شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت

  مولانا عطاء الرحمٰن ثاقب شہیدؒ

صفحہ 4 از 5

امامت انبیاء کا رتبہ ہے امام اللہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ امام اسلام کی بنیاد بھی ہے اور اس کی شاخ بھی۔ نماز ،روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض و واجبات امام کے بغیر قبول نہیں ہوتے۔ امام کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اشیاء کو حلال یا حرام قرار دے۔ امام اللہ کا خلیفہ اور اس کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہوتا ہے۔ پوری کائنات میں امام سب سے زیادہ افضل ہوتا ہے کوئی اس کا ہم مرتبہ نہیں ہوتا۔

یہ فضائل (نبوت کی طرح) وہبی اور غیر کسبی ہیں۔ امام نبوت کا خزانہ ہوتا ہے۔ اس کے حسب و نسب پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔

آخر میں بقول شیعہ امام علی رضا کہتے ہیں:

مستحق للرئاسة مفترض الطاعة

یعنی اقتدار کا حق صرف امام کو ہوتا ہے اس کی اطاعت لوگوں پر فرض ہوتی ہے۔

(امالی الصدوق: صفحہ 540،

 کمال الدین: جلد 2 صفحہ 677،

 تحف العقول للحرانی: صفحہ 326) 

امام کے واجب الاطاعت ہونے کے عقیدہ کے وضاحت کرتے ہوئے شیعہ محدث طوسی لکھتا ہے:

’’ سیدنا ہارون علیہ السلام کی اطاعت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کی امت پر فرض تھی اس لیے کہ وہ شریک نبوت تھے اور ظاہر ہے کہ اگر ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد زندہ رہتے تب بھی ان کی اطاعت امت پر فرض رہتی اور چونکہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علی علیہ السلام کو وہ تمام مراتب عطا کیے تھے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دیے گئے تھے چنانچہ ثابت ہوا۔ رسول اللہﷺ کے بعد آپ کی امت پر علی علیہ السلام کی اطاعت (رسول اللہ کی طرح) فرض رہی۔

(تلخیص الشافی از طوسی: جلد 2 صفحہ 210) 

قارئین اسی ایک نص سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ شیعہ دین میں امامت اور امام کا مفہوم کیا ہے اور یہ کہ سیدنا علیؓ سول اللہﷺ کے خلیفہ نہیں بلکہ وہ آپ کی نبوت میں شریک اور آپ کے ہم رتبہ و ہم پلہ تھے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے طوسی لکھتا ہے:

’’ على من الرسول ﷺ كنفسه طاعته كطاعته ومعصیته کمعصیته‘‘

(تلخیص الشافی از طوسی: صفحہ 81)

على رسول اللہﷺ کے ہم مثل ہیں ان کی اطاعت رسول اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی معصیت رسول اللہ کی معصیت ہے۔

یعنی سول اللهﷺ اور سیدنا علیؓ کا مرتبہ برابر تھا۔ جس طرح رسول اللہﷺ مبعوث، معصوم اور واجب الاطاعت تھے اسی طرح سیدنا علیؓ بھی مبعوث، معصوم اور واجب الاطاعت تھے، رسالت اور امامت میں لفظی فرق تو ضرور ہے مگر حقیقت میں دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔

عياذاً باالله

چھٹی صدی ہجری کا مشہور شیعہ محدث ابو جعفر طبری اپنی کتاب ’’بشارۃ المصطفی لشیعتہ المرتضٰی‘‘ میں بیان کرتا ہے:

ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ علی کا یہ کہنا درست ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی مخلوق کے لیے امیر مقرر کیا ہے؟

اس شخص کا یہ سوال سن کر آپ غصہ میں آگئے اور فرمایا:

علی مؤمنوں کے امیر ہیں اللہ نے ان کے امارت کا فیصلہ فرشتوں کو گواہ بنا کر اپنے عرش پر کیا ہے، علی اللہ کے خلیفہ اور مسلمانوں کے امام علی کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔

ان کی معصیت اللہ کی معصیت ہے۔

ان کی پہچان میری پہچان ہے۔

ان کی امامت کا منکر میری نبوت کا منکر ہے۔

اور ان کی امارت کا منکر میری رسالت کا منکر ہے۔

علی، فاطمہ، حسن، حسین اور باقی نو امام اللہ کے بندوں پر حجت ہیں۔

’’ہمارا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور ہمارا دوست اللہ کا دوست ہے‘‘۔

(بشارۃ المصطفیٰ از طبرسی متوفی: 533 مطبوعہ نجف عراق)

اس روایت سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ بارہ اماموں کی اطاعت رسول اللہﷺ کی طرح امت پر فرض ہے۔

شیعہ علی رضا آٹھویں امام سے نقل کرتے ہیں کہ :

آپ نے فرمایا:

مجلسی‘‘ (بشارة مصطفیٰ از طبرسی متوفی 533 مطبوعہ نجف عراق)

یعنی لوگ اطاعت کی اعتبار سے ہمارے غلام ہیں۔

مجلسی لکھتا ہے:

’’طاعة الأئمة واجبة على الناس في اقوالهم وافعالهم

 (حق الیقین از مجلسی باب اثبات الامامۃ: صفحہ 41)

’’لوگوں پر اماموں کے اقوال و افعال کی اطاعت فرض ہے۔

بحار الانوار میں لکھتا ہے:

’ان طاعة الائمة كطاعة الرسول ومعصيتهم كمعصية الرسول‘‘ 

(بحار الانوار از ملا باقر مجلسی: جلد 25 صفحہ 361، عقیدۃ الشیعتہ فی الامامتہ: صفحہ 209)

اماموں کی اطاعت رسول اللہﷺ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی رسول کی نافرمانی ہے۔ ابو خالد کابلی سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا:

میں علی زین العابدین۔ (شیعہ کے چوتھے امام) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے پوچھا:

اے صاحبزادہ رسول! ہمارے اوپر اللہ کی طرف سے کن کی اطاعت فرض ہے؟

آپ نے فرمایا:

’’علی علیہ السلام کی پھر حسن اور پھر حسین علیہ السلام کی۔ اور اب یہ سلسلہ ہم تک پہنچ چکا ہے۔“

(بحار الانوار از مجلسی، باب نص علی بن الحسین علیہ السلام: جلد 36 صفحہ 386)

کلینی لکھتا ہے: امام جعفر فرماتے ہیں:

نحن قوم معصومون امر الله تبارک و تعالٰى بطاعتنا ونهى عن معصيتنا نحن الحجة البالغة على من دون السماء وفوق الارض“ 

(اصول کافی: جلد 2 صفحہ 269)

’’ہم سب بارہ امام معصوم عن الخطاء ہیں اللہ نے ہماری اطاعت کا حکم دیا ہے اور ہماری نافرمانی سے منع فرمایا ہے، ہم آسمان سے نیچے اور زمین کے اوپر رہنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے حجت ہیں۔

بارہ اماموں میں سے کسی اور امام کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہی کلینی لکھتا ہے۔ انہوں نے کہا:

’’ طا عتى مفترضة مثل طاعة على وكذالك الائمة من بعدی‘‘ (اصول کافی: جلد 1 صفحہ 187)

’’میری اطاعت علی کی اطاعت کی طرح فرض ہے۔ اسی طرح میرے بعد آنے والے کاموں کے اطاعت بھی فرض ہے‘‘

اسی بنا پر شیعہ مفسر ’’البحرانی ‘‘ کہتا ہے:

’’من جحد امامة امام الله فهو كافر مرتد‘‘

 (تفسیر البریان: مقدمہ صفحہ 21)

’’بارہ اماموں میں سے کسی امام کی امامت‘‘ کا انکار کرنے والا کافر و مرتد ہے۔

مشہور شیعہ عالم مفید فرید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’اماموں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو شخص کسی امام کی امامت پر ایمان نہ لائے اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو تسلیم نہ کرے

’’فھو کافر صال مستحق الخلود في لنار‘‘

 (کتاب المسائل از مفید نقل از مقدمہ البرہان للبحرانی: صفحہ 20) 

یعنی وہ کافر گمراہ اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا مستحق ہے‘‘

صفحہ 4 از 5