پیغام سروش - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

پیغام سروش

  محمد ظفر اقبال

ساتھ ہی اپنے محترم قارئین کو قاضی ابوبکر بن العربیؒ (متوفی 543ھ) کی ایمان افروز وصیت سنانا چاہتا ہوں جو عہدِ حاضر کے مسلمانوں کے لیے سرودِ ازلی اور پیغامِ سروش ہے:  

وَقَد بَیَّنتُ لَکُم أَنَّکُم لَا تَقبَلُونَ عَلَی أَنفُسِکُم فِی دِینَارٍ بَل فِی دِرهَمٍ إِلَّا عَدلًا بَرِیئًا مِنَ التُّهَمِ، سَلِیمًا مِنَ الشَّهوَۃِ، فَکَیفَ تَقبَلُونَ فِی أَحوَالِ السَّلَفِ وَمَا جَرَی بَینَ الأَوَائِلِ مِمَّن لَیسَ لَه مَرتَبَۃٌ فِی الدِّینِ، فَکَیفَ فِی العَدَالَۃِ۔ 

(العواصم من القواصم: صفحہ 252)  

ترجمہ: میں تم سے برملا کہتا ہوں کہ جب تم اپنے خلاف دینار بلکہ درہم تک کا دعویٰ اس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتے جب تک (تمہیں یقین نہ ہو جائے) کہ مدعی سچا، اتہامات سے بری اور نفسانی خواہشوں سے پاک ہے، تو تم احوالِ سلف اور مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ایسے آدمی کی بات کیسے مان لیتے ہو جس کی عدالت تو کجا، دین میں بھی اس کا کوئی مقام نہیں۔  

اللہم وفقنا لما تحب وترضی من قول او عمل  

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔