معروف تابعی حضرت عمرو بن شرجیلؒ جن کی کنیت ابو میسرہ ہے، آپ سیدنا عمرؓ، سیدنا علیؓ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کے مشہور شاگرد ہیں آپ جنگِ صفین میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرف سے شریکِ قتال تھے، فرماتے ہیں کہ میں اہلِ صفین کے معاملے میں بڑے تردد اور پریشانی میں تھا:
قَالَ رَأَیتُ فِی المَنَامِ أَبَا مَیسَرَۃَ عَمرَو بنَ شُرحَبِیلَ، وَ کَانَ مِن أَفضَلِ أَصحَابِ عَبدِ اللّٰہِ، قَالَ رَأَیتُ کَأَنِّی أُدخِلتُ الجَنَّۃَ، فَرَأَیتُ قِبَابًا مَضرُوبَۃً، فَقُلتُ لِمَن ھذِہِ؟ فَقِیلَ ھذِہِ لِذِی الکَلَاعِ وَحَوشَبٍ، وَکَانَا مِمَّن قُتِلَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ یَومَ صِفِّینَ، قَالَ قُلتُ فَأَینَ عَمَّارٌ وَأَصحَابُه؟ قَالُوا أَمَامَکَ، قُلتُ وَکَیفَ وَقَد قَتَلَ بَعضُھم بَعضًا؟ قَالَ قِیلَ: إِنَّھم لَقُوا اللّٰه فَوَجَدُوہُ وَاسِعَ المَغفِرَۃِ، قَالَ فَقُلتُ: فَمَا فَعَلَ النَھرُ؟ قَالَ فَقِیلَ: لَقُوا برَحًا
(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد15 صفحہ 290، 291، تحت: کتاب الجمل، باب ما ذکر فی الصفین)
ترجمہ: بس اس حالت میں مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ جنت میں خیمے لگے ہوئے ہیں میں نے دریافت کیا یہ کن لوگوں کے ہیں؟ مجھے بتایا گیا یہ ذو الکلاع اور حوشب کے ہیں، یہ دونوں بزرگ حضرت امیرِ معاویہؓ کی حمایت میں جنگِ صفین میں شہید ہوئے تھے میں نے کہا حضرت عمارؓ اور ان کے رفقاء کہاں ہیں؟ کہا گیا وہ آگے ہیں میں نے کہا انہوں نے تو ایک دوسرے کو قتل کیا تھا؟ کہا گیا کہ ان کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو واسع المغفرۃ پایا پھر میں نے پوچھا کہ اہلِ نہروان (یعنی خوارج) کا کیا بنا؟ کہا گیا ان کو سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑا۔