حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے صحابہ رضی اللہ…

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا دفاع کرنا اور آپ کا انکار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حضرت کعب بن مالک انصاریؓ نے انصار کو حضرت عثمانؓ کی نصرت پر ابھارا اور ان سے کہا: اے انصار! اللہ کے انصار بن جاؤ، اے انصار! اللہ کے انصار بن جاؤ، انصار حضرت عثمان غنیؓ کے پاس پہنچے اور ان کے دروازہ پر ٹھہر گئے۔ حضرت زید بن ثابتؓ اندر داخل ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ سے عرض کیا: یہ انصار دروازے پر کھڑے ہیں اگر آپ چاہیں تو ہم اللہ کے انصار بن جائیں، اگر آپ چاہیں تو ہم اللہ کے انصار بن جائیں۔

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 70، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 162)

 لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے قتال کی اجازت دینے سے انکار کیا اور فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔

(فتنۃ مقتل عثمانؓ: جلد 1 صفحہ 162)

6: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما:

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے اور عرض کیا: کیا میں اپنی تلوار سونت لوں؟ فرمایا: نہیں، اگر تم نے ایسا کیا تو میں اللہ کے حضور تمہارے خون سے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ تم اپنی تلوار میان میں ڈالو اور اپنے والد کے پاس چلے جاؤ۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 162) المصنف، ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 224)

7: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما:

جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا کہ سنگین صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور بغاوت کا سیلاب حد سے تجاوز کر چکا ہے تو بعض صحابہ کرامؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے مشورہ کیے بغیر دفاع کا عزم کر لیا اور بعض حضرات قتال کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی انہی میں سے تھے۔ آپ تلوار لٹکائے، زرہ پہنے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ کے ساتھ گھر میں تھے تاکہ آپ کے دفاع میں قتال کریں لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے اس خوف سے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا کہ کہیں باغیوں کے ساتھ قتال نہ کر بیٹھیں اور پھر قتل کر دیے جائیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دوبارہ پھر تلوار لٹکائے اور زرہ پہنے حاضر ہوئے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 163)

8: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:

حضرت ابوہریرہ، عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس یہ کہتے ہوئے حاضر ہوئے اے امیر المؤمنین! قتال اچھا ہے۔ ان سے سیدنا عثمان غنیؓ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا تمھیں یہ پسند ہے کہ تم تمام لوگوں کو اور مجھے بھی قتل کر دو؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: نہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم نے ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔ یہ سن کر حضرت ابوہریرہؓ واپس ہو گئے اور قتال نہ کیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ تلوار لٹکائے ہوئے رہے یہاں تک کہ سیدنا عثمان غنیؓ نے انہیں منع کر دیا۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 164)

9: سیدنا سلیط بن سلیط رضی اللہ عنہ:

فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے ہمیں باغیوں سے قتال کرنے سے منع کر دیا ورنہ ہم انہیں مار کر نکال باہر کرتے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 165)

ابن سیرین رحمۃاللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان غنیؓ کے ساتھ سات سو افراد گھر میں تھے اگر حضرت عثمان غنیؓ انہیں قتال کی اجازت دیتے تو ان شاء اللہ وہ باغیوں کو مار بھگاتے۔ ان افراد میں عبداللہ بن عمر، حسن بن علی، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ نیز ابن سیرین رحمۃاللہ کا بیان ہے کہ جس دن سیدنا عثمان غنیؓ کو قتل کیا گیا، آپ کا گھر صحابہ کرامؓ سے بھرا ہوا تھا، ان میں ابنِ عمر رضی اللہ عنہما تھے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی اپنی تلوار گردن میں لٹکائے ہوئے موجود تھے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان سب کو قتال سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔

(تاریخ دمشق: ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

اس سے اس اتہام کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے جو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لگائی گئی ہے کہ ان حضرات نے حضرت عثمان غنیؓ کی نصرت و مدد نہ کی اور پیچھے ہٹ گئے، اس طرح کی روایات سند و متن دونوں لحاظ سے علت قادحہ سے خالی نہیں ہیں۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 166)

10: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مکہ پہنچانے کی پیش کش:

جب بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا کہ حضرت عثمان غنیؓ باغیوں کے ساتھ عدم قتال کے موقف پر مصر ہیں اور باغی آپ کو قتل کرنے پر مصر ہیں تو ان کے سامنے آپ کی حمایت کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ انہوں نے آپ سے اس بات کی پیش کش کی کہ وہ مکہ روانہ ہو جائیں اور یہ لوگ اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ سے پورا تعاون کریں گے، چنانچہ عبداللہ بن زبیر، مغیرہ بن شعبہ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ان حضرات نے الگ الگ یہ پیش کش آپ کے سامنے رکھی، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان سب کی پیش کش کو رد کر دیا۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 166) 


صفحہ 2 از 2