شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت

  مولانا عطاء الرحمٰن ثاقب شہیدؒ

صفحہ 2 از 5

 ’’يا محمد هذه وصيتك الى التجبة من اهلك‘‘

کہ اے محمدﷺ! یہ تیرے خاندان کے معززین کے لیے وصیت ہے۔

آپﷺ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:

میرے خاندان کے معززین کون لوگ ہیں؟ جبرئیل نے کہا:

علی بن ابی طالب، اور ان کی اولاد میں سے فلاں فلاں۔

اس کتاب پر سنہری رنگ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ آپ نے وہ کتاب امیر المؤمنین علیہ السلام کے سپرد کر دی چنانچہ علی علیہ السلام نے ایک مہر کو کھولا اور اس وصیت کے مطابق اپنے دور امامت میں عمل کیا۔ پھر حسن علیہ السلام نے دوسری مہر کو کھولا اور وصیت کے مطابق عمل کیا حتیٰ کہ وہ کتاب آخری امام تک پہنچ گئی۔

شیعوں کا امام بخاری ’’محمد بن یعقوب کلینی سیدنا جعفر کی طرف منسوب کرتے ہوئے اصول کافی میں لکھتا ہے:

 ان الامامة عهد من الله عز وجل معهود لرجال مسمين ليس للامام ان يذوبها عن الذي يكون من بعده۔

’’امامت اللہ عزوجل کی طرف سے ایک منصب ہے جس پر چند برگزیدہ اور متعین ہستیاں فائز ہیں۔ کوئی امام اپنے اختیار سے اپنے بعد والے امام کو اس منصب سے محروم کر کے کسی اور کو اس پہ فائز نہیں کر سکتا۔

(عیون الاخبار الرضاء از ابن بابویہ قمی :جلد 1 صفحہ 43،

اصول کافی :جلد 1 صفحہ 280،

کمال الدین و تمام الدین انعمتہ ازقمی :جلد 2 صفحہ 1229

مالی الصدوق: صفحہ 1328

مالی الطوسی: جلد 2 صفحہ 52

کتاب الغیبة از طوسی: 90

اصول کافی از کلینی باب ان الامامة عہد من الله )

یعنی بارہ اماموں میں سے ہر ایک کا تقرو تعین اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ امامت ایک منصب الہٰی ہے وہی جسے چاہتا امام مقرر کرتا ہے۔ شیعہ اکابرین کا کہنا ہے:

’’يجب على الله نصب الامام كنصب النبي‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرض ہے کہ وہ امام کو بھی اسی طرح مقرر کرے جس طرح کہ وہ نبی کو مقرر کرتا ہے۔

 (ملاحظہ ہو منہاج الکرامتہ از حلی: صفحہ 72،

اعیان الشیعہ: جلد 1 صفحہ 6

 الشیعتہ فی التاریخ از محمد حسین الزین: صفحہ 44

اصول المعارف از محمد موسوی: صفحہ 82)

یعنی امامت کا منصب بھی نبوت کی طرح اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق سید نا علیؓ شیعوں کے نزدیک اللہ کی طرف سے مقرر کردہ پہلے نام تھے۔ اور ان کی امامت پر ایمان لانا اسی طرح فرض تھا جس طرح کہ سیدنا محمدﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور شیعہ عالم مفید لکھتا ہے:

’’امامیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو خلیفہ نامزد کیا تھا۔ چنانچہ ان کی خلافت و امامت کا منکر دین کے ایک اہم فرض، بنیادی رکن کا منکر تصور ہوگا۔

(اوائل المقالات از مفید: صفحہ 48)

شیعہ عقیدے کے مطابق امت مسلمہ کے وہ تمام مکاتب فکر جو سیدنا ابوبکرؓ کو رسول اللہﷺ کا خلیفہ مانتے ہیں وہ نہ صرف دین اسلام کے ایک بنیادی رکن بلکہ سرے سے نبوت ہی کے منکر ٹھہرتے ہیں کیونکہ علیؓ کی امامت کا انکار تمام انبیائے کرام کی نبوت کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔

(ملاحظہ ہو اعتقادات الصدوق نقل از مقدمتہ البرہان: صفحہ 19)

محمد بن یعقوب کلینی سیدنا باقر رحمۃاللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

’’اللہ نے علی علیہ السلام کو اپنی مخلوق کے لیے نشان ہدایت بنا کر مبعوث کیا ہے۔ جس نے ان کی معرفت حاصل کر لی وہ مومن قرار پائے گا جو ان سے بے خبر رہے گا وہ گمراہ کہلائے گا اور جس نے ان کے ساتھ کسی اور کو بھی ( خلافت و امامت میں) شریک کیا اسے مشرک کہا جائے گا۔ 

(اصول کافی: جلد 1 صفحہ 437)

شیعہ محدث ابن بابویہ قمی کہتا ہے:

ليس لاحد ان يختار الخليفة الا الله عز و جل۔ (کمال الدین از ابن بابویہ قمی: صفحہ 9) 

’’خلیفہ کو منتخب کرنے کا اختیار اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کو نہیں‘‘

مقصود یہ ہے کہ وہ تمام خلفاء جنہیں مسلمان عوام نے منتخب کیا تھا خواہ وہ خلفائے راشدینؓ ہی کیوں نہ ہوں غیر شرعی خلفاء تھے۔ خلافت و امامت صرف سیدنا علیؓ کا حق تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صریح نص کے ذریعے ان کے سر پر تاج کرامت رکھا گیا تھا۔

طبری لکھتا ہے:

بارہ اماموں میں سے ہر امام اللہ کی طرف سے منصوص یعنی مقرر کردہ تھا۔

(اعلام الوریٰ: صفحہ 206،

 عقیدۃ اشیعتہ فی الامامتہ از شریعتی: صفحہ 83)

 شیعہ فرقے کے اس عقیدے کو بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہوئے ’’اصل الشیعتہ و اصولہا۔‘‘ کا مصنف لکھتا ہے۔

’’الامامة منصب الهي كالنبوة ‘‘ (اصل الشبع واصولہا از کاشف الغطاء: صفحہ 103) 

’’یعنی امامت بھی نبوت کی طرح وہی اور خدائی منصب ہے۔‘‘

ان تمام نصوص و عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ علماء اپنے اماموں کو انبیاء ورسل کی مانند اللہ کی طرف سے مبعوث سمجھتے ہیں جب کہ امت مسلمہ کے نزدیک بعثت فقط انبیائے کرام اور رسل اللہ کی خاصیت ہے تو گویا غیر انبیاء کی نسبت مبعوث ہونے کا عقیدہ رکھنا انکار ختم نبوت کی طرف پہلا قدم تھا جو ابن سبا ءنے اٹھایا اور باقی سبائیوں نے اس کی پیروی کی جو آگے چل کر شیعہ مذہب کی بنیاد بنا۔

عصمت:امت مسلمہ کے نزدیک عصمت صرف انبیاء ورسل کا خاصہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا معنیٰ یہی ہے کہ آپ ﷺ ہی خاتم المعصومین ہیں، انبیاء کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت معصوم عن الخطاء نہیں۔ مگر شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ائمہ بھی اس صفت میں انبیاء کرام کے ہم پلہ و شریک ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کی حفاظت و صیانت اور انہیں غلطیوں سے پاک کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ بعینہٖ بارہ امام بھی ہر قسم کی غلطی اور لغزش سے پاک ہیں۔

چنانچہ شیعہ محدث طوسی لکھتا ہے:

’’العصمة عند الامامية شرط اساسى الجميع الانبياء والائمة عليهم السلام سواء في الذنوب الكبيرة والصغيرة قبل النبوة والامامة وبعد هما على سبيل العمد والنسيان، وهكذا العصمة من كل الرذائل والقبائح‘‘ 

(تلخیص الثانی از طوسی: جلد 1 صفحہ 62)

’’امامیوں کے نزدیک انبیاء اور اماموں کا معصوم ہونا ثبوت و امامت کی بنیادی شرط ہے۔ انبیاء وائمہ کبیرہ و صغیرہ ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہیں ان سے نبوت امامت سے پہلے غلطی کے صدور کا امکان ہے نہ نبوت و امامت کے بعد وہ عمداً گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں نہ نسیانا، اسی طرح وہ ہر قسم کی غیر اخلاقی اور انسانی مروت کے خلاف حرکات سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔

صفحہ 2 از 5