حافظ ابنِ کثیرؒ (متوفی 774ھ) جن کو مصنفِ نام و نسب نے اپنی اسی کتاب میں مستند مؤرخ کے لقب سے یاد کیا ہے۔ (نام و نسب: صفحہ506)
نے اپنی تاریخ کی مشہور و معروف کتاب البدایہ والنہایہ میں، امام غزالیؒ (متوفی 505ھ) نے اپنی مشہور کتاب کیمیائے سعادت (صفحہ484)
اور حافظ ابنِ قیمؒ (متوفی 751ھ) نے اپنی کتاب الروح (صفحہ31) میں اس خواب کا ذکر کیا ہے ہم یہ خواب البدایہ والنہایہ سے پیش کر رہے ہیں:
عَن عُمَرَ بنِ عَبدِ العَزِیزِ قَالَ: رَأَیتُ رَسُولَ اللّٰهﷺ فِی المَنَامِ وَ أَبُو بَکرٍ وَ عُمَرُ جَالِسَانِ عِندَہُ، فَسَلَّمتُ عَلَیه وَ جَلَستُ، فَبَینَمَا أَنَا جَالِسٌ إِذ أُتِیَ بِعَلِیٍّ وَ مُعَاوِیَۃَ، فَأُدخِلَا بَیتًا وَ أُجِیفَ البَابُ وَ أَنَا أَنظُرُ، فَمَا کَانَ بِأَسرَعَ مِن أَن خَرَجَ عَلِیٌّ وَھوَ یَقُولُ غُفِرَ لِی وَ رَبِّ الکَعبَۃِ، ثُمَّ خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ وَھوَ یَقُولُ: غُفِرَ لِی وَ رَبِّ الکَعبَۃِ۔
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ130 تحت: ترجمۃ معاویہ بن ابی سفیانؓ)
ترجمہ: حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کہتے ہیں کہ مجھے خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت ہوئی، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب میں بھی آپﷺ کی خدمت میں بیٹھ گیا تو ناگہاں سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کو لایا گیا اور ایک مکان میں داخل کر کے اس کا دروازہ بند کر دیا گیا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ربِ کعبہ کی قسم میرے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے، پھر جلد ہی حضرت امیرِ معاویہؓ باہر تشریف لائے اس حالت میں کہ وہ فرما رہے تھے کہ ربِ کعبہ کی قسم مجھے معاف کر دیا گیا۔
یہ رؤیائے صالحہ تو اہلِ صفین کے متعلق تھا، اب ایک خواب حضرت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شانِ اقدس میں استخفاف کا باعث بننے والے ایک پیر صاحب کا سنیے جو خواب میں متنبہ ہونے کے بعد تائب ہوئے۔ سیدنا محمد باقر علی شاہ صاحب (سجادہ نشین آستانہ عالیہ کیکیانوالہ شریف ضلع گوجرانوالہ) اپنا خواب ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
آپ لوگ شانِ حضرت امیرِ معاویہؓ کتب سے بیان کرتے ہیں، اس پر دلائل قائم کرتے ہیں، لیکن میں اپنی آپ بیتی اور خود پر وارد ہوئی بات بتلانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ایک دن 10 بجے دن ایک آدمی سے میں نے دورانِ گفتگو کہا: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کیا، اس میں انہوں نے بڑی زیادتی کی اتنا کہا اور اس کے ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی شان میں میں نے غلط الفاظ کہے ہیں اور معاً اس کے ساتھ روحانی فیض بند ہو گیا سارا دن پریشانی میں گزرا جب رات پڑی تو میں سو گیا خواب میں پرانی بیٹھک شریف دیکھی قبلہ والدی ماجدی حضرت خواجہ نور الحسن شاہ صاحب خلیفہ مجاز حضرت شیرِ ربانی قبلہ میاں شیر محمد شرقپوریؒ نے تمام زندگی اسی بیٹھک شریف میں روحانی سلسلہ جاری رکھا اور یہیں وصال فرمایا اچانک خواب میں ہی کسی نے بیٹھک شریف کا دروازہ کھٹکایا اور دروازے کو دھکا دے کر کھولا تو اچانک نبی کریمﷺ اندر تشریف لائے آپﷺ کے پیچھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ان کے پیچھے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تھے تینوں اس طرح کھڑے تھے کہ حضورِ اکرمﷺ کی دائیں طرف حضرت علیؓ اور بائیں طرف سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تھے حضورِ اکرمﷺ اور حضرت امیرِ معاویہؓ خاموش کھڑے تھے حضرت علیؓ نے ناراضگی میں مجھے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:
جھگڑا میرا اور حضرت امیرِ معاویہؓ کا تھا، تمہیں دخل دینے کا کیا حق حاصل ہے؟ میں نے آپ نے یہی جملہ تین مرتبہ فرمایا میں نے معافی مانگی، لیکن کوئی جواب نہ ملا پھر تینوں حضرات تشریف لے گئے اس واقعے کے چھ ماہ بعد نہ تو حضرت قبلہ میاں صاحب شرقپوریؒ کی اور نہ ہی قبلہ والدی و مرشدی سرکار کیکیانوالی شریف کی زیارت نصیب ہوئی اور ہر قسم کا روحانی فیض بند رہا، یہاں تک کہ حضورِ اکرمﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور فیض کا سلسلہ جاری ہو گیا۔
(تحفہ جعفریہ: جلد2 صفحہ321، 322)
اب ایک خواب اور سنیے جس میں بارگاہِ مرتضویؓ سے گستاخِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر عتاب کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔
ایک سید صاحب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے سخت دشمن تھے، ان پر اعتراض کرتے رہتے تھے ایک روز جب حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کا مطالعہ کر رہے تھے، کہ ایک جگہ اس میں انہوں نے کہیں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تعریف و توصیف لکھی دیکھی دشمن تو تھے ہی، غصہ آ گیا اور غصے میں اتنا کہ محض اس کی تعریف کی بناء پر مکتوبات کی جلد کو ہاتھ سے پھینک دیا۔ اسی رات کو سید صاحب نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مجدد صاحبؒ تشریف لائے اور ان کے دونوں کان پکڑ کر کہا: بے ادب! تو میرے لکھے پر اعتراض کرتا ہے، حالانکہ میں نے جو کچھ لکھا ہے بالکل صحیح لکھا ہے اور اگر تجھے یقین نہیں تو میں تجھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے چلتا ہوں، خود ان سے پوچھ لینا۔ حضرت انہیں کھینچتے ہوئے دربارِ مرتضیٰؓ میں لے گئے اور حضرت علیؓ سے عرض کی: حضورِ محترم دیکھیے، یہ شخص حضرت امیرِ معاویہؓ کا دشمن ہے اور ان کی دشمنی کی بناء پر میرے مکتوبات کو بھی اس نے اٹھا کر پھینک دیا اور باز نہیں آتا۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
دیکھو، سرکارِ دو عالمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بہت بڑا مرتبہ ہے، ان سے عداوت ہرگز نہیں کرنی چاہیے اور نہ ان کی برائی کرنی چاہیے شیخ احمد نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق جو لکھا ہے ٹھیک ہے۔
یہ سن کر سید صاحب بہت متحیر ہوئے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی لغزشیں پیش کر کے حجت کرنے لگے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابھی اس جاہل کے قلب میں حقیقت کی روشنی پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے سینے پر ایک سیلی (مکا) مارو تاکہ یہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی برائی اور عداوت کے گناہ سے توبہ کرے۔ چنانچہ شیخ احمدؒ نے تعمیلِ ارشاد کی اور اس پر توبہ کر لی صبح جب وہ اٹھے تو سید صاحب کے سینے میں درد بھی تھا اور چوٹ کا نشان بھی۔
(تذکرۂ اولیائے ہند: جلد3 صفحہ96، 97)
اللہ پاک ہمارے عقائد و اعمال کی حفاظت فرمائے اور ہدایت پر ہمارا خاتمہ ہو، آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ۔
محترم قارئین! ہمیں احساس ہے کہ پوری احتیاط کے باوجود ہمارے قلم سے بعض الفاظ سخت بھی نکل گئے ہوں گے جو یقیناً طبعِ نازک پر گراں گزریں گے ہم قارئین سے یہ کہتے ہوئے معذرت کرتے ہیں کہ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا۔
(صحیح البخاری: جلد1 صفحہ321 کتاب فی الاستقراض و اداء الدیون باب استقراض الابل)
بے شک صاحبِ حق گرم گفتگو کا مجاز ہے اور بقولِ شاعر:
بیمار کی حالت جب بدلے نسخہ بھی بدلنا پڑتا ہے
مرہم تو لگاتے ہیں لیکن نشتر بھی لگانا پڑتا ہے
اللہ گواہ ہے کہ میں نے یہ باتیں دکھے ہوئے دل کے ساتھ لکھی ہیں، جس سے مقصود صرف موقفِ اہلِ سنت کا مدلل اظہار ہے، نہ کہ کسی کی توہین و تنقیص کا جذبہ۔
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کیا ہی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی پوری عمارت کی بنیاد ہیں اس بنیاد کی ایک اینٹ بھی اگر اپنی جگہ سے ہلائی جائے تو پورا قصرِ ایمان متزلزل ہو سکتا ہے لہٰذا ان حضرات کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے اس تحریر کا منشاء بھی اس کے سوا کچھ نہیں۔
(حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق: صفحہ 161)
ربِ قدیر! اس میں اثر انگیزی کی طاقت پیدا کر دے اور آخرت میں جب ناموسِ اصحابِ رسولﷺؓ کا تحفظ کرنے والوں پر تیرے انعام و اکرام کی بارش ہو رہی ہو تو فقط اپنے رحم و کرم سے چند چھینٹے بدکار و سیاہ کار پر بھی ڈال دے تو یہ بھی غنی ہو جائے گا۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ
صفِ اولیں تو ہے خاص صفِ وہاں پاؤں جائے کہاں شرفِ
صفِ آخریں سے بھی دور تر جو اشارہ ہو تو وہیں سہی
آخر میں حضرت مولانا علی شیر حیدری صاحب مدظلہ جیسے عالمِ حقانی اور مردِ مجاہد کی خدمت میں دست بستہ درخواست ہے کہ حضرت! آپ جیسے علماء کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو عوام الناس اپنے لیے سند سمجھتے ہیں۔
کافی ہے تسلی کو تیری ایک نظر بھی
اول تو ایسی کتابوں کے حوالے سے گریز ہی کیا کریں اور اگر حوالہ دینا گریز ہی نہ ہو تو پھر ایسی کتابوں کے خامیوں کی طرف بھی اشارہ ضرور فرما دیا کریں تاکہ عوام الناس ایسی کتابوں کو پڑھ کر مغالطے میں مبتلا نہ ہوں۔
نہیں معلوم یہ کس کی نظر سے گزرے