تازیانہ عبرت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تازیانہ عبرت

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 3

یہ ان لوگوں کی گفتگو ہے جو اپنے آپ کو صحیح العقیدہ، راسخ العقیدہ، سچا اور پکا مسلمان سمجھ کر سیدنا امیرِ معاویہؓ سے متنفر ہیں۔ غور کرو کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بغض کی بیماری کس طرح ایمان کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اگر اس میں زیادہ بحث کی جائے تو پھر نہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین طعن سے بچتے ہیں، نہ اہلِ بیتؓ، بلکہ پھر نہ رسول اللہﷺ کی عظمت دل میں رہتی ہے، نہ قرآنِ کریم کا وقار۔

(امیرِ معاویہؓ: صفحہ8، 11)

غلو و طغیان کی سرحد کے پار کھڑے لوگوں کے بارے میں مصنفِ نام و نسب خود یہ کہہ چکے ہیں: 

افسوس کہ جب آنکھوں پر تعصب کی دبیز پٹی بندھی ہوئی ہو تو قرآن و سنت کو بھی کچھ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں جن کا یہ حال ہو ان کی نظر میں اللہ تعالیٰ و رسول اللہﷺ کی وقعت نہیں تو کسی اور سے ان کے سلوک کا اندازہ خود بخود لگایا جا سکتا ہے۔

(نام و نسب: صفحہ489)

لیکن کریم آقا کے کرم سے کیا بعید ہے اسی ذاتِ واحد پر امید رکھتے ہوئے ہم مصنف کو اس خودرائی و غیر مقلدیت سے توبہ کی تلقین کرتے ہیں اور اس کتاب نام و نسب کے نویں باب (جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی توہین و تنقیص پر مشتمل ہے) کو آئندہ ایڈیشن میں حذف کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ اکابرِ امت کی توہین و تذلیل، بے ادبی اور عیب جوئی ابتداءً سلبِ توفیق اور انتہاءً سلبِ ایمان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے پناہ میں رکھے۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ) مصنف مرضِ ناصبیت کا تریاق ڈھونڈنے چلے تھے لیکن اکابر پر عدمِ اعتماد کی بدولت خود صحابیِ رسول اللہﷺ کی شان میں استخفاف بلکہ گستاخی کے مرتکب ہو گئے۔  

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ورنہ مصنف کے اپنے خاندانی بزرگ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے شیخِ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالویؒ (جنہیں مصنفِ نام و نسب نے عمدۃ الواصلین، شمس العارفین کے القاب سے یاد کیا ہے) حضرت علیؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ کے درمیان نزاع کو اجتہادی تصور کرتے ہیں نہ کہ عنادی 

(مرآۃ العاشقین: صفحہ109)

اور ان کا کہنا ہے:  

تا آنکہ در حق جمیع اصحابان اعتقاد درست ندارد ایمان اور کامل نباشد

(ایضاً)

ترجمہ: جب تک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں اعتقاد درست نہ ہو، ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔  

اگر مصنف نام و نسب جمہور علماءِ اہلِ سنت اور خود اپنے بزرگوں کی باتوں کو بھی اپنے عمل سے صریح تردید بلکہ تکذیب کر دیں تو کیا اب بھی ہم انہیں فکری غیر مقلد نہ کہیں، جنہیں مسلکِ اہلِ سنت میں بھی پورے اعتدال و توازن کے بجائے کچھ توازن ملتا ہے؟

(نام و نسب: صفحہ544)

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کے ذمہ جو فرائضِ نبوت عائد کیے تھے، ان میں سے ایک اہم فریضہ نفوس کا تزکیہ و تصفیہ بھی تھا۔ جب سیدنا امیرِ معاویہؓ صحبتِ نبویﷺ کے شرف سے باریاب ہو کر بھی (بقول مصنفِ نام و نسب) کسی فضیلت کے حامل نہیں، وہ سیدنا علیؓ سے بغض و عناد رکھنے والے، خطائے منکر کا ارتکاب کرنے والے، بدعات کے بانی اور ان کو رواج دینے والے، اور نواسۂ رسول اللہﷺ کو زہر دے کر شہید کروانے والے ہیں۔ ان میں کوئی ایسا کمال نہیں جس سے امت پر ان کی سنت کا اتباع لازم ہو، اور ان میں بے شمار ایسی خرابیاں، نعوذ باللہ، موجود ہیں جنہیں بقول مصنفِ نام و نسب مستند تاریخی حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔

(نام و نسب: صفحہ519)

سو ایسی برائیوں اور خرابیوں کے ہوتے ہوئے کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ پھر بارگاہِ نبوتﷺ میں باریابی اور صحبتِ نبویﷺ کی بدولت حضرت امیرِ معاویہؓ کا کیا تزکیہ ہوا؟ کیا مصنفِ موصوف زبانِ حال سے ایرانی لیڈر خمینی کے اس قول کی تصدیق نہیں کر رہے: 

جو نبی بھی آئے وہ انصاف کے نفاذ کے لیے آئے ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام دنیا میں انصاف کا نفاذ کریں، لیکن وہ اپنے زمانے میں کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ خاتم المرسلینﷺ جو انسان کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور انصاف کا نفاذ کرنے کے لیے آئے تھے، انسان کی تربیت کے لیے آئے تھے، لیکن وہ اپنے زمانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ 

(اتحاد و یکجہتی امام خمینی کی نظر میں: صفحہ15 مطبوعہ خانہ فرہنگ ایران، ملتان)

ورنہ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا وہ ایمان افروز، وجد آفریں اور عشق و معرفتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ڈوبا ہوا بیان کس علم دوست اور صاحبِ تحقیق سے پوشیدہ ہو گا (جو بلاشبہ شیخ مجددؒ کے کمالاتِ وہبیہ اور مقامِ مجددانہ کا آئینہ دار ہے) جس میں آپ نے واقعہ قرطاس پر کلام کرتے ہوئے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے گئے تمام مطاعن کا اصولی جواب مرحمت فرمایا ہے جس کو ملحوظ رکھنے کے بعد اس سلسلے کی تمام تر بحثوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے اور معترضینِ صحابہؓ کی علمی حیثیت اور تحقیقی وقعت آشکار ہو جاتی ہے، اور ان مغبوضین کے سیاہ کیے ہوئے دفتر کے دفتر فاروقی ہیبت و جلال سے خاک میں مل جاتے ہیں آپ فرماتے ہیں: 

صفحہ 2 از 3