محترم قارئین! مصنفِ نام و نسب کے سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ پر بزعمِ خود وارد کردہ اعتراضات کا تارِ عنکبوت سے کمزور ہو چکا۔
پہنچا دیا با منزلِ مقصود مصحفی
چوبِ قلم سے میں خرِ مفتی کو ہانک ہانک
آخر میں مصنفِ نام و نسب کو حضرت ربیع بن نافعؒ کی وصیت و نصیحت سنانا چاہتا ہوں:
مُعَاوِیَۃُ بنُ أَبِی سُفیَانَ سِترٌ لِأَصحَابِ رَسُولِ اللّٰهﷺ، فَإِذَا کَشَفَ الرَّجُلُ السِّترَ اجتَرَأَ عَلَی مَا وَرَاءَہُ
(تاریخ بغداد للخطیب: جلد 1 صفحہ 223 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ اصحابِ محمدﷺ کا پردہ ہیں، جب کوئی شخص اس پردہ کو کھول دے گا تو اس کے پیچھے کے لوگوں پر اس کی جرأتیں بڑھ جائیں گی۔
جرأت کے اس بڑھنے کو مصنفِ نام و نسب کے ممدوح عالمِ دین و مفتی احمد یار خان گجراتی بریلویؒ (متوفی 1391ھ) نے یوں بیان کیا ہے:
آئیے ہم آپ کو اس بیماری والی جماعت کی آپس میں گفتگو سنائیں سنیے اور عبرت حاصل کیجیے چند حضرات آپس میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اس طرح گفتگو کر رہے ہیں:
پہلا شخص: یار سیدنا امیرِ معاویہؓ بڑے فاسق و ظالم تھے، اہلِ بیتِ اطہارؓ کے سخت دشمن تھے انہوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کا انکار کیا اور ان کی وجہ سے ہزارہا مسلمانوں کا خون بہا۔ مسلمان عورتیں بیوہ ہوئیں، مسلمان بچے یتیم ہوئے۔
حضرت علیؓ کو ستایا اور جس نے سیدنا علیؓ کو ستایا اس نے رسول اللہﷺ کو ستایا، اور جس نے رسول اللہﷺ کو ستایا اس نے رب کو دکھ دیا بھلا ایسا شخص کب سچا مسلمان ہو سکتا ہے؟ غضب ہے کہ لوگ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی پرہیزگار مانتے ہیں۔
دوسرا شخص: یار بات کہنے کی نہیں، چھوٹا منہ بڑی بات ہے اہلِ بیتؓ کو سب ہی نے جی بھر کر ستایا برسوں کے رضی اللہ عنہ نے ایسی حرکتیں کیں کہ توبہ بھلی۔ حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ (عشرہ مبشرہ والے) اور جنگِ جمل و صفین کے تمام وہ لوگ جو حضرت عائشہ صدیقہؓ یا سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھی تھے، سب ہی اہلِ بیتؓ کی عداوت سے بھرپور تھے سب ہی نے حضرت علیؓ کے خلاف نبرد آزمائی کی۔
تیسرا شخص: یار دل تو کہتا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ جیسے فاسق و فاجر کے ہاتھ پر سیدنا حسنؓ کو بھی بیعت نہ کرنی چاہیے تھی سیدنا حسنؓ نے بڑی بزدلی دکھائی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صرف صلح ہی نہیں کی بلکہ ان کے ہاتھ میں خلافت سے دستبردار ہو گئے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح مردِ میدان بن کر ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے تھا سیدنا حسینؓ پر جان قربان! کہ جان دے دی مگر ملعون یزید کی بیعت نہ کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کم از کم اپنے والدِ ماجد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہی سے سبق لینا چاہیے تھا کہ دین کی حمایت اور خلافت کی حفاظت میں کسی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہمت سے مقابلہ کیا سیدنا حسنؓ نے ایسا کیوں نہ کیا؟
چوتھا شخص: یار سیدنا حسنؓ کی صلح کے وقت سیدنا حسینؓ کو کیا ہو گیا تھا کہ وہ بھی خاموش رہے اور اپنے بھائی کو نہ سمجھایا، نہ ان سے قطعِ تعلق کیا یہاں ہی حضرت امیر معاویہؓ کی امارت کا قلع قمع کر دیا ہوتا تو کربلا کا واقعہ ہی پیش نہ آتا نہ معلوم سیدنا حسینؓ اس وقت کیوں خاموش رہے اور کربلا والی جرأت و ہمت سیدنا امیر معاویہؓ کے مقابلے میں کیوں نہ دکھائی یار گومگو کا معاملہ ہے، کیا کہیں، کیا نہ کہیں۔
پانچواں شخص: یار بات دور تک پہنچتی ہے، کہنے کی ہمت نہیں پڑتی ورنہ اگر غور کیا جائے تو بڑی غلطی حضرت علی المرتضیٰؓ سے ہو گئی کہ اتنا لڑ بھڑ کر پھر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور خلافت کے دو ٹکڑے ہو جانے پر راضی ہو گئے تمام مصیبتوں کی جڑ تو سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی یہ صلح ہے بڑی غلطی اس صلح سے ہوئی، ساری ذمہ داری حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ہے وہ اللہ کے شیر تھے، سیدنا امیرِ معاویہؓ کی امارت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہوتی تاکہ آئندہ یہ واقعات ہی رونما نہ ہوتے۔
چھٹا شخص:یار اگر سچی پوچھو تو ان تمام فتنوں کی جڑ حضرت عمرؓ نے قائم کی کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو اپنے زمانہ خلافت میں شام کا گورنر مقرر کر گئے اگر یہ گورنری سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نہ ملتی تو آئندہ ان کے دل میں خلیفہ بننے کا شوق نہ پیدا ہوتا ان تمام فتنوں کی جڑ سیدنا عمرؓ کی قائم کردہ گورنری ہے۔
ساتواں شخص: یار ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو غیب کا علم دیا ہے تو خود نبی اکرمﷺ ہی نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے دشمنِ اہلِ بیتؓ کو اپنی بارگاہ میں باریاب کیوں ہونے دیا، کہ انہیں اپنا کاتبِ وحی مقرر کیا؟ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بہن سیدہ اُمِّ حبیبہؓ سے نکاح کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا برادرِ نسبتی بننے کا موقع دیا، پھر ان کے فضائل بیان کر کے حضرت امیرِ معاویہؓ میں ہمت و جرأت پیدا کی۔ ضرور حضورِ اکرمﷺ سے بھی اس معاملے میں لغزش واقع ہوئی۔ حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کھانا، حضورِ اکرمﷺ کا حضرت امیرِ معاویہؓ کو باریاب کرنا، بڑی خرابیوں کا باعث ہوا۔ (نعوذ باللہ منہ)
آٹھواں شخص: یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن تو حضورِ اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف یوں کرتا ہے: اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ۔ وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر مہربان۔ مگر جب ان تمام جنگجو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تواریخ دیکھی جائے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے، لڑ بھڑ کر ہزاروں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ہیں یا تو قرآن کی آیت درست نہیں، کسی نے ملاوٹ کر دی ہے، اور یا تمام جنگِ جمل یا صفین والوں میں کوئی بھی صحابی نہیں ان کی لڑائیاں ہمارے اسلام پر ایک بدنما داغ ہیں۔
یہ ان لوگوں کی گفتگو ہے جو اپنے آپ کو صحیح العقیدہ، راسخ العقیدہ، سچا اور پکا مسلمان سمجھ کر سیدنا امیرِ معاویہؓ سے متنفر ہیں۔ غور کرو کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بغض کی بیماری کس طرح ایمان کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اگر اس میں زیادہ بحث کی جائے تو پھر نہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین طعن سے بچتے ہیں، نہ اہلِ بیتؓ، بلکہ پھر نہ رسول اللہﷺ کی عظمت دل میں رہتی ہے، نہ قرآنِ کریم کا وقار۔
(امیرِ معاویہؓ: صفحہ8، 11)
غلو و طغیان کی سرحد کے پار کھڑے لوگوں کے بارے میں مصنفِ نام و نسب خود یہ کہہ چکے ہیں:
افسوس کہ جب آنکھوں پر تعصب کی دبیز پٹی بندھی ہوئی ہو تو قرآن و سنت کو بھی کچھ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں جن کا یہ حال ہو ان کی نظر میں اللہ تعالیٰ و رسول اللہﷺ کی وقعت نہیں تو کسی اور سے ان کے سلوک کا اندازہ خود بخود لگایا جا سکتا ہے۔
(نام و نسب: صفحہ489)
لیکن کریم آقا کے کرم سے کیا بعید ہے اسی ذاتِ واحد پر امید رکھتے ہوئے ہم مصنف کو اس خودرائی و غیر مقلدیت سے توبہ کی تلقین کرتے ہیں اور اس کتاب نام و نسب کے نویں باب (جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی توہین و تنقیص پر مشتمل ہے) کو آئندہ ایڈیشن میں حذف کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ اکابرِ امت کی توہین و تذلیل، بے ادبی اور عیب جوئی ابتداءً سلبِ توفیق اور انتہاءً سلبِ ایمان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے پناہ میں رکھے۔ آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ) مصنف مرضِ ناصبیت کا تریاق ڈھونڈنے چلے تھے لیکن اکابر پر عدمِ اعتماد کی بدولت خود صحابیِ رسول اللہﷺ کی شان میں استخفاف بلکہ گستاخی کے مرتکب ہو گئے۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
ورنہ مصنف کے اپنے خاندانی بزرگ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے شیخِ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالویؒ (جنہیں مصنفِ نام و نسب نے عمدۃ الواصلین، شمس العارفین کے القاب سے یاد کیا ہے) حضرت علیؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ کے درمیان نزاع کو اجتہادی تصور کرتے ہیں نہ کہ عنادی
(مرآۃ العاشقین: صفحہ109)
اور ان کا کہنا ہے:
تا آنکہ در حق جمیع اصحابان اعتقاد درست ندارد ایمان اور کامل نباشد
(ایضاً)
ترجمہ: جب تک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں اعتقاد درست نہ ہو، ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔
اگر مصنف نام و نسب جمہور علماءِ اہلِ سنت اور خود اپنے بزرگوں کی باتوں کو بھی اپنے عمل سے صریح تردید بلکہ تکذیب کر دیں تو کیا اب بھی ہم انہیں فکری غیر مقلد نہ کہیں، جنہیں مسلکِ اہلِ سنت میں بھی پورے اعتدال و توازن کے بجائے کچھ توازن ملتا ہے؟
(نام و نسب: صفحہ544)
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کے ذمہ جو فرائضِ نبوت عائد کیے تھے، ان میں سے ایک اہم فریضہ نفوس کا تزکیہ و تصفیہ بھی تھا۔ جب سیدنا امیرِ معاویہؓ صحبتِ نبویﷺ کے شرف سے باریاب ہو کر بھی (بقول مصنفِ نام و نسب) کسی فضیلت کے حامل نہیں، وہ سیدنا علیؓ سے بغض و عناد رکھنے والے، خطائے منکر کا ارتکاب کرنے والے، بدعات کے بانی اور ان کو رواج دینے والے، اور نواسۂ رسول اللہﷺ کو زہر دے کر شہید کروانے والے ہیں۔ ان میں کوئی ایسا کمال نہیں جس سے امت پر ان کی سنت کا اتباع لازم ہو، اور ان میں بے شمار ایسی خرابیاں، نعوذ باللہ، موجود ہیں جنہیں بقول مصنفِ نام و نسب مستند تاریخی حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
(نام و نسب: صفحہ519)
سو ایسی برائیوں اور خرابیوں کے ہوتے ہوئے کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ پھر بارگاہِ نبوتﷺ میں باریابی اور صحبتِ نبویﷺ کی بدولت حضرت امیرِ معاویہؓ کا کیا تزکیہ ہوا؟ کیا مصنفِ موصوف زبانِ حال سے ایرانی لیڈر خمینی کے اس قول کی تصدیق نہیں کر رہے:
جو نبی بھی آئے وہ انصاف کے نفاذ کے لیے آئے ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام دنیا میں انصاف کا نفاذ کریں، لیکن وہ اپنے زمانے میں کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ خاتم المرسلینﷺ جو انسان کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور انصاف کا نفاذ کرنے کے لیے آئے تھے، انسان کی تربیت کے لیے آئے تھے، لیکن وہ اپنے زمانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
(اتحاد و یکجہتی امام خمینی کی نظر میں: صفحہ15 مطبوعہ خانہ فرہنگ ایران، ملتان)
ورنہ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا وہ ایمان افروز، وجد آفریں اور عشق و معرفتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ڈوبا ہوا بیان کس علم دوست اور صاحبِ تحقیق سے پوشیدہ ہو گا (جو بلاشبہ شیخ مجددؒ کے کمالاتِ وہبیہ اور مقامِ مجددانہ کا آئینہ دار ہے) جس میں آپ نے واقعہ قرطاس پر کلام کرتے ہوئے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے گئے تمام مطاعن کا اصولی جواب مرحمت فرمایا ہے جس کو ملحوظ رکھنے کے بعد اس سلسلے کی تمام تر بحثوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے اور معترضینِ صحابہؓ کی علمی حیثیت اور تحقیقی وقعت آشکار ہو جاتی ہے، اور ان مغبوضین کے سیاہ کیے ہوئے دفتر کے دفتر فاروقی ہیبت و جلال سے خاک میں مل جاتے ہیں آپ فرماتے ہیں:
حق تعالیٰ تم کو ہدایتِ دے اور سیدھے راستہ پر چلائے، تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ شبہ اور اس جیسے اور شبہات جن کو بعض لوگ حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر وارد کرتے ہیں اور ان شکوک و اعتراضات سے ان کو مجروح و مطعون کرنا چاہتے ہیں، اگر یہ کچھ انصاف سے کام لیں اور حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کی فضیلت و اہمیت کو قبول کر لیں اور جان لیں کہ حضورِ اکرمﷺ کی صحبت میں رہ کر ان کے نفوس ہوا و ہوس سے صاف اور ان کے سینے کینوں اور کدورتوں سے پاک ہو گئے تھے، اور سمجھ لیں کہ یہ وہ بزرگانِ دین اور عظمائے اسلام ہیں جنہوں نے دن اور رات، خفیہ اور اعلانیہ، غرض ہر وقت اور ہر طرح دینِ متین کی تائید و حمایت اور اعلاءِ کلمہ اسلام کے لیے اپنی تمام کوشیں و طاقتیں صرف کر دیں، اور حضورِ رسولِ مقبولﷺ کی محبت کی وجہ سے اپنے کنبے قبیلوں، اپنے بال بچوں اور اپنی چہیتی بیویوں کو چھوڑ دیا، اپنے عزیز وطنوں، اپنے آباد گھروں، اپنے چشموں اور کھیتوں، اپنے باغوں اور درختوں، اپنی نہروں کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کے نفسِ مقدس کو اپنے نفوس پر ترجیح دی اور حضورﷺ کی محبت کو اپنی اور اپنے اموال و اولاد کی محبت پر مقدم رکھا انہوں نے وحی کو اترتے اور فرشتوں کو آتے دیکھا۔ حضورِ اکرمﷺ کے معجزات اور آپﷺ کی روشن نشانیوں کا انہوں نے بہ چشمِ خود مشاہدہ کیا، یہاں تک کہ غیب ان کے حق میں شہادت بن گیا اور ان کا علم الیقین، عین الیقین سے بدل گیا وہی وہ خوش نصیب ہیں جن کی مدح و ثناء حق تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نازل فرمائی اور اعلان فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اور دوسری جگہ فرمایا: یہ حالِ سطور ہے ان کا توراۃ میں اور انجیل میں الخ پھر جب کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان خصائص و فضائل سے مشرف ہیں تو پھر خاص اکابرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یعنی حضراتِ خلفاءِ راشدینؓ کے متعلق کیا کہا جائے اور کہا جا سکتا ہے۔
پھر چند سطور کے بعد ارقام فرماتے ہیں:
اگر ان اعتراض کرنے والوں کی نظر میں کچھ انصاف ہو اور یہ حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کی عظمت کو مان لیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی اور عالی مرتبی کو جان لیں تو زیادہ بعید نہیں کہ یہ خود ہی اپنے ان شبہات کو ملمع شدہ اور مغالطوں اور سفسطوں کے رنگ میں دیکھنے لگیں اور ان کو درجہ اعتبار و اعتماد سے ساقط کر دیں، اگرچہ غلط فہمی کے منشاء کی تعیین نہ کر سکیں اور فریب و سفسطہ کے محل پر انگلی رکھ کر نہ بتا سکیں، لیکن کم از کم اجمالاً اس قدر ضرور سمجھ لیں گے کہ یہ شکوک و شبہات لا حاصل ہیں، بلکہ بہت سی بدیہی اور کھلی ہوئی حقیقتوں کے خلاف اور کتاب و سنت سے مردود و مطرود ہیں۔
(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر دوم، مکتوب 96)
اس تمہید کے بعد حضرت مجددؒ نے واقعہ قرطاس پر چند مقدمات قائم کرنے کے بعد مفصل کلام فرمایا ہے اور اس سے متعلق شیعوں کے مشہور اعتراض کا تفصیلی جواب دیا ہے، اور گویا اس کے مقدمات کی تحلیل کر کے انگلی رکھ رکھ کے بھی بتلا دیا ہے کہاں کہاں اس میں فریب دیا جاتا ہے پھر اس کے بعد پھر اسی اصولی رنگ میں فرماتے ہیں:
فقیر کے نزدیک ان شکوک و شبہات کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی چالاک اور پُرفن شخص بے وقوفوں کی کسی جماعت کے پاس پہنچا اور ایک پتھر کو جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنے پر فریب دلائل اور ملمع شدہ مقدمات سے سونا ثابت کرے، اور یہ بیچارے اس کے پر تزویر دلائل کے جواب سے عاجز ہونے اور تعین و تشخیص کے ساتھ اس کی غلطی نہ پکڑ سکنے کی وجہ سے خود شبہ میں پڑ جائیں، بلکہ اپنے مشاہدے کے خلاف اس کو سونا یقین کرنے لگیں اور اپنے احساس و ادراک کو ناقابلِ اعتماد سمجھ کر پسِ پشت ڈال دیں لیکن عقل مند اور ہوشیار آدمی کا کام یہ ہے کہ ایسے موقع پر اپنے حس اور اپنے ادراک کی ہدایت پر اعتماد کرے اور ملمع شدہ وہمی مقدمات کو ناقابلِ اعتناء سمجھے بالکل یہی حال مسئلہ زیرِ بحث کا ہے کہ حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی اور عالی مرتبی قرآن و حدیث کی رو سے جانی بوجھی بلکہ گویا آنکھوں دیکھی حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، لیکن یہ ناحق کوش جماعت اپنے ملمع شدہ دلائل سے ان پر طعن و قدح کرتی ہے۔ پس ان کی وہ جرح و قدح بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہ کوئی عیار اپنے ہاتھ کے پتھر کے ٹکڑے کو سونا ثابت کرنے کی کوشش کرے اور منطقی دلائل سے سیدھے لوگوں کو بے وقوف بنائے۔
(ایضاً)