ڈاکٹر عبد الرحمٰن عیسیٰ: (استاذ جامعۃ امام محمد بن سعود) -…

ڈاکٹر عبد الرحمٰن عیسیٰ: (استاذ جامعۃ امام محمد بن سعود)

  محمد ظفر اقبال

16: ڈاکٹر عبد الرحمٰن عیسیٰ: (استاذ جامعۃ امام محمد بن سعود)

آپ نے ایک کتاب کتاب الوحی کے نام سے تالیف فرمائی ہے، اس میں کاتبینِ وحی کے دو گروہ ذکر کیے ہیں:  

وَھم کُتَّابُ التَّنزِیلِ الحَکِیمِ وَغَیرِہِ وَھم سُنَّتُه مُعَاوِیَۃُ بنُ أَبِی سُفیَانَ یَکتُبُ فِی التَّنزِیلِ الحَکِیمِ وَ فِیمَا بَینَ النَّبِیِّﷺ وَبَینَ العَرَبِ وَ کَانَ ھوَ مُعَاوِیَۃُ وَ زَیدُ بنُ ثَابِتٍ مُلَازِمَینِ لِلكِتَابَۃِ بَینَ یَدَی رَسُولِ اللّٰهﷺ فِی الوَحیِ وَغَیرِہِ، لَا عَمَلَ لَھمَا غَیرُ ذٰلِکَ 

(کتاب الوحی: صفحہ66)  

ترجمہ: کاتبِ وحی و غیرِ وحی سات ہیں حضرت امیرِ معاویہؓ کتابتِ وحی اور ان تحریرات کو لکھا کرتے تھے جو آنحضرتﷺ اور اہلِ عرب کے درمیان ہوتی تھیں سیدنا امیرِ معاویہؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ نہایت پابندی کے ساتھ آنحضرتﷺ کے سامنے وحی کی کتابت کیا کرتے تھے، اس کے علاوہ ان کا کوئی کام نہ تھا۔