حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃاللہ کا فرمان: (امیر…

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃاللہ کا فرمان: (امیر خدام اہل سنت پاکستان)


صفحہ 2 از 3

ج عقیدہ امامت کی بناء پر وہ حضرت علیؓ کو امامِ اول اور خلیفہ بلافصل مانتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ خلفائے ثلاثہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ کو ظالم اور غاصب کہتے ہیں حالانکہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ برحق خلفاء ہیں۔

د شیعوں کے نزدیک حضور اکرمﷺ کی وفات کے بعد سوائے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم (العیاذ باللہ) مرتد ہو گئے تھے، حالانکہ اہلِ سنّت کے نزدیک حضور اکرمﷺ کے تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار اصحابِ مہاجرینؓ و اصحابِ انصارؓ وغیرہم جنتی ہیں، اور ان سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ کی سند مل چکی ہے۔

ھ اہلِ سنت کے نزدیک حضورِ اکرمﷺ کے بعد قرآن اب تک محفوظ ہے اور حسبِ فرمان خداوندی قیامت تک محفوظ رہے گا۔ 

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ۞

(سورۃ الحجر: آیت 9)

 لیکن شیعہ قرآنِ کریم کو محفوظ نہیں مانتے اور اس میں تحریف کے قائل ہیں یعنی نبی کریمﷺ کے بعد اس میں تحریف کر دی گئی ہے چنانچہ شیعہ کی کتابوں میں 2000 سے زائد روایات تحریفِ قرآن پر موجود ہیں۔ 

و خلفائے ثلاثہؓ، یعنی سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے متعلق شیعہ علماء تصریح کرتے ہیں کہ یہ حضرات (العیاذ باللہ) مومن ہی نہیں تھے۔

شیعوں کا کلمہ اسلام:

دینیات حصہ اول مصنفہ ڈاکٹر ذاکر حسین، ایم اے، پی ایچ ڈی، میں کلمہ اسلام کے تحت یہ کلمہ لکھا ہے:

 لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی الله

اور ولی الله کا مطلب اس میں یہ لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے امام ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہلا امام ماننا ضروری ہے۔

 محترم فرمائیں:

اگر آپ سنی ہیں تو آپ تو مندرجہ کلمہ نہ پڑھنے کی وجہ سے غیر مسلم ہیں۔

 تو پھر یہ اتحاد کس کلمہ اور کس دین کی بنیاد پر ہے۔

 جب اہلِ سنّت اور اہلِ تشیع میں اتنا بنیادی اصولی اختلاف ہے کہ کلمہ اسلام تک مشترک نہیں ہے۔

 تو دونوں مذہبوں کے دینی مدارس کے باہمی اتحاد اور مشترکہ تنظیم کی تجویز بالکل ناجائز ہے۔

اگر آپ سنّی ہیں اور سنّی مذہب کو حق سمجھتے ہیں تو پھر اس فریب میں نہ آئیں ورنہ اگر باوجود شیعہ عقائد سے واقف ہونے کے آپ سنّی شیعہ مذہبی اتحادِ مدارس کی تنظیم میں حصہ لیں گے تو آپ مذہبِ اہلِ سنت کو سخت نقصان پہنچائیں گے۔

اگر یہ مشترکہ اجلاس فی الواقع جامعہ مدنیہ لاہور میں ہوا ہے اور ایسی کوئی تنظیم قائم کر دی گئی ہے تو میرا یہ خط حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب مہتمم جامعہ مدنیہ کی خدمت میں بھی پیش کر دیں تاکہ مولانا موصوف دوسرے پہلوؤں کے پیش نظر سابقہ فیصلے سے رجوع کر لیں۔ 

 (اتحادی فتنہ: صفحہ 11)

شیعہ کے کفریہ عقائد کی وجہ سے ان سے اتحاد نہیں ہو سکتا:

جس مذہب کے یہ بنیادی و اصولی عقائد ہیں اور وہ بھی اسلام کے نام پر کہ:

1: قرآن مجید محرّف ہو چکا ہے۔

 2: امامت نبوت سے افضل ہے۔

3: حضرت علیؓ سے لے کر امام مہدی تک 12 امام انبیاء سابقین علیہم السلام سے افضل ہیں۔

4: توحید و رسالت کی طرح امامت پر ایمان لانا ضروری ہے۔

5: خلفائے ثلاثہؓ، سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ اور سیدنا عثمانِ غنؓی کو برحق ماننے والے بھی غیر مومن اور منافق اور جہنمی ہیں۔ 

6: حضورِ اکرمﷺ کی بیویاں سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ حفصہؓ بھی غیر مومن اور منافق ہیں (حالانکہ ازواجِ مطہراتؓ کو قرآنِ کریم میں تمام مؤمنوں کی مائیں فرمایا گیا ہے)

7: خلفائے ثلاثہؓ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور ازواجِ مطہراتؓ کو سبّ کرنا (یعنی برا کہنا) عبادت ہے۔

8: تقیہ یعنی امرِ حق کے خلاف ظاہر کرنا عبادت ہے

9: متعہ یعنی بلا گواہوں کی وقتی طور پر کسی غیر محرم مرد عورت کا باہمی معاہدہ برائے مجامعت اتنا بڑا عملِ صالح ہے (العياذ باللہ) کہ اس کی وجہ سے متعہ کرنے والے کو جنت میں سیدنا حسینؓ سیدنا حسنؓ سیدنا علیؓ اور حضور اکرمﷺ کا درجہ نصیب ہوگا۔

10: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ ایک نیا کلمہ تجویز کر کے گویا دین اسلام کو چیلنج کر دیا ہے۔

11: سوادِ اعظم کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اپنی مخصوص عقائد و نظریات کی اشاعت کے لیے حکومت سے سرکاری اسکولوں میں شیعہ نصاب منظور کرا لیا ہے اور ان کی تعلی اور تحدّی یہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آتے ہی آپ نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر شیعہ طلباء کو جبراً و قہراً حنفی فقہ اور تفسیر پڑھائی اور تاریخ پڑھائی مگر 25 سال کے اس طویل عرصے میں مثال کے لیے بھی کسی ایک شیعہ طالب علم کو مذہب حقّہ سے برگزشتہ نہ کر سکے اب اس طویل عرصے کا چوتھائی حصہ ہمیں دیں اور اس عرصے میں تجربۃً شیعہ فقہ اور تفسیر، حدیث اور تاریخ کو اسکولوں اور کالجوں میں رائج کریں پھر اس کے نتائج کو دیکھ کر اندازہ کر لیں کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

12: تقریر و تحریر کے ذریعے شیعہ علماء، ذاکرین اہلِ سنّت والجماعت کے نام کو بھی چیلنج کرتے رہتے ہیں۔

 لہٰذا ان حالات میں مذہبِ اہلِ سنّت والجماعت اور ناموسِ خلفاءِ عُظّام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ مرزائیوں کی طرح، روافض خوارج وغیرہ بد مذہب گروہوں اور پارٹیوں سے بھی اجتناب و احتراز کیا جائے، جو انکارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تنقیدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنا نصبُ العین بنائے ہوئے ہیں اور حضورﷺکے ارشاد: 

ما انا عليه واصحابی

 کی شاہراہ جنت کو چھوڑ کر جہنّم کے راستوں پر امتِ محمدیہﷺ کو چلانا چاہتے ہیں جماعتِ مقدّسہ (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا حق تو ہم پر یہ تھا کہ مال و جان کی قربانی دے کر بھی ان کے ناموس کی حفاظت کی جاتی۔

نہ یہ کہ عربی مدارس کے طلباء کے لیے چند دنیوی سفری مراعات حاصل کرنے کے لیے تحفّظِ عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نظر انداز کیا جائے۔ 

(اتحادی فتنہ: صفحہ 42)

سنی شیعہ بھائی بھائی کیوں؟

قرآن و سنت کانفرنس لاہور میں دوسرے نعروں کے ساتھ سنی شیعہ بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے۔

صفحہ 2 از 3