شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت

  مولانا عطاء الرحمٰن ثاقب شہیدؒ

صفحہ 3 از 5

نیز امام چونکہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

(تلخیص الشافی: صفحہ 191)

ملا باقر مجلسی لکھا ہے:

’’اجماع الامامية متعقد على أن الامام مثل النبي معصوم من أول عمره إلى آخر عمره من جميع الذنوب الصغائر والكبائر‘‘ 

(حق الیقین از مجلسی: صفحہ 40،

عقيدة الشيعتہ في الامامتہ: صفحہ 234)

ترجمہ:‘‘ امامیوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام بھی نبیﷺ کی طرح صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے از پیدائش تا وفات معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔‘‘

ابن بابویہ نے اپنی کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ میں ’’وجوب عصۃ الامام‘‘ کا ایک عنوان قائم کیا ہے جس کے تحت اس نے مختلف روایات کا سہارا لے کر بےبنیاد قسم کے دلائل ذکر کیے ہیں۔ ایک جگہ لکھتا ہے:

’’اگر ہم کسی امام کی امامت کو تو مان لیں مگر اس کے معصوم ہونے پر ایمان نہ لائیں تو اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ ہم نے اس کی امامت کو ہی نہیں مانا۔"

( کمال الدین از ابن بابویہ: جلد 1 صفحہ 15)

یعنی عصمت کے بغیر امامت کا تصور ادھورا اور نامکمل ہے جس طرح یہ کہنا کہ سیدنا محمدﷺ نبی تو ہیں مگر معصوم نہیں انکار نبوت کو مستلزم ہے اسی طرح بارہ اماموں میں سے کسی کی عصمت پر ایمان نہ لانا اس کی امامت کے انکار کو مستلزم ہے۔

طبرسی اپنی کتاب ’’اعلام الوریٰ‘‘ میں لکھتا ہے:

’’الامام لابد ان يكون معصوماً‘‘ 

(اعلام الوریٰ از طبری: صفحہ 20)

امام کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے۔

نیز ’’انبیاء اور اماموں کے بارے میں ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ ہیں۔ نہ کسی صغیرہ گناہ کا صدور ان سے ممکن ہے نہ کبیرہ گناہ کا ان کی عصمت کا انکار کرنے والا ان کی عظمت کا منکر اور ان کی فضیلت سے ناآشنا ہے‘‘۔

( بحار الانوار از مجلسی: جلد 11 صفحہ 72)

رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے ایک شیعہ عالم لکھتا ہے:

’’انا وعلى والحسن والحسين والتسعة من ولد الحسين مطهرون معصومون‘‘

یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا میں، علی، حسن اور حسین کی اولاد میں سے نو امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں۔

(عیون اخبار الرضا از این بابویہ قمی: جلد 1 صفحہ 64، 

عقیدۃ الشیعتہ فی الامامتہ از محمد باقر شریعتی: صفحہ 228)

نیز ’’امام کے لیے معصوم ہونا اس لیے ضروری ہے۔ کہ امام کی بعثت کا مقصد مظلوموں کی دادرسی اور زمین میں عدل و انصاف کا قیام ہوتا ہے۔ اور اگر امام سے بھی غلطی صادر ہونے کا امکان ہو تو اس کی اصلاح کے لیے کسی دوسرے امام کی ضرورت پڑے گی اور یوں تسلسل لازم آئے گا جو کہ محال ہے۔ ”

(عقيدۃ الشیعتہ فی الامامتہ از شریعتی: صفحہ 228)

ابن بابویہ قمی اپنی کتاب معانی الاظہار میں لکھتا ہے:

’’ابن ابی عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:

میں نے ہشام بن حکم سے پوچھا:

کیا امام معصوم ہوتا ہے؟

انہوں نے کہا: ہاں

راوی کہتا ہے :

میں نے پوچھا:

اوصاف عصمت کیا ہیں؟

کہا:

تمام گناہوں کو ہم چار قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

حرص، حسد، غضب ، اور شہوت

امام حریص اس لیے نہیں ہوتا کہ ساری دنیا اس کے قبضے میں ہوتی ہے۔ وہ خود دنیا کا مالک ہوتا ہے۔ حسد اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کا رتبہ سب سے بلند ہوتا ہے اور انسان حسد اس سے کرتا ہے جو اس سے بالا ہو۔

اسے غصہ اس لیے نہیں آتا کہ اس کی ساری جدوجہد کا محور اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ دنیوی خواہشات و لذت کا متبع اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے آخرت اسی طرح محبوب ہوتی ہے جس طرح ہمیں دنیا۔

گناہ کی یہ چار قسمیں ہیں اور ان چاروں سے امام محفوظ ہوتا ہے۔

(معانی الاخبار از قمی: صفحہ 131، 133،

 امالی الصدوق: صفحہ 505)

شیعہ کا چوتھی صدی کا عالم ’’الحرانی‘‘ اپنی کتاب ’’تحف العقول عن آل الرسول میں لکھتا ہے:

’’ الإمام مطهر من الذنوب ميرء من العيوب‘‘

امام گناہوں سے پاک اور عیوب سے صاف ہوتا ہے۔

(تحف الرسول: صفحہ 328)

شیعہ کہتے ہیں:

 وجوب عصمة النبيﷺ والله مع عدم وجوب عصمة الامام عليه السلام بما لا يجتمعان كلما وجب عصمة النبيﷺ والله وجب عصمة الامام‘‘

’’نبی اور امام دونوں معصوم ہیں، ایک کی عصمت اور دوسرے کی عدم عصمت اجتماع ناممکن ہے۔ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے تو امام کا معصوم ہونا بھی ضروری ٹھہرے گا‘‘

(عقیدۃ الشیعتہ فی الامامۃ: صفحہ 236)

یعنی یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ تو معصوم عن الخطاء ہیں اور بارہ اماموں میں سے کسی امام کے متعلق یہ کہنا کہ وہ غیر معصوم ہے شیعہ دین کے مطابق درست نہیں۔ عصمت ائمہ کے بارے میں آخری نص نقل کر کے ہم اس موضوع کو سمیٹتے ہیں‘‘ مشہور شیعہ عالم محسن امین اپنی کتب ’’اعیان اشیعتہ‘‘ میں کہتا ہے:

’’يجب في الامام أن يكون معصوما كما يجب في النبی‘‘

یعنی ’’امام کے متعلق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح نبی کے متعلق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا واجب ہے۔‘‘

(اعیان الشیعتہ از محسن امین: جلد 1 صفحہ 101) 

ان تمام نصوص و اقتباسات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیعہ دین میں جس طرح امام، انبیاء کرام کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اور اس کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اسی طرح وہ معصوم عن الخطا بھی ہوتا ہے۔

انکار ختم نبوت کی طرف شیعہ علماء کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ دوسرا قدم تھا۔

وجوب اطاعت :تیسرے نمبر پر شیعہ فقہاء محدثین نے انکار ختم نبوت کے لیے جو عقیدہ وضع کیا وہ یہ تھا کہ اماموں کی اطاعت لوگوں پر فرض ہے یعنی جس طرح انبیائے کرام کے ارشادات و فرامین سے رو گردانی کرنا کفر ہے اسی طرح اگر کوئی شخص بارہ اماموں میں سے کسی امام کی نافرمانی کرتا ہے یا اس کی اطاعت و اتباع کو فرض نہیں سمجھتا ہے تو وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لیے کہ وہ بھی انبیائے کرام کے ہم پلہ اور حاملین اوصاف نبوت ہیں۔ ابن بابویہ قمی اور ابن شیعہ حرانی متوفی 381 ھ شیعہ کے آٹھویں امام علی بن موسیٰ رضا سے روایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 3 از 5