تازیانہ عبرت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تازیانہ عبرت

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 3

محترم قارئین! مصنفِ نام و نسب کے سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ پر بزعمِ خود وارد کردہ اعتراضات کا تارِ عنکبوت سے کمزور ہو چکا۔  

پہنچا دیا با منزلِ مقصود مصحفی 

چوبِ قلم سے میں خرِ مفتی کو ہانک ہانک

آخر میں مصنفِ نام و نسب کو حضرت ربیع بن نافعؒ کی وصیت و نصیحت سنانا چاہتا ہوں:  

مُعَاوِیَۃُ بنُ أَبِی سُفیَانَ سِترٌ لِأَصحَابِ رَسُولِ اللّٰهﷺ، فَإِذَا کَشَفَ الرَّجُلُ السِّترَ اجتَرَأَ عَلَی مَا وَرَاءَہُ

(تاریخ بغداد للخطیب: جلد 1 صفحہ 223 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)

ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ اصحابِ محمدﷺ کا پردہ ہیں، جب کوئی شخص اس پردہ کو کھول دے گا تو اس کے پیچھے کے لوگوں پر اس کی جرأتیں بڑھ جائیں گی۔

جرأت کے اس بڑھنے کو مصنفِ نام و نسب کے ممدوح عالمِ دین و مفتی احمد یار خان گجراتی بریلویؒ (متوفی 1391ھ) نے یوں بیان کیا ہے: 

آئیے ہم آپ کو اس بیماری والی جماعت کی آپس میں گفتگو سنائیں سنیے اور عبرت حاصل کیجیے چند حضرات آپس میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اس طرح گفتگو کر رہے ہیں:

پہلا شخص: یار سیدنا امیرِ معاویہؓ بڑے فاسق و ظالم تھے، اہلِ بیتِ اطہارؓ کے سخت دشمن تھے انہوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کا انکار کیا اور ان کی وجہ سے ہزارہا مسلمانوں کا خون بہا۔ مسلمان عورتیں بیوہ ہوئیں، مسلمان بچے یتیم ہوئے۔ 

حضرت علیؓ کو ستایا اور جس نے سیدنا علیؓ کو ستایا اس نے رسول اللہﷺ کو ستایا، اور جس نے رسول اللہﷺ کو ستایا اس نے رب کو دکھ دیا بھلا ایسا شخص کب سچا مسلمان ہو سکتا ہے؟ غضب ہے کہ لوگ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی پرہیزگار مانتے ہیں۔

دوسرا شخص: یار بات کہنے کی نہیں، چھوٹا منہ بڑی بات ہے اہلِ بیتؓ کو سب ہی نے جی بھر کر ستایا برسوں کے رضی اللہ عنہ نے ایسی حرکتیں کیں کہ توبہ بھلی۔ حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ (عشرہ مبشرہ والے) اور جنگِ جمل و صفین کے تمام وہ لوگ جو حضرت عائشہ صدیقہؓ یا سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھی تھے، سب ہی اہلِ بیتؓ کی عداوت سے بھرپور تھے سب ہی نے حضرت علیؓ کے خلاف نبرد آزمائی کی۔

تیسرا شخص: یار دل تو کہتا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ جیسے فاسق و فاجر کے ہاتھ پر سیدنا حسنؓ کو بھی بیعت نہ کرنی چاہیے تھی سیدنا حسنؓ نے بڑی بزدلی دکھائی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صرف صلح ہی نہیں کی بلکہ ان کے ہاتھ میں خلافت سے دستبردار ہو گئے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح مردِ میدان بن کر ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے تھا سیدنا حسینؓ پر جان قربان! کہ جان دے دی مگر ملعون یزید کی بیعت نہ کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کم از کم اپنے والدِ ماجد سیدنا علی المرتضیٰؓ ہی سے سبق لینا چاہیے تھا کہ دین کی حمایت اور خلافت کی حفاظت میں کسی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہمت سے مقابلہ کیا سیدنا حسنؓ نے ایسا کیوں نہ کیا؟

چوتھا شخص: یار سیدنا حسنؓ کی صلح کے وقت سیدنا حسینؓ کو کیا ہو گیا تھا کہ وہ بھی خاموش رہے اور اپنے بھائی کو نہ سمجھایا، نہ ان سے قطعِ تعلق کیا یہاں ہی حضرت امیر معاویہؓ کی امارت کا قلع قمع کر دیا ہوتا تو کربلا کا واقعہ ہی پیش نہ آتا نہ معلوم سیدنا حسینؓ اس وقت کیوں خاموش رہے اور کربلا والی جرأت و ہمت سیدنا امیر معاویہؓ کے مقابلے میں کیوں نہ دکھائی یار گومگو کا معاملہ ہے، کیا کہیں، کیا نہ کہیں۔

پانچواں شخص: یار بات دور تک پہنچتی ہے، کہنے کی ہمت نہیں پڑتی ورنہ اگر غور کیا جائے تو بڑی غلطی حضرت علی المرتضیٰؓ سے ہو گئی کہ اتنا لڑ بھڑ کر پھر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور خلافت کے دو ٹکڑے ہو جانے پر راضی ہو گئے تمام مصیبتوں کی جڑ تو سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی یہ صلح ہے بڑی غلطی اس صلح سے ہوئی، ساری ذمہ داری حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ہے وہ اللہ کے شیر تھے، سیدنا امیرِ معاویہؓ کی امارت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہوتی تاکہ آئندہ یہ واقعات ہی رونما نہ ہوتے۔

چھٹا شخص:یار اگر سچی پوچھو تو ان تمام فتنوں کی جڑ حضرت عمرؓ نے قائم کی کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو اپنے زمانہ خلافت میں شام کا گورنر مقرر کر گئے اگر یہ گورنری سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نہ ملتی تو آئندہ ان کے دل میں خلیفہ بننے کا شوق نہ پیدا ہوتا ان تمام فتنوں کی جڑ سیدنا عمرؓ کی قائم کردہ گورنری ہے۔

ساتواں شخص: یار ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو غیب کا علم دیا ہے تو خود نبی اکرمﷺ ہی نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے دشمنِ اہلِ بیتؓ کو اپنی بارگاہ میں باریاب کیوں ہونے دیا، کہ انہیں اپنا کاتبِ وحی مقرر کیا؟ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بہن سیدہ اُمِّ حبیبہؓ سے نکاح کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا برادرِ نسبتی بننے کا موقع دیا، پھر ان کے فضائل بیان کر کے حضرت امیرِ معاویہؓ میں ہمت و جرأت پیدا کی۔ ضرور حضورِ اکرمﷺ سے بھی اس معاملے میں لغزش واقع ہوئی۔ حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کھانا، حضورِ اکرمﷺ کا حضرت امیرِ معاویہؓ کو باریاب کرنا، بڑی خرابیوں کا باعث ہوا۔ (نعوذ باللہ منہ)

آٹھواں شخص: یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن تو حضورِ اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف یوں کرتا ہے: اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ۔ وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر مہربان۔ مگر جب ان تمام جنگجو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تواریخ دیکھی جائے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے، لڑ بھڑ کر ہزاروں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ہیں یا تو قرآن کی آیت درست نہیں، کسی نے ملاوٹ کر دی ہے، اور یا تمام جنگِ جمل یا صفین والوں میں کوئی بھی صحابی نہیں ان کی لڑائیاں ہمارے اسلام پر ایک بدنما داغ ہیں۔ 

صفحہ 1 از 3