حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃاللہ کا فرمان: (امیر…

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃاللہ کا فرمان: (امیر خدام اہل سنت پاکستان)


صفحہ 3 از 3

(روز نامہ مشرق لاہور: 8 جولائی 1987ء)

سنی شیعہ بھائی بھائی کا نعرہ اور وہ بھی تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کی قرآن و سنت کانفرنس لاہور میں بہت عجیب و غریب تقیہ پر مبنی ہے اور یہ خطرناک دام ہمرنگ زمین ہے 

کوئی ان شیعہ علماء و مجتہدین سے دریافت کرے کہ کس دین کی بنیاد پر سنی شیعہ بھائی بنتے ہیں۔

سوادِ اعظم اہلِ سنّت والجماعت اور تمام ملّتِ اسلامیہ کا بنیادی کلمہ اسلام لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ ہے جس میں صرف توحید و رسالت کا اقرار پایا جاتا ہے اور یہ حضورِ اکرمﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتؓ عظامؓ سے ثابت ہے۔

 برعکس اسکے کہ: 

1: اثناء عشری کا کلمہ اسلام و ایمان: 

لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی الله وصيه رسول الله وخليفته بلا فصل ہے جس میں توحید و رسالت کے ساتھ حضرت علیؓ کی خلافت بلا فصل کا بھی اضافہ ہے۔ 

2: سنی شیعہ اذان بھی مختلف ہے شیعہ اذان میں توحید و رسالت کے علاوہ اشهد ان عليا ولی الله وصی رسول الله وخليفته بلا فصل میں حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کی بھی شہادت دیتے ہیں حالانکہ حضرت علیؓ سے لے کر سیدنا حسن عسکری تک کسی امام سے شیعہ علی وصی الله اور خليفته بلا فصل والی اذان ثابت نہیں کر سکتے۔

3: اور صرف یہ نہیں کہ توحید و رسالت کے ساتھ تیسری جزو کا خود ساختہ اعلان کرتے ہیں بلکہ اس اعلان کے ذریعے پہلے تین خلفائے راشدینؓ کی موعود قرآنی خلافت کی نفی کر کے ہر سنی مسلمان کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں تو پھر سنی مسلمان کسی شیعہ کا دینی بھائی کیوں کر بن سکتا ہے۔

4: اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے میں اصولِ دین تین ہیں توحید، نبوت، قیامت۔

اور یہ اصول ساری امتوں کے لیے ہیں اور قرآنِ مجید میں جا بجا ان کا ذکر پایا جاتا ہے لیکن شیعہ امامیہ کے عقیدے میں اصولِ دین پانچ ہیں توحید، عدل، نبوت، امامت، قیامت اور ان میں سے بھی امامت کا درجہ نبوت سے افضل ہے۔ 

چنانچہ علامہ باقر مجلسی اپنی کتاب حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 10 پر لکھتے ہیں کہ امامت بالاتر از رتبہ پیغمبری است۔

ترجمہ: اور امامت پیغمبر کے رتبے سے بہت بلند ہیں۔

تو ان اصولِ خمسہ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے جس اصلِ دین کا بھی انکار کرے گا وہ کافر ہو جائے گا، جس طرح توحید، نبوت اور قیامت کا منکر کافر ہے اسی طرح امامت کا منکر بھی کافر ہی قرار دیا جائے گا اور یہی اصولِ خمسہ شیعہ امامیہ کی چھوٹی بڑی کتابوں میں مذکور ہیں چنانچہ شیعہ امامیہ کی طرف سے جو نماز کی کتاب شائع ہیں ان سب میں پانچویں اصول کی تشریح اور توضیح پائی جاتی ہے چنانچہ:

اثناِء عشری دینیات کی پہلی کتاب (مطبوعہ کتب خانہ اثناء عشری لاہور) کے صفحہ، 16 پر پانچویں اصول دین کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:

جو خدا کو وحدہ لا شریک اور عادل نہ جانے محمدﷺ کو اپنا نبی نہ سمجھیں 12 اماموں کی امامت کا قائل نہ ہو اور قیامت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو وہ کافر ہے مسلمان نہیں۔

قارئین کرام: فرمائیے شیعہ مذہب میں جو عقیدہ امامت ہے اس کا کوئی سنی بھی قائل ہے خواہ دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو یا بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو تو جب شیعہ عقیدہ امامت کی بناء پر (العیاذ باللہ) سنی کافر ہے تو پھر کس سنی کو سنی شیعہ بھائی بھائی کے نعرے میں شریک کرنا چاہتے ہو۔

5: حقیقت یہ ہے کہ سنی اور شیعہ دونوں مستقل طور پر علیحدہ دین ہے اور پیدائش سے لے کر قبر تک اسلام کے اصول و فروع میں دونوں کا اختلاف پایا جاتا ہے۔

 جب کلمہ اسلام و ایمان دونوں کا جدا جدا ہو گیا، تو پھر سنی شیعہ اتحاد کی کون سی بنیاد باقی رہ جاتی ہیں۔

(تحریفِ قرآن: صفحہ 82)


صفحہ 3 از 3