اہل صفین سے متعلق رؤیائے صالحہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل صفین سے متعلق رؤیائے صالحہ

  محمد ظفر اقبال

(دلائلِ شرعیہ بالاتفاق چار ہیں: کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہﷺ، اجماعِ امت اور قیاسِ مجتہد ان میں سے اول تین دلیلیں حجتِ ملزمہ ہیں جبکہ چوتھی اور آخری دلیل حجتِ مطمئنہ ہے منامات اور مکاشفات دلائلِ شرعیہ کی کوئی قسم نہیں، وہ مبشر یا منذر ہو سکتے ہیں ان کو ادلہ شرعیہ پر پیش کیا جائے گا، اگر موافق ہوں تو مقبول، ورنہ مردود یا مؤول ہوں گے۔)

آخر میں ہم اہلِ صفین کے حق میں بطورِ بشارتِ عظمیٰ کچھ رؤیائے صالحہ (جن کو اکابر علمائے اعلام اور محدثینِ عظام رحمہم اللہ نے اپنی معتمد و مستند کتب میں جگہ دی ہے) ذکر کرنا چاہتے ہیں ورنہ کتاب و سنت و بیاناتِ سلف و تاریخی شواہد کے بعد اگرچہ اس کی ضرورت نہ تھی، تاہم فطری طور پر رؤیائے صالحہ اور مبشراتِ صادقہ سے ایک گونہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں، صرف ایک کھڑکی کھلی ہے، جس سے بقولِ لسانِ نبوت الرجل الصالح دیکھتے ہیں۔

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: 

الرُّؤیَا الحَسَنَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزءٌ مِن سِتَّةٍ وَأَربَعِینَ جُزءًا مِنَ النُّبُوَّۃِ

(صحیح البخاری: جلد2 صفحہ1034 کتاب التعبیر، باب الرؤیا الصالحۃ)

ترجمہ: مردِ صالح کو اچھے خواب آنا نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:

یَا أَیُّھا النَّاسُ، إِنَّه لَم یَبقَ مِن مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الرُّؤیَا الصَّالِحَۃُ، یَرَاهَا المُسلِمُ أَو ترَی لَه

(سنن ابی داؤد: جلد1 صفحہ127 کتاب الصلوٰۃ باب الدعاء فی الرکوع و السجود)

ترجمہ: اے لوگو! نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے ان سچے خوابوں کے جو مسلمان اپنے لیے دیکھے یا دوسرا اس کے لیے دیکھے۔

حضراتِ انبیاءِ کرام علیہم السلام میں سیدنا و نبینا یوسف علیہ السلام کو یہ نعمت خصوصی طور پر عطا ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سیدنا عمر بن خطابؓ شہبازِ عالمِ تکوین تھے، اور تابعین میں اس سلسلے کے سرخیل حضرت امام ابنِ سیرینؒ (متوفی 110ھ) ہوئے ہیں۔