حضرت خلیفہ صالح سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃاللہ کا رؤیائے…

حضرت خلیفہ صالح سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃاللہ کا رؤیائے صالحہ

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

(تذکرۂ اولیائے ہند: جلد3 صفحہ96، 97)

اللہ پاک ہمارے عقائد و اعمال کی حفاظت فرمائے اور ہدایت پر ہمارا خاتمہ ہو، آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ۔

محترم قارئین! ہمیں احساس ہے کہ پوری احتیاط کے باوجود ہمارے قلم سے بعض الفاظ سخت بھی نکل گئے ہوں گے جو یقیناً طبعِ نازک پر گراں گزریں گے ہم قارئین سے یہ کہتے ہوئے معذرت کرتے ہیں کہ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا۔

(صحیح البخاری: جلد1 صفحہ321 کتاب فی الاستقراض و اداء الدیون باب استقراض الابل) 

بے شک صاحبِ حق گرم گفتگو کا مجاز ہے اور بقولِ شاعر:  

بیمار کی حالت جب بدلے نسخہ بھی بدلنا پڑتا ہے  

مرہم تو لگاتے ہیں لیکن نشتر بھی لگانا پڑتا ہے

اللہ گواہ ہے کہ میں نے یہ باتیں دکھے ہوئے دل کے ساتھ لکھی ہیں، جس سے مقصود صرف موقفِ اہلِ سنت کا مدلل اظہار ہے، نہ کہ کسی کی توہین و تنقیص کا جذبہ۔  

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے  

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کیا ہی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے: 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی پوری عمارت کی بنیاد ہیں اس بنیاد کی ایک اینٹ بھی اگر اپنی جگہ سے ہلائی جائے تو پورا قصرِ ایمان متزلزل ہو سکتا ہے لہٰذا ان حضرات کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے اس تحریر کا منشاء بھی اس کے سوا کچھ نہیں۔ 

(حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق: صفحہ 161)

ربِ قدیر! اس میں اثر انگیزی کی طاقت پیدا کر دے اور آخرت میں جب ناموسِ اصحابِ رسولﷺؓ کا تحفظ کرنے والوں پر تیرے انعام و اکرام کی بارش ہو رہی ہو تو فقط اپنے رحم و کرم سے چند چھینٹے بدکار و سیاہ کار پر بھی ڈال دے تو یہ بھی غنی ہو جائے گا۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ

صفِ اولیں تو ہے خاص صفِ وہاں پاؤں جائے کہاں شرفِ

 صفِ آخریں سے بھی دور تر جو اشارہ ہو تو وہیں سہی

آخر میں حضرت مولانا علی شیر حیدری صاحب مدظلہ جیسے عالمِ حقانی اور مردِ مجاہد کی خدمت میں دست بستہ درخواست ہے کہ حضرت! آپ جیسے علماء کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو عوام الناس اپنے لیے سند سمجھتے ہیں۔  

کافی ہے تسلی کو تیری ایک نظر بھی

اول تو ایسی کتابوں کے حوالے سے گریز ہی کیا کریں اور اگر حوالہ دینا گریز ہی نہ ہو تو پھر ایسی کتابوں کے خامیوں کی طرف بھی اشارہ ضرور فرما دیا کریں تاکہ عوام الناس ایسی کتابوں کو پڑھ کر مغالطے میں مبتلا نہ ہوں۔  

نہیں معلوم یہ کس کی نظر سے گزرے


صفحہ 2 از 2