تازیانہ عبرت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تازیانہ عبرت

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 3

حق تعالیٰ تم کو ہدایتِ دے اور سیدھے راستہ پر چلائے، تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ شبہ اور اس جیسے اور شبہات جن کو بعض لوگ حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر وارد کرتے ہیں اور ان شکوک و اعتراضات سے ان کو مجروح و مطعون کرنا چاہتے ہیں، اگر یہ کچھ انصاف سے کام لیں اور حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کی فضیلت و اہمیت کو قبول کر لیں اور جان لیں کہ حضورِ اکرمﷺ کی صحبت میں رہ کر ان کے نفوس ہوا و ہوس سے صاف اور ان کے سینے کینوں اور کدورتوں سے پاک ہو گئے تھے، اور سمجھ لیں کہ یہ وہ بزرگانِ دین اور عظمائے اسلام ہیں جنہوں نے دن اور رات، خفیہ اور اعلانیہ، غرض ہر وقت اور ہر طرح دینِ متین کی تائید و حمایت اور اعلاءِ کلمہ اسلام کے لیے اپنی تمام کوشیں و طاقتیں صرف کر دیں، اور حضورِ رسولِ مقبولﷺ کی محبت کی وجہ سے اپنے کنبے قبیلوں، اپنے بال بچوں اور اپنی چہیتی بیویوں کو چھوڑ دیا، اپنے عزیز وطنوں، اپنے آباد گھروں، اپنے چشموں اور کھیتوں، اپنے باغوں اور درختوں، اپنی نہروں کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کے نفسِ مقدس کو اپنے نفوس پر ترجیح دی اور حضورﷺ کی محبت کو اپنی اور اپنے اموال و اولاد کی محبت پر مقدم رکھا انہوں نے وحی کو اترتے اور فرشتوں کو آتے دیکھا۔ حضورِ اکرمﷺ کے معجزات اور آپﷺ کی روشن نشانیوں کا انہوں نے بہ چشمِ خود مشاہدہ کیا، یہاں تک کہ غیب ان کے حق میں شہادت بن گیا اور ان کا علم الیقین، عین الیقین سے بدل گیا وہی وہ خوش نصیب ہیں جن کی مدح و ثناء حق تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نازل فرمائی اور اعلان فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اور دوسری جگہ فرمایا: یہ حالِ سطور ہے ان کا توراۃ میں اور انجیل میں الخ پھر جب کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان خصائص و فضائل سے مشرف ہیں تو پھر خاص اکابرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یعنی حضراتِ خلفاءِ راشدینؓ کے متعلق کیا کہا جائے اور کہا جا سکتا ہے۔

پھر چند سطور کے بعد ارقام فرماتے ہیں: 

اگر ان اعتراض کرنے والوں کی نظر میں کچھ انصاف ہو اور یہ حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کی عظمت کو مان لیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی اور عالی مرتبی کو جان لیں تو زیادہ بعید نہیں کہ یہ خود ہی اپنے ان شبہات کو ملمع شدہ اور مغالطوں اور سفسطوں کے رنگ میں دیکھنے لگیں اور ان کو درجہ اعتبار و اعتماد سے ساقط کر دیں، اگرچہ غلط فہمی کے منشاء کی تعیین نہ کر سکیں اور فریب و سفسطہ کے محل پر انگلی رکھ کر نہ بتا سکیں، لیکن کم از کم اجمالاً اس قدر ضرور سمجھ لیں گے کہ یہ شکوک و شبہات لا حاصل ہیں، بلکہ بہت سی بدیہی اور کھلی ہوئی حقیقتوں کے خلاف اور کتاب و سنت سے مردود و مطرود ہیں۔

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر دوم، مکتوب 96)

اس تمہید کے بعد حضرت مجددؒ نے واقعہ قرطاس پر چند مقدمات قائم کرنے کے بعد مفصل کلام فرمایا ہے اور اس سے متعلق شیعوں کے مشہور اعتراض کا تفصیلی جواب دیا ہے، اور گویا اس کے مقدمات کی تحلیل کر کے انگلی رکھ رکھ کے بھی بتلا دیا ہے کہاں کہاں اس میں فریب دیا جاتا ہے پھر اس کے بعد پھر اسی اصولی رنگ میں فرماتے ہیں:

فقیر کے نزدیک ان شکوک و شبہات کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی چالاک اور پُرفن شخص بے وقوفوں کی کسی جماعت کے پاس پہنچا اور ایک پتھر کو جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنے پر فریب دلائل اور ملمع شدہ مقدمات سے سونا ثابت کرے، اور یہ بیچارے اس کے پر تزویر دلائل کے جواب سے عاجز ہونے اور تعین و تشخیص کے ساتھ اس کی غلطی نہ پکڑ سکنے کی وجہ سے خود شبہ میں پڑ جائیں، بلکہ اپنے مشاہدے کے خلاف اس کو سونا یقین کرنے لگیں اور اپنے احساس و ادراک کو ناقابلِ اعتماد سمجھ کر پسِ پشت ڈال دیں لیکن عقل مند اور ہوشیار آدمی کا کام یہ ہے کہ ایسے موقع پر اپنے حس اور اپنے ادراک کی ہدایت پر اعتماد کرے اور ملمع شدہ وہمی مقدمات کو ناقابلِ اعتناء سمجھے بالکل یہی حال مسئلہ زیرِ بحث کا ہے کہ حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی اور عالی مرتبی قرآن و حدیث کی رو سے جانی بوجھی بلکہ گویا آنکھوں دیکھی حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، لیکن یہ ناحق کوش جماعت اپنے ملمع شدہ دلائل سے ان پر طعن و قدح کرتی ہے۔ پس ان کی وہ جرح و قدح بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہ کوئی عیار اپنے ہاتھ کے پتھر کے ٹکڑے کو سونا ثابت کرنے کی کوشش کرے اور منطقی دلائل سے سیدھے لوگوں کو بے وقوف بنائے۔ 

(ایضاً)


صفحہ 3 از 3