اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔
تو گویا کہ وہ اسے اللہ کا نبی خیال کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ہے۔
شیعہ مذہب میں بارہ اماموں کو یہ چاروں حیثیتیں حاصل ہیں چنانچہ اس مذہب میں محمد رسول اللہﷺ آخری نبی نہ تھے اور نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ ’’امامت‘‘ کے لبادے میں نبوت جاری و ساری ہے اور بارہ امام بارہ امام نہیں بلکہ بارہ نہیں تھے۔ اب ہم ان چاروں صفات یعنی بعثت، عصمت، وجوب اطاعت اور نزول وحی کو خود شیعہ کتب کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے مطابق باره امام ان چاروں صفات سے متصف ہیں۔
بعثت:مشہور شیعہ عالم جسے شیعہ قوم نے ’’خاتم المحدثین‘‘ کا لقب دے رکھا ہے یعنی ملا باقر مجلسی‘‘ اپنی مشہور کتاب ’’حق الیقین‘‘ میں لکھتا ہے۔
’’بارہ امام اللہ کی طرف سے منصوص یعنی مبعوث ہیں۔‘‘(حق القین: 47)
شیعہ قوم کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بارہ اماموں کو بذریعہ نص یا کہہ لیجیے آرڈنینس کے ذریعے نامزد کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نص نازل ہوئی تھی جس میں اماموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس نص کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ پہلے امام تھے اور محمد بن الحسن العسکری آخری امام۔ چنانچہ شیعوں کے ’’شیخ صدوق ‘‘ ابن بابویہ قمی محمد بن یعقوب کلینی اور مشہور شیعہ عالم طوسی نے اپنی کتب میں روایت بیان کی ہے کہ:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر وفات سے قبل ایک کتاب نازل فرمائی اور کہا:
’’يا محمد هذه وصيتك الى التجبة من اهلك‘‘
کہ اے محمدﷺ! یہ تیرے خاندان کے معززین کے لیے وصیت ہے۔
آپﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:
میرے خاندان کے معززین کون لوگ ہیں؟ جبرئیل نے کہا:
علی بن ابی طالب، اور ان کی اولاد میں سے فلاں فلاں۔
اس کتاب پر سنہری رنگ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ آپ نے وہ کتاب امیر المؤمنین علیہ السلام کے سپرد کر دی چنانچہ علی علیہ السلام نے ایک مہر کو کھولا اور اس وصیت کے مطابق اپنے دور امامت میں عمل کیا۔ پھر حسن علیہ السلام نے دوسری مہر کو کھولا اور وصیت کے مطابق عمل کیا حتیٰ کہ وہ کتاب آخری امام تک پہنچ گئی۔
شیعوں کا امام بخاری ’’محمد بن یعقوب کلینی سیدنا جعفر کی طرف منسوب کرتے ہوئے اصول کافی میں لکھتا ہے:
ان الامامة عهد من الله عز وجل معهود لرجال مسمين ليس للامام ان يذوبها عن الذي يكون من بعده۔
’’امامت اللہ عزوجل کی طرف سے ایک منصب ہے جس پر چند برگزیدہ اور متعین ہستیاں فائز ہیں۔ کوئی امام اپنے اختیار سے اپنے بعد والے امام کو اس منصب سے محروم کر کے کسی اور کو اس پہ فائز نہیں کر سکتا۔
(عیون الاخبار الرضاء از ابن بابویہ قمی :جلد 1 صفحہ 43،
اصول کافی :جلد 1 صفحہ 280،
کمال الدین و تمام الدین انعمتہ ازقمی :جلد 2 صفحہ 1229
مالی الصدوق: صفحہ 1328
مالی الطوسی: جلد 2 صفحہ 52
کتاب الغیبة از طوسی: 90
اصول کافی از کلینی باب ان الامامة عہد من الله )
یعنی بارہ اماموں میں سے ہر ایک کا تقرو تعین اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ امامت ایک منصب الہٰی ہے وہی جسے چاہتا امام مقرر کرتا ہے۔ شیعہ اکابرین کا کہنا ہے:
’’يجب على الله نصب الامام كنصب النبي‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرض ہے کہ وہ امام کو بھی اسی طرح مقرر کرے جس طرح کہ وہ نبی کو مقرر کرتا ہے۔
(ملاحظہ ہو منہاج الکرامتہ از حلی: صفحہ 72،
اعیان الشیعہ: جلد 1 صفحہ 6
الشیعتہ فی التاریخ از محمد حسین الزین: صفحہ 44
اصول المعارف از محمد موسوی: صفحہ 82)
یعنی امامت کا منصب بھی نبوت کی طرح اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق سید نا علیؓ شیعوں کے نزدیک اللہ کی طرف سے مقرر کردہ پہلے نام تھے۔ اور ان کی امامت پر ایمان لانا اسی طرح فرض تھا جس طرح کہ سیدنا محمدﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور شیعہ عالم مفید لکھتا ہے:
’’امامیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو خلیفہ نامزد کیا تھا۔ چنانچہ ان کی خلافت و امامت کا منکر دین کے ایک اہم فرض، بنیادی رکن کا منکر تصور ہوگا۔
(اوائل المقالات از مفید: صفحہ 48)
شیعہ عقیدے کے مطابق امت مسلمہ کے وہ تمام مکاتب فکر جو سیدنا ابوبکرؓ کو رسول اللہﷺ کا خلیفہ مانتے ہیں وہ نہ صرف دین اسلام کے ایک بنیادی رکن بلکہ سرے سے نبوت ہی کے منکر ٹھہرتے ہیں کیونکہ علیؓ کی امامت کا انکار تمام انبیائے کرام کی نبوت کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔
(ملاحظہ ہو اعتقادات الصدوق نقل از مقدمتہ البرہان: صفحہ 19)
محمد بن یعقوب کلینی سیدنا باقر رحمۃاللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
’’اللہ نے علی علیہ السلام کو اپنی مخلوق کے لیے نشان ہدایت بنا کر مبعوث کیا ہے۔ جس نے ان کی معرفت حاصل کر لی وہ مومن قرار پائے گا جو ان سے بے خبر رہے گا وہ گمراہ کہلائے گا اور جس نے ان کے ساتھ کسی اور کو بھی ( خلافت و امامت میں) شریک کیا اسے مشرک کہا جائے گا۔
(اصول کافی: جلد 1 صفحہ 437)
شیعہ محدث ابن بابویہ قمی کہتا ہے:
ليس لاحد ان يختار الخليفة الا الله عز و جل۔ (کمال الدین از ابن بابویہ قمی: صفحہ 9)
’’خلیفہ کو منتخب کرنے کا اختیار اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کو نہیں‘‘
مقصود یہ ہے کہ وہ تمام خلفاء جنہیں مسلمان عوام نے منتخب کیا تھا خواہ وہ خلفائے راشدینؓ ہی کیوں نہ ہوں غیر شرعی خلفاء تھے۔ خلافت و امامت صرف سیدنا علیؓ کا حق تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صریح نص کے ذریعے ان کے سر پر تاج کرامت رکھا گیا تھا۔
طبری لکھتا ہے:
بارہ اماموں میں سے ہر امام اللہ کی طرف سے منصوص یعنی مقرر کردہ تھا۔
(اعلام الوریٰ: صفحہ 206،
عقیدۃ اشیعتہ فی الامامتہ از شریعتی: صفحہ 83)
شیعہ فرقے کے اس عقیدے کو بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہوئے ’’اصل الشیعتہ و اصولہا۔‘‘ کا مصنف لکھتا ہے۔
’’الامامة منصب الهي كالنبوة ‘‘ (اصل الشبع واصولہا از کاشف الغطاء: صفحہ 103)
’’یعنی امامت بھی نبوت کی طرح وہی اور خدائی منصب ہے۔‘‘
ان تمام نصوص و عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ علماء اپنے اماموں کو انبیاء ورسل کی مانند اللہ کی طرف سے مبعوث سمجھتے ہیں جب کہ امت مسلمہ کے نزدیک بعثت فقط انبیائے کرام اور رسل اللہ کی خاصیت ہے تو گویا غیر انبیاء کی نسبت مبعوث ہونے کا عقیدہ رکھنا انکار ختم نبوت کی طرف پہلا قدم تھا جو ابن سبا ءنے اٹھایا اور باقی سبائیوں نے اس کی پیروی کی جو آگے چل کر شیعہ مذہب کی بنیاد بنا۔
عصمت:امت مسلمہ کے نزدیک عصمت صرف انبیاء ورسل کا خاصہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا معنیٰ یہی ہے کہ آپ ﷺ ہی خاتم المعصومین ہیں، انبیاء کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت معصوم عن الخطاء نہیں۔ مگر شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ائمہ بھی اس صفت میں انبیاء کرام کے ہم پلہ و شریک ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کی حفاظت و صیانت اور انہیں غلطیوں سے پاک کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ بعینہٖ بارہ امام بھی ہر قسم کی غلطی اور لغزش سے پاک ہیں۔
چنانچہ شیعہ محدث طوسی لکھتا ہے:
’’العصمة عند الامامية شرط اساسى الجميع الانبياء والائمة عليهم السلام سواء في الذنوب الكبيرة والصغيرة قبل النبوة والامامة وبعد هما على سبيل العمد والنسيان، وهكذا العصمة من كل الرذائل والقبائح‘‘
(تلخیص الثانی از طوسی: جلد 1 صفحہ 62)
’’امامیوں کے نزدیک انبیاء اور اماموں کا معصوم ہونا ثبوت و امامت کی بنیادی شرط ہے۔ انبیاء وائمہ کبیرہ و صغیرہ ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہیں ان سے نبوت امامت سے پہلے غلطی کے صدور کا امکان ہے نہ نبوت و امامت کے بعد وہ عمداً گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں نہ نسیانا، اسی طرح وہ ہر قسم کی غیر اخلاقی اور انسانی مروت کے خلاف حرکات سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔
نیز امام چونکہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے۔
(تلخیص الشافی: صفحہ 191)
ملا باقر مجلسی لکھا ہے:
’’اجماع الامامية متعقد على أن الامام مثل النبي معصوم من أول عمره إلى آخر عمره من جميع الذنوب الصغائر والكبائر‘‘
(حق الیقین از مجلسی: صفحہ 40،
عقيدة الشيعتہ في الامامتہ: صفحہ 234)
ترجمہ:‘‘ امامیوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام بھی نبیﷺ کی طرح صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے از پیدائش تا وفات معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔‘‘
ابن بابویہ نے اپنی کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ میں ’’وجوب عصۃ الامام‘‘ کا ایک عنوان قائم کیا ہے جس کے تحت اس نے مختلف روایات کا سہارا لے کر بےبنیاد قسم کے دلائل ذکر کیے ہیں۔ ایک جگہ لکھتا ہے:
’’اگر ہم کسی امام کی امامت کو تو مان لیں مگر اس کے معصوم ہونے پر ایمان نہ لائیں تو اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ ہم نے اس کی امامت کو ہی نہیں مانا۔"
( کمال الدین از ابن بابویہ: جلد 1 صفحہ 15)
یعنی عصمت کے بغیر امامت کا تصور ادھورا اور نامکمل ہے جس طرح یہ کہنا کہ سیدنا محمدﷺ نبی تو ہیں مگر معصوم نہیں انکار نبوت کو مستلزم ہے اسی طرح بارہ اماموں میں سے کسی کی عصمت پر ایمان نہ لانا اس کی امامت کے انکار کو مستلزم ہے۔
طبرسی اپنی کتاب ’’اعلام الوریٰ‘‘ میں لکھتا ہے:
’’الامام لابد ان يكون معصوماً‘‘
(اعلام الوریٰ از طبری: صفحہ 20)
امام کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے۔
نیز ’’انبیاء اور اماموں کے بارے میں ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ ہیں۔ نہ کسی صغیرہ گناہ کا صدور ان سے ممکن ہے نہ کبیرہ گناہ کا ان کی عصمت کا انکار کرنے والا ان کی عظمت کا منکر اور ان کی فضیلت سے ناآشنا ہے‘‘۔
( بحار الانوار از مجلسی: جلد 11 صفحہ 72)
رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے ایک شیعہ عالم لکھتا ہے:
’’انا وعلى والحسن والحسين والتسعة من ولد الحسين مطهرون معصومون‘‘
یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا میں، علی، حسن اور حسین کی اولاد میں سے نو امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں۔
(عیون اخبار الرضا از این بابویہ قمی: جلد 1 صفحہ 64،
عقیدۃ الشیعتہ فی الامامتہ از محمد باقر شریعتی: صفحہ 228)
نیز ’’امام کے لیے معصوم ہونا اس لیے ضروری ہے۔ کہ امام کی بعثت کا مقصد مظلوموں کی دادرسی اور زمین میں عدل و انصاف کا قیام ہوتا ہے۔ اور اگر امام سے بھی غلطی صادر ہونے کا امکان ہو تو اس کی اصلاح کے لیے کسی دوسرے امام کی ضرورت پڑے گی اور یوں تسلسل لازم آئے گا جو کہ محال ہے۔ ”
(عقيدۃ الشیعتہ فی الامامتہ از شریعتی: صفحہ 228)
ابن بابویہ قمی اپنی کتاب معانی الاظہار میں لکھتا ہے:
’’ابن ابی عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:
میں نے ہشام بن حکم سے پوچھا:
کیا امام معصوم ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا: ہاں
راوی کہتا ہے :
میں نے پوچھا:
اوصاف عصمت کیا ہیں؟
کہا:
تمام گناہوں کو ہم چار قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
حرص، حسد، غضب ، اور شہوت
امام حریص اس لیے نہیں ہوتا کہ ساری دنیا اس کے قبضے میں ہوتی ہے۔ وہ خود دنیا کا مالک ہوتا ہے۔ حسد اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کا رتبہ سب سے بلند ہوتا ہے اور انسان حسد اس سے کرتا ہے جو اس سے بالا ہو۔
اسے غصہ اس لیے نہیں آتا کہ اس کی ساری جدوجہد کا محور اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ دنیوی خواہشات و لذت کا متبع اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے آخرت اسی طرح محبوب ہوتی ہے جس طرح ہمیں دنیا۔
گناہ کی یہ چار قسمیں ہیں اور ان چاروں سے امام محفوظ ہوتا ہے۔
(معانی الاخبار از قمی: صفحہ 131، 133،
امالی الصدوق: صفحہ 505)
شیعہ کا چوتھی صدی کا عالم ’’الحرانی‘‘ اپنی کتاب ’’تحف العقول عن آل الرسول میں لکھتا ہے:
’’ الإمام مطهر من الذنوب ميرء من العيوب‘‘
امام گناہوں سے پاک اور عیوب سے صاف ہوتا ہے۔
(تحف الرسول: صفحہ 328)
شیعہ کہتے ہیں:
وجوب عصمة النبيﷺ والله مع عدم وجوب عصمة الامام عليه السلام بما لا يجتمعان كلما وجب عصمة النبيﷺ والله وجب عصمة الامام‘‘
’’نبی اور امام دونوں معصوم ہیں، ایک کی عصمت اور دوسرے کی عدم عصمت اجتماع ناممکن ہے۔ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے تو امام کا معصوم ہونا بھی ضروری ٹھہرے گا‘‘
(عقیدۃ الشیعتہ فی الامامۃ: صفحہ 236)
یعنی یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ تو معصوم عن الخطاء ہیں اور بارہ اماموں میں سے کسی امام کے متعلق یہ کہنا کہ وہ غیر معصوم ہے شیعہ دین کے مطابق درست نہیں۔ عصمت ائمہ کے بارے میں آخری نص نقل کر کے ہم اس موضوع کو سمیٹتے ہیں‘‘ مشہور شیعہ عالم محسن امین اپنی کتب ’’اعیان اشیعتہ‘‘ میں کہتا ہے:
’’يجب في الامام أن يكون معصوما كما يجب في النبی‘‘
یعنی ’’امام کے متعلق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح نبی کے متعلق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا واجب ہے۔‘‘
(اعیان الشیعتہ از محسن امین: جلد 1 صفحہ 101)
ان تمام نصوص و اقتباسات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیعہ دین میں جس طرح امام، انبیاء کرام کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اور اس کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اسی طرح وہ معصوم عن الخطا بھی ہوتا ہے۔
انکار ختم نبوت کی طرف شیعہ علماء کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ دوسرا قدم تھا۔
وجوب اطاعت :تیسرے نمبر پر شیعہ فقہاء محدثین نے انکار ختم نبوت کے لیے جو عقیدہ وضع کیا وہ یہ تھا کہ اماموں کی اطاعت لوگوں پر فرض ہے یعنی جس طرح انبیائے کرام کے ارشادات و فرامین سے رو گردانی کرنا کفر ہے اسی طرح اگر کوئی شخص بارہ اماموں میں سے کسی امام کی نافرمانی کرتا ہے یا اس کی اطاعت و اتباع کو فرض نہیں سمجھتا ہے تو وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لیے کہ وہ بھی انبیائے کرام کے ہم پلہ اور حاملین اوصاف نبوت ہیں۔ ابن بابویہ قمی اور ابن شیعہ حرانی متوفی 381 ھ شیعہ کے آٹھویں امام علی بن موسیٰ رضا سے روایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
امامت انبیاء کا رتبہ ہے امام اللہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ امام اسلام کی بنیاد بھی ہے اور اس کی شاخ بھی۔ نماز ،روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض و واجبات امام کے بغیر قبول نہیں ہوتے۔ امام کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اشیاء کو حلال یا حرام قرار دے۔ امام اللہ کا خلیفہ اور اس کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہوتا ہے۔ پوری کائنات میں امام سب سے زیادہ افضل ہوتا ہے کوئی اس کا ہم مرتبہ نہیں ہوتا۔
یہ فضائل (نبوت کی طرح) وہبی اور غیر کسبی ہیں۔ امام نبوت کا خزانہ ہوتا ہے۔ اس کے حسب و نسب پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔
آخر میں بقول شیعہ امام علی رضا کہتے ہیں:
مستحق للرئاسة مفترض الطاعة
یعنی اقتدار کا حق صرف امام کو ہوتا ہے اس کی اطاعت لوگوں پر فرض ہوتی ہے۔
(امالی الصدوق: صفحہ 540،
کمال الدین: جلد 2 صفحہ 677،
تحف العقول للحرانی: صفحہ 326)
امام کے واجب الاطاعت ہونے کے عقیدہ کے وضاحت کرتے ہوئے شیعہ محدث طوسی لکھتا ہے:
’’ سیدنا ہارون علیہ السلام کی اطاعت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کی امت پر فرض تھی اس لیے کہ وہ شریک نبوت تھے اور ظاہر ہے کہ اگر ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد زندہ رہتے تب بھی ان کی اطاعت امت پر فرض رہتی اور چونکہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علی علیہ السلام کو وہ تمام مراتب عطا کیے تھے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دیے گئے تھے چنانچہ ثابت ہوا۔ رسول اللہﷺ کے بعد آپ کی امت پر علی علیہ السلام کی اطاعت (رسول اللہ کی طرح) فرض رہی۔
(تلخیص الشافی از طوسی: جلد 2 صفحہ 210)
قارئین اسی ایک نص سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ شیعہ دین میں امامت اور امام کا مفہوم کیا ہے اور یہ کہ سیدنا علیؓ سول اللہﷺ کے خلیفہ نہیں بلکہ وہ آپ کی نبوت میں شریک اور آپ کے ہم رتبہ و ہم پلہ تھے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے طوسی لکھتا ہے:
’’ على من الرسول ﷺ كنفسه طاعته كطاعته ومعصیته کمعصیته‘‘
(تلخیص الشافی از طوسی: صفحہ 81)
على رسول اللہﷺ کے ہم مثل ہیں ان کی اطاعت رسول اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی معصیت رسول اللہ کی معصیت ہے۔
یعنی سول اللهﷺ اور سیدنا علیؓ کا مرتبہ برابر تھا۔ جس طرح رسول اللہﷺ مبعوث، معصوم اور واجب الاطاعت تھے اسی طرح سیدنا علیؓ بھی مبعوث، معصوم اور واجب الاطاعت تھے، رسالت اور امامت میں لفظی فرق تو ضرور ہے مگر حقیقت میں دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
عياذاً باالله
چھٹی صدی ہجری کا مشہور شیعہ محدث ابو جعفر طبری اپنی کتاب ’’بشارۃ المصطفی لشیعتہ المرتضٰی‘‘ میں بیان کرتا ہے:
ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ علی کا یہ کہنا درست ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی مخلوق کے لیے امیر مقرر کیا ہے؟
اس شخص کا یہ سوال سن کر آپ غصہ میں آگئے اور فرمایا:
علی مؤمنوں کے امیر ہیں اللہ نے ان کے امارت کا فیصلہ فرشتوں کو گواہ بنا کر اپنے عرش پر کیا ہے، علی اللہ کے خلیفہ اور مسلمانوں کے امام علی کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔
ان کی معصیت اللہ کی معصیت ہے۔
ان کی پہچان میری پہچان ہے۔
ان کی امامت کا منکر میری نبوت کا منکر ہے۔
اور ان کی امارت کا منکر میری رسالت کا منکر ہے۔
علی، فاطمہ، حسن، حسین اور باقی نو امام اللہ کے بندوں پر حجت ہیں۔
’’ہمارا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور ہمارا دوست اللہ کا دوست ہے‘‘۔
(بشارۃ المصطفیٰ از طبرسی متوفی: 533 مطبوعہ نجف عراق)
اس روایت سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ بارہ اماموں کی اطاعت رسول اللہﷺ کی طرح امت پر فرض ہے۔
شیعہ علی رضا آٹھویں امام سے نقل کرتے ہیں کہ :
آپ نے فرمایا:
مجلسی‘‘ (بشارة مصطفیٰ از طبرسی متوفی 533 مطبوعہ نجف عراق)
یعنی لوگ اطاعت کی اعتبار سے ہمارے غلام ہیں۔
مجلسی لکھتا ہے:
’’طاعة الأئمة واجبة على الناس في اقوالهم وافعالهم
(حق الیقین از مجلسی باب اثبات الامامۃ: صفحہ 41)
’’لوگوں پر اماموں کے اقوال و افعال کی اطاعت فرض ہے۔
بحار الانوار میں لکھتا ہے:
’’ان طاعة الائمة كطاعة الرسول ومعصيتهم كمعصية الرسول‘‘
(بحار الانوار از ملا باقر مجلسی: جلد 25 صفحہ 361، عقیدۃ الشیعتہ فی الامامتہ: صفحہ 209)
اماموں کی اطاعت رسول اللہﷺ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی رسول کی نافرمانی ہے۔ ابو خالد کابلی سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا:
میں علی زین العابدین۔ (شیعہ کے چوتھے امام) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے پوچھا:
اے صاحبزادہ رسول! ہمارے اوپر اللہ کی طرف سے کن کی اطاعت فرض ہے؟
آپ نے فرمایا:
’’علی علیہ السلام کی پھر حسن اور پھر حسین علیہ السلام کی۔ اور اب یہ سلسلہ ہم تک پہنچ چکا ہے۔“
(بحار الانوار از مجلسی، باب نص علی بن الحسین علیہ السلام: جلد 36 صفحہ 386)
کلینی لکھتا ہے: امام جعفر فرماتے ہیں:
نحن قوم معصومون امر الله تبارک و تعالٰى بطاعتنا ونهى عن معصيتنا نحن الحجة البالغة على من دون السماء وفوق الارض“
(اصول کافی: جلد 2 صفحہ 269)
’’ہم سب بارہ امام معصوم عن الخطاء ہیں اللہ نے ہماری اطاعت کا حکم دیا ہے اور ہماری نافرمانی سے منع فرمایا ہے، ہم آسمان سے نیچے اور زمین کے اوپر رہنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے حجت ہیں۔
بارہ اماموں میں سے کسی اور امام کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہی کلینی لکھتا ہے۔ انہوں نے کہا:
’’ طا عتى مفترضة مثل طاعة على وكذالك الائمة من بعدی‘‘ (اصول کافی: جلد 1 صفحہ 187)
’’میری اطاعت علی کی اطاعت کی طرح فرض ہے۔ اسی طرح میرے بعد آنے والے کاموں کے اطاعت بھی فرض ہے‘‘
اسی بنا پر شیعہ مفسر ’’البحرانی ‘‘ کہتا ہے:
’’من جحد امامة امام الله فهو كافر مرتد‘‘
(تفسیر البریان: مقدمہ صفحہ 21)
’’بارہ اماموں میں سے کسی امام کی امامت‘‘ کا انکار کرنے والا کافر و مرتد ہے۔
مشہور شیعہ عالم مفید فرید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’اماموں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو شخص کسی امام کی امامت پر ایمان نہ لائے اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو تسلیم نہ کرے
’’فھو کافر صال مستحق الخلود في لنار‘‘
(کتاب المسائل از مفید نقل از مقدمہ البرہان للبحرانی: صفحہ 20)
یعنی وہ کافر گمراہ اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا مستحق ہے‘‘
اسی سلسلے میں ابن بابویہ قمی جسے شیعوں نے ’’صدوق‘‘ کا لقب دے رکھا ہے۔ اپنی کتاب میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس شیعی عقیدے کو بیان کرتا ہے:
’’اعتقادنا فيمن جحد امامة امير المومنين على بن ابي طالب عليه السلام وأئمة من بعده انه كمن جحد نبوة جميع