سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26) - سنی…

سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4

 5358 - ح۔- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِى بَكْرٍ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جِئْتُمَانِى وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ ، ۔۔۔۔۔۔۔ . أطرافه 2904 ، 3094 ، 4033 ، 4885 ، 5357 ، 6728 ، 7305 تحفة 5135 ،

 صحيح البخارى  : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358  ۔۔كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305

مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

بخاری  کی روایت میں قابل توجہ نکتہ: امام بخاری نے فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، کی تعبیر کو مناسب نہیں سمجھ کر اس کی جگہ پر کذا کذا    لایا ہے ۔ایک تو یہ امام بخاری یا راوی کی خیانت علمی ہے   لیکن پھر بھی بعد  کے جملے سے واضح ہے کہ یہاں بھی وہی مسلم والے الفاظ ہی مراد ہیں؛ کیونکہ کذا کذا کے بعد خلیفہ دوم، خلیفہ اول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ لہذا کاذبا  کے مقابلے میں صداقت کی گواہی دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں بھی وہی الفاظ مراد ہیں۔

3    تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ  

  تم دونوں نے ابوبکر کو ظالم اور فاجر  سمجھا

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (5/ 470): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ   9772

 صحيح ابن حبان (14/ 575): 60 - كتاب التاريخ   8 - باب مرض النبي صلى الله عليه و سلم 6608ح

مسند أبي عوانة (4/ 247):  مبتدأ كتاب الجهاد 18 باب الأخبار الدالة۔

4    فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا۔۔

تم دونوں نے ابوبکر کو اور پھر مجھے خائن اور فاجر سمجھا ۔۔۔

فَجِئْتَ يَا عَبَّاسُ تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجِئْتَ يَا عَلِيُّ تَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ مِنْ أَبِيهَا، فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ [ص:209] لَقَدْ كَانَ بَرًّا مُطِيعًا تَابِعًا لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبَضْتُهَا، فَجِئْتُمَانِي، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ يَا عَبَّاسُ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَتَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ يَا عَلِيُّ مِنْ أَبِيهَا، وَزَعَمْتُمَا أَنِّي فِيهَا غَادِرٌ فَاجِرٌ،

تاريخ المدينة لابن شبة (1/ 204): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔۔۔

 5   وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ۔۔۔۔   تم دونوں نے ابوبکر کو اور پھر مجھے  ظالم سمجھا

 13105 ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ وَلِيتُهَا بَعْدَ أَبِى بَكْرٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِى فَفَعَلْتُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّى فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّى ۔۔۔۔۔

السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ۔۔  ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔۔ 13105

 آپ سے بار بار ایک سوال پوچھا کیونکہ آپ کو پتہ تھا اس سوال کا جواب دینا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے لہذا میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے ٹال مٹول کرتا رہا   اور یہ بتانے کی کوشش کی میں آپ کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکا ہوں ۔ جناب پی ڈی ایف میں تیار کرتا ہوں آپ کو تحفہ میں دوں گا وہاں دیکھنا ۔

 آخری نتیجہ۔ حق زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں مناظرہ کرنے والوں کو اب یہ جاننا چاہئے کہ وہ اس معاملے میں شیعوں کے مقابلے میں کھڑے نہیں ہیں بلکہ وہ جنت کی  عورتوں کی سردار اور جناب امیر المومین ع    کو خطا کار کہنے اور خلفاء کو اہل حق بتانے کی کوشش میں ہوتے ہیں ۔ اب جب الحمد للہ یہ نتیجہ ممتاز صاحب کے سامنے آیا اور اس سلسلے میں شیعوں کے خلاف کیے جانے والے سارے پروپیگنڈوں کا پردہ چاک ہوا تو ممتاز صاحب آدھا گھنٹے کے لئے بھی صبر نہیں کرسکا ۔ ویسے تو پہلے سے معلوم ہوچکا تھا کہ ممتاز صاحب جمعہ تک کی چھٹی کی درخواست دے کر کچھ کرنا ہی چاہتا تھا لیکن یہ بہانہ انہیں قبل از وقت انہیں مل گیا ۔

 شیعہ مناظرین سے گزارش ۔ آپ نے اگر حق زہرا ع کے بارے  میں مناظرہ کرنا ہے تو سب سے پہلے مخالف کو اس کا اصلی مقام دکھادیں کہ وہ کس کی وکالت کر رہا ہے ۔ نقاب سے جب پردہ ہٹ جائے تو یہی ہماری کامیابی ہے ۔  اللہ حافظ دوستو   ۔ اہل سنت کے دوستوں سے خصوصی معذرت ۔میں نے شروع میں کہا تھا کہ خلفاء کی شان میں گستاخی کرنا میرا مقصد نہیں ہے بلکہ شیعہ موقف کی وضاحت اور بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مظلومیت سے دفاع میرا مقصد ہے ۔ معذرت ۔اللہ حافظ ۔ 

 سنی مناظر:   

1۔  سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک بطور میراث   اہل تشیع مؤقف کہاں ہے؟

 جواب:اہل تشیع قبول کرتے ہیں کہ کچھ حصہ طلب کیا۔

سوال: کیا سیدہ فاطمہ کو آیات میراث کا علم تھا؟ اگر ہاں تو پورا فدک ان کو ورثے میں کیسے دیا جاتا؟

جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ 2 از 4